بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتغذاؤں کے اثرات سب پر برابر نہیں‌ ہوتے

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
غذاؤں کے اثرات سب پر برابر نہیں‌ ہوتے
کس قسم کی خوراک کھانے کے بعد آپ کاخون زیادہ میٹھاہوجاتاہے یہاں میٹھے خون سے مراہ بلڈشوگر ہے جسے طبی اصطلاح میں ”گلوکوز“ کہاجاتاہے۔
کس قسم کی خوراک کھانے کے بعد آپ کاخون زیادہ میٹھاہوجاتاہے یہاں میٹھے خون سے مراہ بلڈشوگر ہے جسے طبی اصطلاح میں ”گلوکوز“ کہاجاتاہے۔ماہرین حیاتیات نے اس سوال کاجواب ایک ریاضی کے فارمولے کی مددسے یاد ہے کہ ایک ہی جیسی غذامختلف لوگوں کے خون میں شکرکی مختلف مقدار بڑھانے کی طرف لے جاسکتی ہے۔
تازہ مطالعہ کے مطابق ایک لسکٹ کھانے سے شدید ایک شخص کوفوری طور پرتوانائی حاصل ہوسکتی ہے لیکن کسی دوسرے شخص پراس کابہت کم اثر ہوسکتاہے جس سے ایک بات صاف ہوجاتی ہے کہ ایک غذاجوآپ کے لیے اچھی ہے شایدمیرے لیے بری ہوسکتی ہے۔محققین نے سائنسی جریدہ”سیل“ میں لکھا کہ کھانے کے بعد لوگوں کے خون میں شکرکی سطح مختلف طریقے سے بڑھتی یاگرتی ہے حتیٰ کہ جب وہ ایک ہی طرح کے پھل،روٹی،میٹھی ڈش،پیزایادیگرخوردنی اشیاء کھاتے ہیں توبھی ان کے خون میں شکر کی مقدارمختلف ظاہرہوتی ہے جس سے پتاچلتاہے کہ غذاکاانتخاب ذاتی خصوصیات کے مطابق کیاجانا چاہئے۔ محققین نے 800رضاکاروں میں بلڈشوگر کی سطح کوایک ہفتے تک مانیٹرکیا۔اس دوران شرکاء کو محققین کی طرف سے فراہم کردہ ناشتہ دیاگیااگرچہ شرکاء نے ایک ہی جیسے کھانے کھلائے تھے اس کے باوجود کے خون میں شکرکی سطح حیرت انگیز طورپرمختلف تھی۔
محققین نے نتیجہ اخذاکیاکہ کھانے کے بعدخون میں شکرکی مقدارمیں اضافے یاکمی کے لیے دیگر عوامل مثلاََلوگوں کی عادات ان کے کھانے پینے کے طرزعمل ،آنتوں میں رہنے والے جرثومے۔وزن بلڈپریشر،نیند،کولیسٹرول کی سطح بھی ذمہ دار ہے۔ ویسٹ یونیورٹی کی محقق کلے مارش نے کہاکہ نتائج سے ظاہرہواکہ کھانے کے بعد خون میں شکرکی مقدار کا بڑھنا صرف اس بات پرمنحصرنہیں تھاکہ آپ کیا جانتے ہیں بلکہ اس پربھی تھا آپ کاجسمانی نظام غذاکوکسطرح پروسس کرتاہے۔
شریک محقق ایرن سیگل نے کہاایک غذاجوہمارے مطالعے میں ایک شخص کے لیے اچھی ڈائیٹ میں شمارکی گئی تھی کئی بار دوسرے شرکاء کے لئے بری غذاکی فہرست میں شامل تھی۔مثال کے طورپرایک خاتون کے خون میں شکرکی سطح ایک ٹماٹر کھانے کی وجہ سے زیادہ بڑھ گئی تھی لیکن ٹماٹر دوسرے شرکاء کے غذائیت والے کھانوں کی فہرست میں شامل تھا۔
سائنس دانوں کاکہناہے کہ اچھی غذاوہ تھی جس نے کھانے کے بعدخون میں شکرکی مقدارکو اعتدال پررکھاتھا جبکہ بُری غذانے شکرکوآسمان پرپہنچادیاتھا جبکہ ان غذاؤں میں حراروں کی ایک ہی جیسی مقدار شامل تھی۔محقق ایرن ایلینوراور پروفیسر ایرن سیگل نے بلڈشوگرپرغذاکے اثرات کے حوالے سے ایک کمپیوٹر الگورتھم طریقہ کار(الخورزمی کے حساب کتاب یا ڈیٹا پروسسنگ کے فارمولے الگورتھم) تخلیق کیاجس پرایک شخص کی 137ذاتی پیمائش کی جانچ پڑتال کی اور دیکھا کہ ایک خاص قسم کی غذاکھانے بعد اس شخص کے خون میں شکرکی مقداربڑھ سکتی ہے یاگرسکتی ہے۔
محققین کی ٹیم نے پہلے ایک سولوگوں کے ایک گروپ پرتجربہ کیااور بعد میں26شرکاء کے گروپ کوخاص قسم کے کھانے کھلائے جس کے بعد الگورتھم طریقہ کارنے ہرشخص کی غذا کاتجزیہ کیااور12 شرکاء کی غذاکاانتخاب ماہرین غذائیت کی طرف سے کیاگیا۔
محققین نے کہاکہ کمپیوٹر الگورتھم نے بارہ شرکاء میں سے 10کے لیے اچھی اور بری غذاکے بالک درست پیش گوئی کی تھی ماہرین غذائیت کی پیش گوئی سے ملتی جلتی تھی۔تاہم محققین کاکہنا ہے کہ کمپیوٹر الگورتھم کے طریقہ کارکی مددسے زیادہ لوگوں کی غذاکاانتخاب کرناآسان ہوسکتا ہے۔محققین کے اعدادو شمارظاہرکرتے ہیں کہ لوگوں کے لیے ذاتی غذاکاانتخاب کرنازیادہ اچھی بات ہوگی بجائے اس کے کہ آبادی کی اوسط پرانحصارکرتے ہوئے صحت کی ہدایات جاری کی جائیں جوکچھ صورتوں میں خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے