Ghaaza Se Ghazayat Kaise Hasil Ki Jaye

غذاسے غذائیت کیسے حاصل کی جائے؟

Ghaaza Se Ghazayat Kaise Hasil Ki Jaye
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ”جیسا کھاؤ گے ویسے ہی نظر آؤگے۔“نظام ہضم سے متعلق مسائل دنیا کے تقریباً ہر خطے میں عام ہیں۔ہر ملک میں غذا کی تیاری کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ،جس سے غذا کی غذائیت میں نمایاں فرق واقع ہوتاہے۔غذائی ماہرین کی جانب سے کیے گئے تجربات ومشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہمارے ہاں بعض ایسی غذائیں ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر تیار کی جاتی ہیں۔

جوصحت کے لیے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ غذا اور غذائیت کے حوالے سے دور جدید کی تحقیقات ہمیں کیا معلومات فراہم کرتی ہیں۔
حیوانی پروٹین کے ساتھ نشاستہ مضر صحت ہے:
گوشت کے ساتھ سبزیاں شامل کرنا ہمارے ہاں لوگوں کا مرغوب سالن ہے لیکن ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ حیوانی پروٹین یعنی گوشت کے ساتھ ایسی سبزیوں کی شمولیت صحت کے لیے مفید نہیں ہے جس میں کثیر مقدار میں نشاستہ موجود ہوتا ہے،اس لیے گوشت اور سبزیوں کے پکوان الگ وقت میں استعمال کیے جانے چاہئیں کیونکہ جسم پروٹین کو جزو خون بنانے کے لیے مختلف انزائمز استعمال کرتا ہے جو اناج اور نشاستہ توڑنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ،اس لیے جب دونوں کو ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تو پیٹ بے آرامی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور نظام ہاضمہ سے متعلق مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں،اس لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سبزیوں اور گوشت کے پکوان الگ تیار کیے جائیں تو جسم زیادہ صحت مند اور چاق وچوبند محسوس کرتاہے۔

(جاری ہے)


کھانے کے دوران پانی پینا مناسب نہیں:
کھانے کے دوران پانی پینے سے جسمانی وزن بڑھنے لگتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کھانا چبا نا شروع کرتے ہیں تو یہ عمل دماغ کو کھانے کی آمد کا پیغام دیتا ہے لیکن جب پانی بھی ساتھ ہی پیٹ میں داخل کر دیا جاتا ہے تو نظام ہاضمہ کنفیوز ہو جاتا ہے اور اس سے غذا حقیقی معنوں میں جزو جسم نہیں بن پاتی۔


ڈبل روٹی اور مکھن کے اثرات:
دنیا بھر میں اناج کے ساتھ ڈیری مصنوعات شوق سے استعمال کی جاتی ہے۔ڈبل روٹی کے ساتھ مکھن کھانے میں تو نہایت لذیذ محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت نظام ہضم اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ ان تمام صحت بخش غذاؤں کو بیک وقت ہضم کر سکے،یہی وجہ ہے کہ مشاہدے میں رکھے گئے بیشتر پیٹ میں درد کے مریضوں میں یہی غذائی عادت موجود تھیں کہ تقریباً تمام مریض ڈبل روٹی ،بالائی ،مکھن ایک ہی وقت میں استعمال کرتے رہے ،جس سے انہیں بے چینی محسوس ہوتی ہے اور طبیعت کی گرانی کے باعث دن بھر سستی محسوس کرتے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصاً ادھیڑ عمر خواتین و حضرات کو ان غذائی اشیاء کے بیک وقت استعمال سے احتیاط کرنا چاہیے۔
خون میں چکنائی کو زیادتی ! نئی تحقیق کیا کہتی ہے:
ایک ریسرچ کے مطابق دودھ اور کم چکنائی کی حامل دہی میں موجود کیلشیم وزن میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ریسرچ گروپ میں شامل ماہرین کا موقف ہے کہ ان غذاؤں کے استعمال سے جسم میں کولیسٹرول پیدا کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیش آتی ہے اس درجے میں ہارمون خلیات کو پیغام دیتے ہیں ۔


سبزی کے سوپ:
ماہرین کا حالیہ تحقیقات کے مطابق ڈیری مصنوعات کے برعکس سبزیوں کے سوپ بہترین غذا ہے جنہیں ہر موسم میں استعمال کیا جانا چاہیے پنسلوانیا میں وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سبزیوں سے تیار کیے گئے سوپ بڑھتے وزن میں کمی لانے کا سبب بنتے ہیں ۔اس حوالے سے ایک فرانسیسی غذائی ماہر کہتے ہیں کہ سبزیوں میں پانی کی وافر مقدار جسم میں فاضل چربی بننے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں اور نظام ہضم میں بہتری پیدا ہوتی ہے ۔


سرخ مرچ ، جوڑوں کے درد میں مفید :
مرچ ہمیشہ پکوان کو ذائقہ دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔ماہرین کی تحقیقات کے مطابق مرچ ایک سود مند سبزی ہے،مرچ کی گرمی سانس کے عمل کو تیز کرتی ہے ،اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے وقتی طور پر میٹا بولزم میں بھی تیزی آسکتی ہے ۔مرچ،نظام ہضم کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

اس حوالے سے سرخ مرچ زیادہ مفید پائی گئی۔جدید طرز پر کیے گئے مشاہدے میں آیا کہ سرخ مرچ جوڑوں کے درد میں بھی مفید ہے۔
کاربونیٹڈ مشروبات مضر صحت :
کاربونیٹڈمشروبات سے پیٹ پھولتا ہے ،یہ مشروبات بہت شوق سے استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ان میں شامل اجزاء جگر ،گردے اور پتے کے افعال پر مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس لیے پانی کے علاوہ پھلوں کے جوس،سبز چائے اور گھر پر تیار کیے گئے مشروبات مناسب ہیں۔


گریپ فروٹ :
گریپ فروٹ میں ایسے مرکبات شامل ہیں جو جسم میں انسولین کی مقدار کو بر قرار رکھنے میں مدد گار ہوتے ہیں ،ہر کھانے سے قبل گریپ فروٹ کھانے سے مضر صحت چکنائی میں اضافہ نہیں ہو پاتا اور خون میں فاضل چربیلے مادے پیدا نہیں ہوتے۔ماہرین ہر صبح کا آغاز گریپ فروٹ سے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔خصوصاً معمر افراد کے لیے ان کا بلاناغہ استعمال مفید ہے۔


پھل کھانے سے پہلے کھائیں یا بعد میں :
عموماً پھل کھانے کے فوراً بعد استعمال کیے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے یہ پھل ان بہت سی دیگر غذاؤں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں جو ہمارے معدے میں ہوتی ہیں ،ا س وجہ سے پھلوں کے ہضم ہونے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے ۔کھانے کے ایک گھنٹہ بعد تک مزید کسی قسم کی غذا لینا درست نہیں ،پھل شام یا صبح کے اوقات میں استعمال کیے جاسکتے ہیں ،یہ بھوک مٹاتے ہیں اور جسم کی فوری توانائی بحال کرنے کا صحت بخش ذریعہ بھی ہیں۔


دماغ کی غذا اومیگا تھری:
دماغ کی ساخت میں ساٹھ فیصد چکنائی موجود ہوتی ہے چنانچہ دماغ کو بھر پور کا روائی کے لیے اومیگا تھری کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ غذائی اجزاء خلیات کی جھلیوں کو تعمیر کرنے اور دماغ میں موجود کیمیکل سیروٹین کی مقدار بڑھانے میں مدد گار ہے ۔اسے دماغ کی ”کھاد“قرار دیا گیا ہے ۔د ماغ کے جن خلیات کو اومیگا تھری مل جائے وہ زیادہ زرخیز اور فعال ہوجا تے ہیں ۔

اومیگا تھری اخروٹ ،السی کے بیج ،کنولاآئل ،ہرے پتوں کی سبزیوں،مچھلی اور دیگر نوعیت کے سی فوڈ میں پایاجاتاہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یومیہ اومیگا تھری کی کچھ مقدار استعمال کرنے سے عمر کو طوالت حاصل ہوتی ہے ۔یہ تیل مچھلی کے جگر میں بکثرت پیدا ہوتا ہے،مچھلی کھانے والے افراد کی آنکھیں ،دماغ اور ہڈیاں جواں اور صحت مند رہتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-23

Your Thoughts and Comments