Guava - Article No. 2079

امرود - تحریر نمبر 2079

بدھ فروری

Guava - Article No. 2079
کچھ پھل مزیدار ہوتے ہیں لیکن ان میں خوشبو نہیں ہوتی یا پھر بہت کم ہوتی ہے جس کے سبب یہ پھل ادھورے محسوس ہوتے ہیں۔امرود فرحت بخش خوشبو کے ساتھ بہت عمدہ ذائقہ بھی رکھتا ہے۔سردیوں کے موسم میں یہ دیگر پھلوں سے زیادہ کھایا جاتا ہے پھلوں کی چاٹ امرود کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔امرود کی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مختلف اقسام ہیں۔سو گرام امرود میں چھہتر فیصد پانی،ایک سے پانچ فیصد تک پروٹین،دو فیصد تک چکنائی،پانچ سے چودہ فیصد تک نشاستہ،0.1 فیصد کیلشیم،0.4 فیصد فاسفورس،ایک ملی گرام فولاد جبکہ 300 سے لے کر ایک ہزار ملی گرام تک وٹامن سی ہوتا ہے۔

وٹامن سی کے اعتبار سے صرف آملہ ہی امرود کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اچھی طرح پکے ہوئے امرود میں ہی نہیں بلکہ اس کے پیڑ کی چھال میں بھی وٹامن سی خوب ہوتا ہے۔

(جاری ہے)


ایک عام اندازے کے مطابق امرود کے سو ملی لیٹر رس میں ستر سے 170 ملی گرام تک وٹامن سی کے علاوہ وٹامن اے،وٹامن بی، گلوکوسائیڈ اور خامرے بھی ہوتے ہیں نیز گوشت بنانے والے جز پروٹین کے علاوہ معدنی نمک مثلاً فاسفورس،کیلشیم اور فولاد کی موجودگی اسے ایک عمدہ غذاہی نہیں موثر دوا بھی ثابت کرتی ہے۔

امرود میں شامل مرکبات کئی بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔اپنی گوناگوں خصوصیات اور فوائد کے اعتبار سے امرود کی چھال اور پتوں کی بھی اہمیت ہے۔بعض ایشیائی ممالک میں امرود کی مدد سے تیار کردہ رس میں اس کے پتوں کا رس شامل کرکے ذیابیطس کے مرض میں استعمال کیا جاتا ہے۔میٹھے،پکے ہوئے اور خوشبودار امرود کھانے سے دل کو فرحت محسوس ہوتی ہے اور گھبراہٹ بھی دور ہوتی ہے۔

یہ دل و دماغ کے علاوہ معدے کو بھی طاقت پہنچاتا ہے۔اس کے بیجوں میں پیٹ کے کیڑے صاف کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔امرود کی بڑی خاصیت تو یہ ہے کہ اس کو کھانے سے آنتوں کی سستی ختم ہو جاتی ہے۔پیٹ اور آنتیں صاف ہوں تو جگر اور معدے کے افعال بھی چست ہو جاتے ہیں اور غذا جلد ہضم ہو جاتی ہے۔
امرود میں کیروٹینز بھی خوب ہوتے ہیں جو آنکھوں کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔

ان میں آنکھ کے ان خلیوں کو توانائی بخشنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو بینائی یا دیکھنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔اس ذائقہ دار پھل میں ریشہ یعنی فائبر بھی خاصی مقدار میں ہوتا ہے جو خون کے بہت سے زہریلے مادوں خاص طور پر کولیسٹرول کو سمیٹ کر خارج کر دیتا ہے۔اس طرح رگیں کھلی اور صاف رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امرود کو امراض قلب اور بلڈ پریشر جیسی مشکلات میں ایک مفید پھل سمجھا جاتا ہے۔

اس سے دوران خون کی سستی بھی ختم ہو جاتی ہے۔
قوت مدافعت
وٹامن سی سے لبریز ہونے کی وجہ سے جسم کو طاقت اور مضبوطی ملتی ہے کہ اسی قوت مدافعت کے سہارے موسمی نزلہ و زکام سے بھی حفاظت ہو سکتی ہے۔امرود خون سے خراب مادوں کو بھی صاف کر دیتا ہے۔پھل کے مقابلے میں رس جلد ہاضم ہوتا ہے جسے جگر کی سستی اور جلدی امراض کے لئے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔

امرود سے گردوں کے افعال میں تیزی آتی ہے۔امرود کو پکی ہوئی تازہ حالت میں خوب چبا کر کھائیں،کچی حالت میں اس کا اپنا الگ مزہ ہے لیکن اس سے پیٹ کا درد ہو سکتا ہے۔مسوڑھے پھول گئے ہوں تو امرود کے درخت کی چھال کو پانی میں ابال کر کلیاں اور غرارے کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔
جلدی امراض
ایک دو مٹھی امرود کے پتے کتر کے پانی میں پانچ منٹ ابالیں اور ٹھنڈا کرنے کے بعد اس پانی سے جلد کو دھوئیں تو کھجلی،پھوڑے پھنسی، خارش،کیلوں،چنبل،زخم و خراش میں آرام آسکتا ہے۔

امرود کے پتوں کی چائے ذیابیطس اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مفید ہو سکتی ہے جس کے لئے درخت سے پتے اس وقت توڑے جائیں جب اس پر پھل پک رہا ہو۔ان پتوں کو خشک کرکے ان کا چورا بنا لیں اور کھولتے ہوئے پانی میں دم دے کر چائے تیار کر لیں۔اس چائے کو ٹھنڈی حالت میں استعمال کرنے سے اسہال کی تکلیف بھی ختم ہو سکتی ہے۔امرود کی تازہ پتیاں چبانے سے دانت کا درد بھی دور ہو جاتا ہے۔

تائیوان میں ہونے والی ایک تحقیق میں واضح ہوا ہے کہ امرود کا رس استعمال کرنے سے خون کی بڑھی ہوئی شکر میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔میکسیکو میں اسے اسہال کے خلاف تیر بہدف نسخہ سمجھا جاتا ہے۔امرود کی چاٹ میں کالی مرچ،نمک اور سونٹھ کی آمیزش اسے نہ صرف ذائقہ دار بناتی ہے بلکہ طبی اعتبار سے بھی اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے مگر یاد رہے کہ مسالہ زیادہ نہیں ہونا چاہیے نیز امرود کھانے کے بعد پانی پینے سے گریز کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے گلا خراب ہو سکتا ہے۔


بالوں کی مضبوطی
امرود کے پتے بالوں کو گرنے سے روکتے ہیں۔سر کی جلد اور بالوں سے خشکی و سر کی جوؤں کاخاتمہ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔بالوں کی صحت کو بہتر بنا کر انہیں مضبوط و چمک دار بناتے ہیں اور نئے بالوں کو اگانے میں مفید ہے۔امرود کے پتوں کا استعمال مندرجہ ذیل طریقہ سے کر سکتی ہیں۔مٹھی بھر امرود کے تازہ پتے لے کر اچھی طرح دھو لیں تاکہ ان پر لگی ہوئی مٹی صاف ہو جائے جب پتوں پر سے تمام گرد و غبار صاف ہو جائے تو ایک بڑے برتن میں تقریباً ایک لیٹر پانی گرم کریں اور اس میں ان پتوں کو ڈال کر دھیمی آنچ پر بیس سے تیس منٹ تک پکائیں۔

جب پانی آدھا رہ جائے اس پانی کو چھان کر علیحدہ برتن میں ٹھنڈا ہونے کے لئے رکھ دیں۔پانی ٹھنڈا ہونے کے بعد اس محلول کو بالوں کی جڑوں اور بالوں میں انگلیوں کی مدد سے اچھی طرح لگائیں یا اس پانی سے سر دھو لیں اور تیس منٹ تک لگا رہنے دیں اور نیم گرم پانی سے سر دھو کر خشک کریں۔بال خوبصورت،لمبے،گھنے اور چمک دار ہو جائیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-10

Your Thoughts and Comments