Ghaza Or Ghaziat

غذا اور غذائیت

Ghaza Or Ghaziat
غذا اور غذائیت
صحت اور زندگی کے لیے غذا ایک نہایت ضروری چیز ہے اور ہر وہ چیز جو ایک جاندار کھاتا یا پیتا ہے غذا کہلاتی ہے یعنی سبزیاں پھل،گوشت،اناج دودھ اور دوسری وہ تمام چیزیں جنہیں ایک انسان کھاتا پیتا ہے سب غذائیں کہلاتی ہے چنانچہ دیکھا جائے تو انسانی جسم اپنی بناوٹ اور اپنی کارکردگی کے لحاظ سے ایک مشین کی مانند ہے جس طرح ایک مشین کے درست طور پر کام کرنے کے ضروری ہے کہ اس کے پرزے اچھی حالت میں ہوں اور اسے ضروری ایندھن وغیرہ باقاعدگی سے ملتا رہے اسی طرح انسان کی صحت اور اس کے جسم کی درست کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے غذا باقاعدگی سے ملتی رہے کیونکہ غذا سے جسم کی پرورش ہوتی ہے اس میں طاقت آتی ہے اور وہ گرم رہتا ہے اگر کسی مشین کو بروقت اس کی ضرورت کا ایندھن نہ ملے تو وہ ناکارہ ہوجاتی ہے اسی طرح اگر انسانی جسم کو اس کی مطلوبہ غذا نہ ملے تو اس میں ناتوانی پیدا ہوجاتی ہے ایسی حالت میں جسم ہمیں بھوک اور پیاس کی صورت میں اطلاع دینا شروع کردیتا ہے بھوک اور پیاس کیا ہے اس کے بارے میں ہر انسان اچھی طرح واقف ہے بھوک،پیاس اور غذا کے بارے میں نئی سائنسی معلومات فراہم کی جارہی ہے تاکہ غذا اور غذائیت کے سلسلے میں یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ انسان کی زندگی اور صحت کا تعلق متوازن غذا اس کے انتخاب اور اس کے درست استعمال سے ہے کیونکہ ایک مقولے کے مطابق اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ آپ کس قدر کھاتے ہیں اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ آپ کیا کھاتے ہیں۔

(جاری ہے)


بھوک: سب سے پہلے بھوک کے بارے میں سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک بھوک کی حقیقت کونہ سمجھا جائے غذا اور غذائیت کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہے ہر انسان بھوک کے احساس سے اچھی طرح آشنا ہے طبی نقطہ نظر سے جب کسی شخص کو بھوک لگتی ہے تو اس کے معدے کے عضلات میں سکڑاؤ کی حرکت ہونے لگتی ہے بدن میں نقاہت اور بے چینی سی پیدا ہوتی ہے اس نقاہت اور بے چینی کی کیفیت کو عارضی طور پر پانی پینے یاپیٹ پر کپڑا باندھنے سے روکا جاسکتاہے لیکن جب تک کچھ کھایا نہیں جائے گا معدے کے عضلات کا سکڑاؤ کم نہ ہوگا۔

اب بھوک میں کمی بیشی کی بھی ایک صورت ہے اور اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ انسان کی غذا کس قسم کی ہے کیونکہ غذا کی نوعیت اور اس کے اردگرد وپیش روایات احساسات اور عادات کا بھی غذا کی کمی پیشی کے مسئلے سے گہرا تعلق ہے مثلاً کھانے ذائقہ دار اور آنکھوں کو اچھے لگنے والے ہوں ماحول اور موقع بھی خوشگوار ہو تو یقینا بھوک میں اضافہ ہوگا اور کھانے کے بعد جسم کو سکون اور خوشی محسوس ہوگی لیکن اس کے برعکس اگر کھانے کے بدشکل اور بدمزہ ہونے کے علاوہ ماحول ماحول میں خوف بے چینی اور بے سکونی ہو تو یقینا بھوک مرجائے گی اور پھر جو کچھ بھی کھایا جائے گا اس سے جسم نا آسودگی محسوس کرے گا اور جسم میں موجود قوتوں میں کمی پیدا ہوجائے گی لہٰذا بھوک زیادہ لگنے یا کم لگنے کے مسائل میں جذباتی اور نفسیاتی اسباب زیادہ ہیں،بعض بچوں اور حاملہ خواتین کو گیری چاک سلیٹی پتھر پنسلوں کا سرمہ،مٹی اور ترش پھلوں کے چھلکے کھانے کی عادت پڑجاتی ہے اس کی تین وجوہات ہیں:
۱۔

گھر کا ماحول اور کھانے کا ذائقہ اچھا نہیں ہوتا۔
۲۔جو غذا انہیں عام طور پر ملتی ہے یہ بدذائقہ اور ناقص ہوتی ہے اور اس میں معدنی نمکیات کی کمی ہوتی ہے۔
۳۔ایسے بچوں اور عورتوں کے ساتھ گھر والوں کا سلوک اکثر غیر ہمدردانہ اور نفرت بھرا ہوتاہے۔
طبی ماہرین نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایسے بچے اور عورتیں گھر والوں کی ہمدردی توجہ اپنی اور اپنی غذائی ضرورتیں حاصل کرنے کے لیے ناقص چیزوں کا استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں لہٰذا گھر والوں کو چاہیے کہ وہ انہیں ناقص چیزوں سے بچانے کے لیے ان کی غذائی ضروریات سوچ سمجھ کر پوری کریں۔
تاریخ اشاعت: 2018-01-17

Your Thoughts and Comments