بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتغذائیں اور صحت

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
غذائیں اور صحت
جسمانی نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اعضاء صحت مندہوں، ان کی صحت اور تندرستی کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے
سعدیہ قمر:
جسمانی نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اعضاء صحت مندہوں، ان کی صحت اور تندرستی کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے تو کھانے پینے والی اشیا سے پیٹ بھر ہی جاتا ہے، لیکن کچھ غذائیں کھانی چاہییں؟ اس کی تفصیل درج کی جارہی ہے:
دل: دل صحت مند ہوتو جان سلامت ، لہذا دل کی صحت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ دل کو صحت مند بنانے کے لیے کچھ غذاؤں کو ترجیح دینا ازحد ضروری ہے۔ ہفتے میں دومرتبہ اومیگا۔ ۳ فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی کھائیں۔ جئی کا دلیا ریشے کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے اور کولیسٹرول کو گھٹاتا ہے ، لہذا اسے ناشتے میں کھائیں۔ ہمارے ہاں چاکلیٹ کے شوقین تو بہت ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ صرف گہرے رنگ کا چاکلیٹ ہی ہمارے لئے مفید ہے۔ حیاتین (وٹامنز)اور ترش پھل بھی دل کے دوست جانے جاتے ہیں۔ آلو کو بہت کم تیل یا گھی میں تل کر کھایا جائے تو فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ٹماٹر بھی دل کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ خشک میوے دل کو توانا رکھتے ہیں۔ دالیں،لوبیا،اور دیگر پھلیاں دل کی بیماریوں کی شرح میں ۲۰ فی صد تک کمی کرتی ہیں۔ زیتون کا تیل،سبز چائے، ہری سبزیاں، کافی اور مگر ناشپاتی دل کے لئے بہترین غذائیں ہیں۔
دماغ: دماغ کی تعریف میں کیا کہا جائے؟ یوں سمجھ لیں کہ یہ اعضائے رئیسہ میں شامل ہے،لہٰذا اس کی دیکھ بھال بے حدضروری ہے۔ دماغ کو اپنے کام سرانجام دینے کے لیے جس توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے بے چھنے اناج بہت مفید ہیں۔ انھیں اپنی روزانہ کی غذاؤں میں شامل کرلیں۔ روغنی مچھلی دماغ کی صحت کے لیے مفید ہے۔ سویا بین،کدو،بلیوبیریز اور ٹماٹر بھی دماغ کے لئے فائدہ مند ہیں۔ حیاتین سے بھرپور غذائیں بھی دماغ کے لیے ضروری ہیں۔ شاخِ گھوبھی (بروکولی)اور مغزیات ہفتے میں ایک سے دوبار ضرور کھائیں۔
جگر:جگرکی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ بہت سی بیماریاں جگر کا فعل متاثر ہونے سے شروع ہوتی ہیں۔ جگر کی صحت کے لیے چکوترا(گریپ فروٹ)،ہری سبزیاں،اور مگرناشپاتی بہت مفید ہیں۔ تمباکو اور سفید شکر کی زیادتی جگر کے لئے نقصان دہ ہے۔ زیادہ پانی اور لیموں کا شربت پینے سے جگر پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
معدہ: ہرغذا معدے سے گزرتی ہے ،لہٰذا اس کو فعال رکھنا بہت ضروری ہے ۔ معدے کے لیے ایسی تمام غذائیں مفید ہیں، جو زو دہضم ہوں۔ تازہ سبزیاں اور پھل معدے کے دوست ہیں۔ سبزیوں میں پالک،شملہ مرچ،کھیرا،بینگن،ٹماٹر اور آلو معدے کو تقویت دیتے ہیں، جب کہ پھلوں میں کیلا ،بلیو بیری،انگور،سنگترے،انناس،پپیتا اور اسڑابیریز بہت فائدہ مند ہیں۔ مچھلی اور بغیر کھال کی مرغی کا گوشت بھی معدے کے لیے اچھی غذائیں ہیں۔
دانت:صاف ستھرے اور صحت مند دانت حسین مسکراہٹ ، چہرے کی دل کشی اور جاذبیت کے لیے ضروری ہیں۔ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ کی مسکراہٹ مئوثر اور دل کش ہو تو اپنے دانتوں کو سفید اور چمک دار رکھیے۔ حسین سے حسین چہرے کے تاثر کو اگر کوئی چیز ختم کردیتی ہے تو وہ پیلے اور گندے دانت ہیں۔ جولوگ اپنے دانتوں کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے،ان کے منھ سو بُو آتی ہے۔ اگر دانتوں کی روزانہ صفائی اور دیکھ بھال نہ کی جائے تو وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں، مثلاََ ان میں کیڑا لگ جاتا ہے،دانت کم زور ہوجاتے ہیں، مسوڑے سوج جاتے اور سرخی مائل ہوجاتے ہیں ۔ ایسے دانتوں سے خون آنے لگتا ہے۔ دانتوں کی سب سے خطرناک اور پچیدہ بیماری پائیوریا ہے، جس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے۔ اس بیماری میں مسوڑوں میں پیپ پڑ جاتی ہے، جو کھانے کے ساتھ جسم میں جاکر مزید بیماریون کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورت حال میں دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے اہم عمل ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہے، یعنی روزانہ مسواک کی جائے۔ اس کے علاوہ دانت چمک دار بنانے کے لیے ایک چائے کا چمچہ کھانے کا سوڈا ، ایک چمچہ پسا ہوا نمک اور پساہوا سہاگہ ملا کر شیشی میں رکھ لیں۔ اس سے روزانہ دانت صاف کریں۔ آپ کے دانت چمک دار ہوجائیں گے۔ دانتوں کو صحت مند رکھنے کے لیے ان کی ورزش بھی بے حد ضروری ہے۔ اپنی غذاؤں میں تازہ اور سخت پھلوں کو شامل کریں اور انھیں بغیر چھلے اور کاٹے دانتوں کی مدد سے کھائیں۔ گنڈیریاں بھی کھائیں۔ دانتوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے روزانہ برش کرنا بے حد ضروری ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے