Honey Zaiqedar Karishmati Ghiza - Article No. 2047

شہد ذائقے دار کرشماتی غذا - تحریر نمبر 2047

پیر جنوری

Honey Zaiqedar Karishmati Ghiza - Article No. 2047
شہد ایک کرشماتی غذا ہے۔قدرت کا ایسا انمول خزانہ کہ جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آیا اور دنیا بھر کے معالجین اور حکماء نے اس کی افادیت تسلیم کی ہے۔یہ جسم اور دماغ سے لے کر بیرون جلد تک کے لئے عمدہ تریاق ہے۔شہد میں مدافعتی نظام کو مضبوط تر کرنے کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔یہ بہترین خوراک اور جادوئی اثرات رکھنے والی غذا ہے۔
موسمی اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے
شہد کا ایک اہم فائدہ موسمی اثرات سے تحفظ دینا ہے۔

ہر موسم میں اسے استعمال کیا جانا درست ہوتا ہے لیکن جاتی گرمیوں اور شدید سردیوں میں خصوصیت اس کے استعمال سے فوائد ملتے ہیں۔گلے کے ورم سوزش،بہتی ناک،بخاروں اور حساسیت کی سوزش میں بہترین تریاق ہے ،الرجی ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورے کے بعد شہد کی مقدار کا تعین کرنا درست ہوتا ہے۔

(جاری ہے)


یہ بہترین مانع سوزش غذا ہے
پہلی بات تو یہ طے ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے سفید شکر سے بہتر انتخاب شہد ہی ہے،تاہم ڈاکٹر سے مشوروں کے بعد اسے استعمال کرنا مفید ہو گا۔

دوسرے یہ بہترین اینٹی آکسیڈنٹ غذا ہے۔اگر کسی کا بلڈ پریشر گرا (Low) رہتا ہے تو اسے شہد استعمال کرنا چاہئے ۔تھوڑی سی مقدار ناشتے میں ضرور استعمال کر لینی چاہئے۔
کولیسٹرول کی توازن کے لئے
خراب کولیسٹرول کی مقدار کم کرنے اور اچھے کولیسٹرول کو متوازن کرنے کے لئے شہد بہتر غذا ہے۔یہ دل کے امراض میں بھی مفید ہے ۔

بند شریانوں کو کھولتا اور منجمند خون کا بہاؤ درست کرتا ہے۔گوکہ اس میں کیلوریز کی مقدار زائد ہوتی ہے لیکن یہ موٹاپے کی وجہ نہیں بنتا۔حکماء اسے ادرک اور لہسن کے ساتھ ملا کر دل کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔
یہ اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگس بھی ہے
سرما کی بیماریوں مثلاً جلد کی سرخی،خشکی ،جلدی بیماریوں اور ملیریا کے ساتھ ساتھ نزلے زکام تک کی حالتوں میں شہد کا استعمال کرنا مفید ہے۔

یہ نظام ہاضمہ درست کرتا ہے۔نقاہت اور کمزوری کو دور کرتا ہے۔گلے کی خشکی اور پھیپھڑوں کے انفیکشن سے بچاؤ کے لئے صحت بخش طرز خوراک اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس ضمن میں شہد بہترین غذائی علاج ہے۔نومولود بچوں کو شہد چٹانے کی قدیم روایت موجود ہے تاہم جدید میڈیکل سائنس کی تحقیق اسے نومولود بچوں کے لئے موزوں نہیں سمجھتی کیونکہ یہ نو عمر بچوں کے معدے کے لئے خاصی ثقیل خوراک ہے ۔

عمر کے پہلے سال کی تکمیل کے بعد بچوں کو کھلانا مفید ہے۔
شہد میں Amino Acid موجود ہیں
شہد میں ان تیزابوں کی موجودگی معدنی ذرات اور وٹامنز کے ساتھ امتزاج رکھتے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ وزن میں اضافہ بھی کرتے ہیں اور بڑھے ہوئے وزن میں کمی لانے کا بھی سبب بننے والی غذا ہے۔نقاہت دور کرنے کے لئے یا کھانسی،نزلے اور زکام سے بچاؤ کے لئے نہار منہ نیم گرم پانی میں ایک چائے کے چمچ کے برابر شہد ملا کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے اور اگر آپ کو نوزیا کی کیفیت ہو تو لیموں کے چند قطرے شامل کرکے اسے معتدل بنا کے پیا جا سکتا ہے۔

یہ خالی معدے میں نقصان نہیں پہنچاتا۔
سفید جلد اور بالوں کا محافظ
قوت مدافعت کمزور نہ پڑے تو لوگ با آسانی متعدی بیماریوں کا شکار بھی نہ ہوں۔اس لئے خوراک کے اجزاء اور غذاؤں کے انتخاب میں احتیاط برتنے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔شہد کو ہم جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔اس میں معدنیات مثلاً آئرن،کیلشیم اور میگنیزیم کی وسیع تر مقدار موجود ہے۔

شہد کو مٹاپے سے مبرا،کولیسٹرول فری اور سوڈیم فری ہونے کا درجہ حاصل ہے اور یہی اس کی بہترین خصوصیات بھی ہیں۔
نیند بہتر کرنے میں معاون
اگر آپ نیند کی کمی کا شکار ہوں اور مصروف ترین دن گزارنے کے بعد بھی رات بھر چھت کو گھورتے گزری ہو تو اس کا آسان ترین غذائی ٹوٹکا اور علاج یہ ہے کہ کھانے کا چمچ بھر کر کچے دودھ کے گلاس میں گھول کر پی لینا ہے۔

یہ آپ کے موڈ کو بھی خوشگوار کر دے گا۔کیونکہ اس میں Serotonin ایسا موٴثر ترین کیمیائی کمپاؤنڈ ہے جو اعصاب کو پُرسکون کرتا ہے۔اگر آپ کیمو مائل چائے میں شکر کے بجائے ایک چائے کے چمچ کے برابر شہد گھول کے پی لیں تو طبیعت فرحت پائے گی۔موڈ بھی خوشگوار ہو گا اور ذہنی تھکان بھی جاتی رہے گی۔
سردیوں میں اس کا بیرونی استعمال
آپ چاہیں تو بال دھونے سے قبل تھوڑا سا شہد جڑوں میں لگا سکتی ہیں۔

اس سے خشکی کا خاتمہ ہو گا۔بال نرم و ملائم ہوں گے۔آپ کے ٹخنے،گھٹنوں اور کہنیوں پر خشکی کے اثرات ہو رہے ہوں تو شہد لگا کے اسکربنگ کرنے سے جلد صاف بھی ہو گی۔نکھرے گی اور خشکی کا خاتمہ ہو گا۔اگر خارش ہوتی ہو تو بھی افاقہ ہو گا۔درج ذیل چارٹ شہد میں پائے جانے والے غذائی اجزاء سے متعلق جانیے۔
غذائی اجزاء شہد
فرکٹوز 35.41 فیصد
گلوکوز 32.39فیصد
ساکروز 1.5 فیصد
وٹامنز میں وٹامن B
معدنی ذرات پوٹاشیم،آئرن اور کیلشیم
تاریخ اشاعت: 2021-01-04

Your Thoughts and Comments