بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتجڑی بوٹیاں اور صحت

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جڑی بوٹیاں اور صحت
اس طب نے صدیوں اپنا لوہا منوایا ہے۔ اس طب کی دواؤں کے صدیوں پرانے بیان کیے ہوئے فوائد کو اب تک کوئی چیلنج نہیں کرسکا۔ کیوں کہ ان دواؤں اور علاج معالجے کی بنیاد فطری اصولوں پر رکھی گئی ہے
جڑی بوٹیاں اور صحت:
اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے، لکن بحیثیت قوم ہماری اقتصادی حالت اور انفرادی طور پر ہماری صحت دونوں ہی پست حالت میں ہیں۔ اس کی وجہ ہماری اپنی تساہل پسندی ہے۔ ہم ابھی تک افکار کے معاملے میں بھی اغیار کے دست نگر ہیں۔ جو کچھ ہم پر باہر سے مسلط کیا جاتا ہے، ہم اسے مزید شدت سے اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں اور اس نقصان پر غور نہیں کرتے، جو بحیثیت مجموعی سب کو پہنچ رہا ہے۔ صحت کا معاملہ اس وقت ہمارا اہم ترین مسئلہ ہے، لیکن ہم آزادی سے اب تک مسلسل کثیر قومی دوا ساز کمپنیوں کے مصنوعی سحر سے باہر نہیں نکلے ہیں یا نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ گویا آزاد ہونے کے باوجود فکری طور پر ابھی تک غلامی سے مکمل نجات حاصل نہیں کرسکے۔حالانکہ صحت اور علاج معالجے کے ضمن میں ہمارے پاس متبادل ، بلکہ بہترین متبادل کے طور پر طبِ مشرق موجود ہے۔ اس طب نے صدیوں اپنا لوہا منوایا ہے۔ اس طب کی دواؤں کے صدیوں پرانے بیان کیے ہوئے فوائد کو اب تک کوئی چیلنج نہیں کرسکا۔ کیوں کہ ان دواؤں اور علاج معالجے کی بنیاد فطری اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ فطرت کبھی غلط نہیں ہوسکتی۔ فطرت نے ہی انسان کو پروان چڑھایا اور فطرت نے ہی نباتات کو پروان چڑھایا ہے۔ نباتات میں پائے جانے والے اجزا اس قدر متوازن ہیں کہ یہ حالتِ مرض میں انسان کی غیر متوازن کیفیت کا توازن دوبارہ بحال کردیتے ہیں۔ یہی فطرت کا اصولِ توازن ہے اور آج کا انسان مجبور ہو گیا ہے کہ اس اصول پر غور کرے اور اس پر عمل بھی کرے۔ آج کا مغرب ایک طویل عرصے تک علم کے ہر میدان میں مشرق کا شاگرد رہا ہے۔ اس نے مشرق کے سامنے صدیوں زانوئے تلمذتہ کیا ہے۔ مغرب کو ترقی حاصل کیے ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا ہے اور وہ یہ بھی زیادہ پرانی بات ہے کہ اس نے علاج کے ضمن میں جڑی بوٹیوں کے اجزاے موثرہ کو الگ کرکے لیبارٹری میں انھیں تالیفی طور پر تیار کیا اور اس فارمولے کی مدد سے کثیر مقدار میں دوائیں سستے داموں تیار کرکے پوری دنیا کو مہنگے داموں فروخت کرنی شروع کردیں اور دنیا بھر میں طب جدید کے معالجین کو اپنے ایجنٹ کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس بات کا اعتراف ان معالجین کا سنجیدہ اور ہوش مند طبقہ خود بھی کرتا ہے کہ وہ چارونا چار ان کثیر قومی دواساز کمپنیوں ہی کی تجویز کردہ دوائیں اپنے مریضوں کو تجویز کر دیتے ہیں، کیوں کہ ان کے پاس اُن کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے۔دورِ جدید انقلابات کا دور ثابت ہوا ہے ۔ اس دورنے مغرب کے ”جدید نظریہٴ علاج“ کوجہاں ریزہ ریزہ کردیا ہے، وہیں طبِ مشرق کو ایک بار پھر زندہ کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ مغرب میں کسی نہ کسی انداز میں جڑی بوٹیوں سے علاج کا آغاز ہوچکا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے تیار کی ہوئی دوائیں بہت خوب صورت پیکنگ میں پیش کی جاتی ہیں، لوگ زیادہ سے زیادہ اس علاج کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ البانیہ ، یورپ کا مشہور ملک اس وقت یورپی ممالک میں جڑی بوٹیاں برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ آسٹریلیا میں نباتات سے مختلف مرکبات تیار کرکے استعمال کیے جاتے ہیں۔ وہاں کے لوگ بھی جڑی بوٹیوں کی افادیت کے قائل ہوتے جارہے ہیں۔ عرب ممالک میں ایک عرصے کے بعد اس طریقِ علاج کو دوبارہ شہرہ ہورہا ہے۔ ہماری جہدِ مسلسل کے نتیجے میں عالمی ادارہٴ صحت اب مقامی طبوں سے علاج کا حامی ہے، بلکہ اب تو اس عالمی ادارے نے جڑی بوٹیوں کے اجزاے موثرہ الگ کرکے استعمال کرنے کے بجائے سالم جڑی بوٹیاں استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طریقِ کار کو استعمال کیے بغیر صحت کا ہدف پورا نہیں ہوسکتا۔ طب مشرق کا فلسفہ انسان کو فطرت کی حدود کے اندر محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا کی آبادی کا ایک بڑاحصہ خود بھی فطرت کی حدود کے مطابق علاج کا خواہش مند ہے۔اس ضرورت پر عمل درآمد کے لیے جڑی بوٹیوں سے علاج بہت ضروری ہے ۔ آج کے دور میں سائنس اپنی تمام تر کام یابیوں کے باوجود صحت سے متعلق مسائل کے سامنے بے بس ہوچکی ہے۔ نت نئے امراض کا علاج اب اس کے بس میں بھی نہیں رہا، لیکن سرطان اور ایڈز کا علاج جڑی بوٹیوں سے کیا جاسکتا ہے ۔ طبِ مشرق کے اصول پہلے سے ثابت ہیں، انھیں ایک نئے اصول کے مانند تجربات کی بھٹی میں سے گزارنے کی ضرورت پیش نہیںآ ئے گی۔ چناں چہ ان کا براہِ راست اطلاق آسانی سے کیا جاسکتا ہے، ”جڑی بوٹیوں سے صحت“ کے اصول پر عمل پیرا ہوکر ہم نہ صرف فطرت سے ہم آہنگ ہوجائیں گے، بلکہ نباتات ، کیمیا اور دوا سازی کے تحقیق کار عالمی پیمانے پر انسانوں کی صحت میں بہتری کے لیے اپنا کام اچھے طریقے سے انجام دے سکیں گے۔ ہماری اس تجویز کا یقینا عالمی پیمانے پر خیر مقدم ہونا چاہیے، کیوں کہ طب جدید کے پاس حقیقتاََ امراض کا علاج نہیں ہے۔ مریضوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ جو شخص کسی مرض میں گرفتار ہوجاتا ہے، وہ طبِ جدید سے علاج کرانے کے باوجود ساری عمر اس سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہتا ہے۔ یقینا ان ہی حقائق نے جدید انسان کو فطرت اور جڑی بوٹیوں کی جانب مائل کیا ہے۔ اس تجویز پر عمل درآمد انسانوں کی صحت کے لیے ایک عالمی سنگِ میل ثابت ہوگا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے