Ganna Sehat Ka Khazana - Article No. 2166

گنا صحت کا خزانہ - تحریر نمبر 2166

جمعرات جون

Ganna Sehat Ka Khazana - Article No. 2166
صغیرہ بانو شیریں
اللہ تعالیٰ نے گنے میں بے شمار فوائد رکھے ہیں۔گرمی کے موسم میں جب دل ڈوبنے لگے،دھڑکن کم یا زیادہ ہو جائے تو ایسے میں گنا بہت کام آتا ہے۔ہماری ایک عزیزہ شیشے کی پلیٹ میں گنڈیریاں رکھ کر اُن پر گلاب کا عرق چھڑک کر رات کو اوس میں یہ پلیٹ رکھوا دیتیں۔ پھر صبح نہار منہ وہ گنڈیریاں چوستیں۔ان گنڈیریوں سے انھیں بہت فائدہ ہوتا۔

گنڈیریاں چوسنے سے بیماری کی وجہ سے ہونے والا چڑچڑاپن اور غصہ بھی دُور ہو جاتا ہے۔میں نے خود چند ایسے افراد دیکھے،جن کے جسم پر چھوٹے چھوٹے مٹر جتنے اُبھار اور گومڑ تھے۔ان اُبھار اور گومڑوں کی وجہ سے ان کا جسم بڑا بدنما لگتا تھا۔ان کو جب ہلیلہ زرد کا تین گرام سفوف ایک گلاس تازہ گنے کے رس کے ساتھ ملا کر کھلایا گیا تو وہ ہفتے دس دن میں بالکل ٹھیک ہو گئے۔

(جاری ہے)

اس بے ضرر علاج سے نہ صرف ان کی صحت بحال ہو گئی،بلکہ ان کے چہروں پر رونق آگئی اور پژمردگی غائب ہو گئی۔
امراض قلب کے وارڈ میں ایک ملنے والے داخل تھے۔ایک دن میں ان کی عیادت کے لئے گئی۔اُن کا بُرا حال تھا،نقاہت کے مارے ان سے بولا بھی نہیں جاتا تھا۔میں نے وارڈ میں موجود ڈاکٹر سے پوچھا کہ کیا میں انھیں گنے کا رس پلا سکتی ہوں؟اثبات میں جواب پا کر میں فوراً گنے کا رس لائی اور چمچہ چمچہ انھیں پلایا۔

وہ پانچ دس منٹ میں بات کرنے کے قابل ہو گئے اور کہنے لگے کہ مجھے تھوڑا سا رس اور لادو،میں اپنے اندر توانائی محسوس کر رہا ہوں۔دو تین روز میں وہ ہسپتال سے گھر آگئے اور باقاعدگی سے گنڈیریاں چوسنے لگے۔
دیہات میں کسی کا گلا بیٹھ جائے اور آواز نہ نکلے تو وہاں کے لوگ گنے کا ایک ٹکڑا گرم گرم راکھ میں دبا دیتے ہیں اور دس منٹ بعد نکال کر چھیل کر متاثرہ فرد کو چسواتے ہیں۔

تھوڑی دیر میں اس کی آواز کھل جاتی ہے۔جن افراد کو بھوک نہ لگتی ہو،ڈکار نہ آتی ہو،وہ اگر کھانے کے بعد پانچ سات گنڈیریاں چوس لیں تو صاف ڈکار آکر طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔گنڈیریاں چوسنے سے مسوڑوں کی ورزش بھی ہو جاتی ہے۔جن لڑکے لڑکیوں کے جسم میں حدت ہو،ہاتھ پاؤں جلتے ہوں،کام کاج کرنے کو دل نہ چاہتا ہو،مزاج میں بے چینی اور غصہ ہو،ہر وقت لڑنے مرنے کو تیار ہوں،وہ اگر ڈیڑھ پاؤ گنڈیریاں صبح و شام چند دن چوس لیں تو یہ ساری منفی کیفیات ختم ہو جائیں گی۔

اُن کا دل پڑھائی میں لگے گا اور جگر کی گرمی بھی دُور ہو جائے گی۔
جو خواتین نازک طبع ہوں،گرمی برداشت نہ کر پاتی ہوں،سر چکراتا ہو اور وہ کوئی کام نہ کر سکتی ہوں،بھوک نہ لگتی ہو،وہ بھی اگر گنڈیریاں چوسنا شروع کر دیں تو ان کی ساری تکالیف ہفتے ڈیڑھ ہفتے میں ختم ہو جائیں گی۔آدھا کلو گنے کے رس میں دو چھوٹی چپاتیوں جتنی غذائیت ہوتی ہے۔


یرقان کے لئے آج سے نہیں،بلکہ سالہا سال سے گنے کا رس تجویز کیا جا رہا ہے۔اس سے یرقان کے مرض کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گنے کے رس سے قبض کی پرانی سے پرانی شکایت دور ہو جاتی ہے اور پیشاب کھل کر آتا ہے۔اگر کسی کے پیٹ میں خرابی ہو،اسہال میں خون آنا شروع ہو جائے تو انار کے 20 گرام رس میں گنے کا ایک گلاس رس ملا کر ایک گھنٹے بعد پلایا جائے تو آرام آجاتا ہے۔

جگر کے مریض اگر ایک گلاس گنے کا رس روزانہ پییں تو بہت فائدہ ہوتا ہے اور اگر وہ روزانہ گنڈیریاں چوسیں تو جلد فائدہ ہوتا ہے۔ گنے میں فولاد، کیلسیئم اور مینگنیز کے علاوہ حیاتین ب اور ج (وٹامنز بی اور سی) بھی ہوتی ہیں۔گنا قلب کو تقویت دیتا اور جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ بادی اور بلغمی مزاج والے افراد گنا کھانے سے پرہیز کریں۔اسی طرح گنا بوڑھے لوگوں کے پھیپڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے،اس لئے انھیں زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔


گنے سے راب (گڑ بناتے وقت جو پتلا شیرہ بچ جاتا ہے،اسے راب کہتے ہیں) بنائی جاتی ہے۔یہ جسمانی و اعصابی تھکن اور کمر و جوڑوں کا درد دور کرتی ہے۔اس سے خون صاف ہوتا ہے،لہٰذا ایکزیما،گومڑ اور پھوڑے پھنسیاں ختم ہو جاتی ہیں۔یہ فائدے اس میں موجود پوٹاشیئم کی کافی مقدار کی وجہ سے ہوتے ہیں۔پنڈلیوں کی پھولی ہوئی وریدیں (Varicose Veins) چند ہفتے راب پینے سے غائب ہو جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ جوڑوں کا پرانا درد بھی ختم ہو جاتا ہے۔سوزش جلد کے مریضوں کو راب کھلانے کے ساتھ ساتھ راب میں پانی ملا کر اس سے متاثرہ حصہ دھونے سے بھی کافی فائدہ ہوتا ہے۔جن افراد کا دل کمزور ہو،اُن کے لئے راب ایک ٹانک ثابت ہوتی ہے۔تازہ گنا دل کو فوری طاقت دیتا ہے۔جو افراد گنا چوستے ہیں،اُن کے دانت خراب نہیں ہوتے۔راب سیاہ رنگ کا گاڑھا سیا ل ہوتا ہے،جس میں فولاد اور کیلسیئم ہوتے ہیں،اس لئے اسے پینے سے خون کی کمی بھی دور ہو جاتی ہے۔


گنے کا رس پیا اور زیادہ تر شکر بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ بخار کی شدت کو کم کرتا ہے اور معدے،دل،گردوں،آنکھوں،دماغ اور تولیدی اعضا کو تقویت دیتا ہے۔قلت پیشاب میں بھی گنے کا رس مفید ہے۔یہ وزن میں اضافہ کرتا ہے۔قدرت نے گنے میں شفا بخش اثرات رکھے ہیں،آپ اسے معمولی نہ جانیے،اس سے خوب فائدہ اٹھائیے،البتہ ذیابیطس کے مریضوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-03

Your Thoughts and Comments