Jism Main Paani Kaam Ho Jaye Tu․․․․․․

جسم میں پانی کم ہوجائے تو․․․․․․

Jism Main Paani Kaam Ho Jaye Tu․․․․․․

ضرورت کے مطابق پانی نہ ملے تو جسمانی اعضا ٹھیک طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔صرف سانس،پسینہ اور پیشاب کے ذریعہ ایک اوسط شخص روزانہ دس کپ پانی جسم سے خارج کرتا ہے ۔ہمارے جسم کا 75فیصدحصہ چونکہ پانی سے بنا ہے اس لیے اگر جسم میں پانی کم ہو جائے یا دیگر الفاظ میں ہم Dehydrationمیں مبتلا ہو جائیں تو یہ ایک خطر ناک صورتحال ہو سکتی ہے۔ہمارے جسم میں جتنے بھی نظام کام کررہے ہیں ان کو رواں دواں رکھنے کے لیے پانی کی لازمی ضرورت ہوتی ہے ۔

جسم اس وقت پانی کی کمی میں مبتلا ہوتا ہے ۔
جب ہم ضائع ہونے والے پانی کے مقابلے میں کم پانی پیتے ہیں ۔پانی کی کمی سے جسم میں معدنیات کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نمک اور شکر کی سطح الٹ پلٹ ہو جاتی ہے ۔غذا ہضم کرنے والے خامرے کی تیاری سست ہو جاتی ہے ،جسم میں زہریلے فاسد مادے زیادہ آسانی سے جمع ہونے لگتے ہیں اور سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں پھیپھڑوں کو بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے ۔

(جاری ہے)

جسم میں پانی کی کمی سے شیر خوار بچے اور معمر افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے جسم نوجوان بالغ افراد کی طرح نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ماہرین یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہمیں روزانہ آٹھ گلاس یا دولیٹر پانی پینا چاہیے۔
جسم میں پانی کی کمی کو ماہرین نے ایک فیصد سے بارہ فیصد کے درجات میں تقسیم کیا ہے ۔

ایک فیصد کمی ہلکی نوعیت کی ہوتی ہے ،دوفیصد کی معتدل درجے کی سمجھی جاتی ہے،پانچ فیصد پانی کی کمی مہلک ہو سکتی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمیں پیاس اس وقت محسوس ہوتی ہے جب خون میں ذرات جمع ہونے لگتے ہیں اور دماغ سے یہ اشارے ملنے شروع ہوتے ہیں کہ اب پانی پینے کی ضرورت ہے۔
پانی کی معتدل قسم کی کمی سے چکر آتے ہیں ،جلد خشک ہوجاتی ہے ،سر میں درد ہوتا ہے ۔

دیگر علامتوں میں تھکاوٹ ،منہ کا خشک ہونا اور قبض شامل ہیں۔جسم میں سنگین نوعیت کی پانی کی کمی سے بخار چڑھ سکتا ہے ،دھڑکن اور نبض تیز ہو سکتی ہے اور پسینہ بہنا بند ہو جاتا ہے ۔اس مرحلے پر آنکھیں اندر دھنس جاتی ہیں بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے اور پیشاب گہرے رنگ کا آنے لگتاہے۔
جب جسم میں پانی سات فیصد کم ہو جائے تو اس وقت صورتحال اتنی خطر ناک ہو جاتی ہے کہ مریض کو نمکین محلول کے ڈرپ لگانا ناگزیر ہوجاتاہے۔

جسم میں پانی کی نوفیصد کمی سے ہلاکت خیز مرحلے کا آغاز ہوتا ہے ۔اس مرحلے میں ذہن ماؤف ہوجاتا ہے ،ہوش وحواس جواب دے جاتے ہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں جسم تپنے لگتا ہے ،جلد سرخ ہوجاتی ہے اورموت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
موسم گرما میں تپتی دھوپ اور بجلی کی بندش سے لگنے والی گرمی سے جسم میں موجود پانی کی وافر مقدار نکل جاتی ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے ۔

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کئی کئی گھنٹے اپنے کام میں مصروف رہنے کے باعث پانی پینا بھول جاتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہوتاہے۔
ڈی ہائیڈریشن جانچنے کا طریقہ:
ہاتھ کی جلد کو چٹکی کے انداز میں پکڑ کر اسے چند سیکنڈز تک کھینچ کررکھیں اور کم از کم تین سیکنڈ کے بعد اسے چھوڑ دیں،اگر چھوڑنے کے فوری بعد جلد اپنی اصلی حالت میں آجائے اور اس کارنگ تبدیل نہ ہوتو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کوئی کمی نہیں تاہم اگر فوری کے بجائے جلد اصلی حالت میں واپس آنے کے لیے تھوڑا وقت لے اور اس کا رنگ تبدیل ہو جائے تو یہ ڈی ہائیڈریشن کی ایک نشانی ہے ۔

بچوں کے پیٹ پر چٹکی والے مذکورہ طریقہ کار سے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
سانس کی بو:
سانس کی بدبو جسم میں پانی کی کمی کی ایک علامت ہے ۔دراصل پانی منہ میں جاکر لعاب دہن کو بوپیدا نہیں کرنے دیتا،منہ زیادہ دیر تک خشک رہے تو منہ میں موجود بیکٹیریا سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔
کھانے کے اشتہا :
جگر کو اپنے افعال کے لئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے ،تاہم جب جسم میں پانی کی کمی ہوتو جگر دماغ کو بار بار بھوک کا سگنل بھیجتا ہے۔


جلدی مسائل:
اگر آپ کی جلد خشک اور جھریوں سے بھر رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم پانی طلب کررہا ہے ۔جب پانی کی کمی ہوتو جلد خشک اور پرت دار ہونے لگتی ہے۔
پسینہ نہیں آتا:
اگر جسم میں پانی کی کمی ہو گی تو جسم باقی ماندہ سیال بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں گرمی میں بھی پسینے کا اخراج تھم جاتا ہے ،یہ ایک سنگین عارضہ ہے ایسا ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے۔


کھڑے ہونے پر سر چکرانا:
طبی ماہرین کے مطابق کھڑے ہونے پر سر چکرانا یا ہلکا پن اس بات کی علامت ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہورہی ہے ،اگر ایسا ہوتو دن میں کچھ گلاس پانی زیادہ پینا چاہیے۔
مسلز اکڑنا:
اگر صبح اٹھنے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں اکڑن اور تناؤ محسوس ہوتو یہ بھی پانی کی کمی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔


ہر وقت سر درد رہنا:
مستقل سر درد ممکنہ طور پر اس بات کی علامت ہے کہ ڈی ہائیڈریشن ہورہی ہے۔
گہرے رنگ کا پیشاب:
پانی کی کمی کا ایک بڑا اشارہ پیشاب کی رنگت کا بدل جاناہے اور پیشاب کا معمول سے بہت زیادہ زرد یا پیلے رنگ کا ہونا ہے۔
قبض کی شکایت:
مسلسل قبض کی شکایت بھی پانی کی کمی کی ایک علامت ہو سکتی ہے جس کا حل پانی کا استعمال بڑھا دینا ہو سکتا ہے ،کیونکہ ایسا کرنے سے آنتوں کوکام کرنے میں مدد ملتی ہے۔


ہر وقت تھکاوٹ:
مناسب نیند کے باوجود اگر دن بھر تھکاوٹ ہوتو اس کی ایک وجہ ڈی ہائیڈریشن ہوسکتی ہے،جسم میں پانی کی مناسب مقدار حواس کو چوکنارکھتی ہے اور توانائی بھی فراہم کرتی ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-06-01

Your Thoughts and Comments