بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتافطار کی سوغاتیں مضرِ صحت بننے لگیں

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افطار کی سوغاتیں مضرِ صحت بننے لگیں
سموسے پکوڑے ،کچوریاں اور فروٹ چاٹ، کیاان کا معیار پرکھنے والا بھی کوئی ہے؟
شہریار اشرف:
رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ قرآن پاک کا نزول اسی مہینے میں ہوا۔سحر وافطار کا اہتمام کرنا رمضان المبارک کی اہم روایت ہے اور رمضان میں صحت بخش غذا کا انتخاب آپ کو صحت مند اور توانا رکھتا ہے۔اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ ہمیں سموسے،پکوڑے،کچوریاں، اور دہی بھلے اور فروٹ چاٹ کھانے کی ایسی عادت پڑچکی ہے کہ اب ان کے بغیر افطاری ادھوری سی لگتی ہے۔جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ صبح سے شام تک کھانا پینا ترک کر کے روحانی اور جسمانی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی تجربے سے بھی گزرت ہیں۔خوراک ہونے کے باوجود بھوکے پیاسے رہ کر وہ ان لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں جن کے پاس خوراک نہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کا وزن رمضان ختم ہونے سے پہلے سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے ۔
اس کی ایک وجہ افطاری میں تلی ہوئی چیزوں کابے دریغ استعمال کرنا ہے۔جن میں سموسے ،پکوڑے اور کچوڑیاں قابل فہرست ہیں۔ان کے بے جا استعمال سے روزے دار کا وزن بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر فیصل احمد کہتے ہیں کہ دن بھر بھوکا رہنے کی وجہ سے ہمارا جسم افطار کرنے پر غذاذخیرہ کرنے کی موڈ میں آجاتا ہے ان کے بقول دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ افطار کے وقت ہم اتنے بھوکے ہو چکے ہوتے ہیں کہ بہت تیزی سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہیں۔
اور جب تک ہمارا کھایا ہوا کھانا جسم میں جذب ہوتا ہے اور ہمارا ذہن ہمیں بتاتا ہے کہ بس اب ہماری ضرورت پوری ہوچکی ہے اُس وقت تک ہم اپنی ضرورت سے بہت زیادہ کھا چکے ہوتے ہیں۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ کھانا آہستہ آہستہ کھایا جائے تلی ہوئی اور میٹھی چیزوں کا استعمال کم کیا جائے لوگوں کی اکثریت اس بات کونظر انداز کرتے ہوئے زیادہ کھا لیتی ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ افطاری کرتے ہی اُن کی حالت غیر ہوجاتی ہے اور رات گئے تک وہ اسی کیفیت کا سامنا کرتے ہیں۔
اگر سموسوں اور پکوڑوں کا جائزہ لیاجائے تو سال بھر ان کو تھوڑا بہت استعمال جاری رہتا ہے اکثر لوگ شام کی چائے کے ساتھ چکن اور آلو والے سموسے استعمال کرتے ہیں جہاں تک پکوڑوں کی بات ہے تو یہ دوپہر کے کھانے کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں تاہم گھر میں تیار کئے جانے والے پکوڑوں کی نسبت بازار سے ملنے والے پکوڑے زیادہ لذیذ اور خستہ ہوتے ہیں۔بارش والے موسم میں پکوڑوں کی اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اکثر گھروں میں بارش کے موسم کا مزہ دوبالا کرنے کے لیے یہ تیار کئے جاتے ہیں
اگر ہم دوسری طرف دیکھیں تو رمضان المبارک کے مہینے میں سموسے ،پکوڑے اور کچوریوں کی فروخت میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے۔در حقیقت یہ افطار کی سوغاتیں ہیں اور شوقین روزہ دار ان کے بغیر افطار کا سوچتے بھی نہیں جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں سموسے،پکوڑے اور کچوری کی ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان چیزوں کا کاروبار کرنے والے ایک مہینے میں لاکھوں کما لیتے ہیں۔افطار کے لوازمات کے حوالے سے گزشتہ دنوں سروے کیا تو لاہور کے مشہور علاقوں لکشمی چوک،ٹمپل روڈ،مسلم ٹاؤن،فیروز پور روڈ،صدر بازار،گڑھی شاہو،باغبانپورہ اور علامہ اقبال ٹاؤن میں سموسے پکوڑے اور کچوریاں فروخت کرنے والی مشہور دکانوں کا قریب سے جائزہ لینے کا موقع ملا۔جہاں کاریگر صبح دس بجے ہی سموسے،پکوڑے اور کچوریوں کی تیاری میں مصروف تھے تاکہ افطار سے قبل اتنی تعداد میں سامان تیار کر لیا جائے کہ روزہ داروں کو خالی ہاتھ نہ جانا پڑے۔لکشی چوک کی مشہور بیکری کے مالک نے بتایا کہ رمضان المبارک کہ رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے افراد کے کاروبار میں برکت کے ساتھ ساتھ کئی گنا منافع بھی ہوتا ہے،انہوں نے بتایا کہ عام دنوں میں ہم روزانہ اڑھائی ہزار سموسے فروخت کرتے ہیں تاہم رمضان المبارک میں یہ تعداد بڑھ کر سات ہزار روزانہ ہو جاتی ہے کیونکہ سموسے کو افطار میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے سموسے کے شوقین اس وقت تک افطارہی نہیں کرتے جب تک دسترخوان پر سموسے دستیاب نہ ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے کہ رمضان المبارک میں سموسہ فروش غیر معیاری آلو اور غیر معیاری گھی صرف اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ رمضان کی آڑ میں سب کچھ فروخت ہو جاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔
ہم ماہ مقدس کا احترام کرتے ہوئے عام دنوں کے مقابلے میں ماہ رمضان میں معیاری اجزاء استعمال کرتے ہیں لیکن جہاں تک گلی محلوں اور ٹھیلوں پر سموسے پکوڑے فروخت کرنے والوں کی بات ہے تو ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کیسا سامان استعمال کررہے ہیں۔
ہمارے ملک میں عجیب منفق ہے دنیا بھر میں ماہ رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء عام دنوں سے سستی کر دی جاتی ہیں تاکہ امیر غریب دونوں مستفید ہو سکیں لیکن رمضان آتے ہی دکاندار عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگتے ہیں۔عام دنوں میں 15 روپے میں فروخت ہونے والا سموسہ رمضان میں 20 روپے کا کردیا جاتا ہے جبکہ 30 روپے میں فروخت ہونے والی کچوری 50 روپے ہوجاتی ہے جہاں تک معیار کی بات ہے تو اکثر دکانداروں کا معیار رمضان کے مہینے میں کافی گر جاتا ہے۔حنیف قصاب نے ہمیں بتایا کہ کچوریاں اور سموسہ بنانے والے ہم سے سستے داموں قیمہ لے کر جاتے ہیں یہ وہ قیمہ ہوتا ہے جو شام کو بچ جاتا ہے اور اس میں کافی حد تک الائشیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ایسا قیمہ کوئی بھی صارف اپنے گھر کے لئے نہیں خریدتا۔
رمضان میں چونکہ کچوریوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے اس وجہ سے سموسہ فروش کی اکثریت یہی قیمہ کچوریوں میں استعمال کرتے ہیں۔اگر کچوری کی 50 روپے قیمت کے تناظر میں اس میں ڈالے گئے چکن یا بیف کی طرف نظر دوڑائیں تو اس میں صرف بیف یا چکن کی ایک ہلکی سی جھلک کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا لیکن دکانداروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ان حالات میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کو تمام سموسہ اور پکوڑا شاپس پر چھاپہ مار کر عوام کو دیکھانا چاہیے کہ سموسوں اور پکوڑوں میں میں کیا ڈال کر کھلایا جارہا ہے۔لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی کا شاید اس طرف ابھی دھیان نہیں جارہا۔
یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ دکانداروں کی اکثریت خالص بیسن استعمال کرنے کی بجائے ملاوٹ شدہ بیسن کے ساتھ پکوڑے سموسے تیار کرتے ہیں خالص بیسن کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس میں آٹا مکس کر دیا جاتا ہے۔اگر انہیں یہ طریقہ ختم کرنے کا کہا جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے بھائی صاحب آٹا بھی تو کھانے کی چیز ہے آٹے کی ملاوٹ سے پکوڑے خستہ بنتے ہیں لیکن اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
فروٹ منڈی اور سبزی منڈی میں بھی رمضان المبارک میں غیر معمولی کاروبار نظر آتا ہے۔خاص طور پر آلو اور پیاز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ان کی کھپت بڑھ جاتی ہے۔جبکہ فروٹ چاٹ فروخت کرنے والے بھی عام دنوں کے مقابلے میں رمضان المبارک میں زیادہ فروٹ چاٹ فروخت کرتے ہیں۔
کاچھا منڈی میں ہماری ملاقات سبزی فروش محمد الیاس سے ہوئی اس نے ہمیں بتایا کہ سبزی منڈی میں فروخت ہونے والی سبزی کے تین درجے ہوتے ہیں۔تیسرا درجہ سب سے ہلکی سبزی کا ہوتا ہے۔سموسے پکوڑے فروخت کرنے والے دکاندار تیسرے درجے کے آلو یہاں سے خریدتے ہیں۔
فروٹ فروخت کرنے والے محمد اسلم نے بتایا کہ رمضان المبارک میں آنے والا تمام فروٹ فروخت ہو جاتا ہے جبکہ عام حالات میں کچھ بچ جاتا ہے جسے دو دن کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔
رمضان المبارک میں فروٹ چاٹ فروخت کرنے والے دکاندار اور ریڑھی بان منڈی میں بچ جانے والا سارا فروٹ سستے داموں لے جاتے ہیں جس میں کیلا اور سیب سرفہرست ہیں اور اُن کی فروٹ چاٹ تیار کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ جہاں رمضان کے مہینے میں اپنے بندوں پر رحمت کی بارش کر دیتا ہے تو وہیں ہم دعا گو ہیں کہ سموسے پکوڑے اور فروٹ چاٹ فروخت کرنے والوں کو اللہ نیکی کی ہدایت دے کہ ماہ مقدس میں وہ روزہ داروں کی صحت کے ساتھ نہ کھیلیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے