Joshanda - Qudrat Ki Hikmat - Article No. 2049

جوشاندہ قدرت کی حکمت - تحریر نمبر 2049

بدھ جنوری

Joshanda - Qudrat Ki Hikmat - Article No. 2049
زہرہ ناصر
برصغیر میں موسمی بیماریوں سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور اس ضمن میں جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ جوشاندہ استعمال کرنے کی روایت برسوں سے چلی آرہی ہے۔چند برس پہلے تک لوگ ایلو پیتھک طریقہ علاج ہی کو اختیار کرتے تھے۔ سردیوں کی آمد سے پہلے ہی ٹھنڈے پانی سے پرہیز،Vicks جیسی Ointment کا استعمال اور چکن کارن سوپ یا یخنی کا استعمال شروع کر دیا جاتا تھا۔

متورم آنکھیں،بہتی ناک،گلے کی سوزش،کھانسی یا بخار آنے تک بیشتر خاندان بچوں کو اینٹی بائیوٹکس اور ادویات کا استعمال شروع کرا دیتے ہیں مگر ٹھہریئے،کیوں نا موسم کی شدت اور نقصان سے بچنے کے لئے کچھ گھریلو مگر محفوظ چٹکلے آزما لئے جائیں تاکہ کنبے کے ہر فرد کی قوت مدافعت قائم رہے۔

(جاری ہے)


حکمت کے راز جاننا ضروری ہیں
کبھی کبھی تیز خوشبو اور بدبو بھی الرجی کر سکتی ہے اسی لئے ماسک کا استعمال ہمیں محفوظ رکھتا ہے۔

اگر آپ بازاری جوشاندہ نہیں لینا چاہتے تو گھر میں ادرک،الائچی،لونگ،سیاہ مرچ کے ساتھ قہوہ تیار کرکے پی سکتے ہیں۔یہی قہوہ بچوں کی صحت کے لئے بھی اکسیر رہتا ہے۔یہ جوشاندہ اگر کڑوا محسوس ہو تو تھوڑا سا شہد ملا کر اس کی افادیت بڑھائی جا سکتی ہے۔کراچی میں رہنے والے لوگ ناظم آباد،صدر اور گزری کے پنساریوں سے تلسی،ملیٹھی،سپستان،منقے،بنفشہ کے بیج اور عناب لے کر اپنے گھر میں خود جوشاندہ تیار کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی یہ جڑی بوٹیاں مقامی بازاروں میں دستیاب ہیں۔
جوشاندے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ جڑی بوٹیوں اور چند مصالحہ جات کو ابال کر چھان لیا جائے اور اسے سادہ یا میٹھا کرکے گھونٹ گھونٹ پیا جائے۔اس طرح نیم گرم حالت میں پی لینے سے سینے پر بلغم نہیں رہتا۔ناک کھلی رہتی ہے۔آنکھوں سے پانی بہنا رک جاتا ہے۔ فلو،سردی کا لگنا اور گلے کی خراش میں یہ طریقہ علاج انتہائی محفوظ کہا جاتا ہے۔

بازار میں دستیاب جوشاندے میں پیپر منٹ،Vasaka (محفوظ چائے خشخاش،یوکلپٹس کا تیل،سونف کے عرق اور سوڈیم،بینزویٹ جیسے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔لیکن اگر آپ مزید احتیاط کرنا چاہیں تو 4 گرام منقیٰ،2 گرام Khatmi Seeds،4 گرام سپستان،6 گرام ملیٹھی،2 گرام Khubbazi Seeds،2 گرام بنفشہ،4 گرام عناب (Jujuba) اور دو گرام بہی دانہ آٹھ پیالی پانی میں چند گھنٹے کے لئے بھگو دیں۔

پھر ہلکی آنچ پر چھ پیالی کے قریب پانی ڈال کر پکا لیں۔ اگر آپ کو ان اجزاء میں کسی ایک سے الرجی ہے یا آپ رغبت سے نہیں استعمال کر سکتے تو اسے شامل نہ کریں۔
باقی تمام اجزاء صحت بخش ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے ضمنی اثرات نہیں ہوتے۔تادیر ان کی افادیت بھی برقرار رہتی ہے۔بچپن میں آپ میں سے کئی افراد نے صبح و شام نیم گرم پانی سے غرارے کئے ہوں گے۔

غذاؤں میں شہد،میوہ جات،کلونجی اور یخنی کو شامل کیا ہو گا۔یہ نسل در نسل آزمائی ہوئی تراکیب ہیں جن کے استعمال سے سانس لینے میں دشواری جاتی رہتی ہے۔نزلے اور گلے کی خرابی بھی درست ہوتی ہے۔ گلے کی تکلیف کے لئے شہتوت کے پتوں اور خشک دھنیے کو ابال کر غرارے کرنا مفید ہے۔
حکمت کی دیگر ادویات جو یونانی مکتبہ فکر کے تحت تیار کی جاتی ہیں ان میں شہتوت عناب اور خمیرہ ابریشم شامل کیا جاتا ہے۔

یہ ادویات بھی موٴثر اور محفوظ ترین انتخاب ہوتی ہیں۔موسمی الرجی سے بچاؤ کے لئے نیم گرم پانی میں شہد ملا کر پینے سے بھی مرض پیچیدہ نہیں ہوتا۔اکثر سردیوں میں پودوں کے زیرہ گل سے حساسیت (الرجی) ہو سکتی ہے۔اس کیفیت میں ناک کی اندونی جلد متورم ہو جاتی ہے اور آنکھوں اور ناک سے پانی بہتا ہے۔بخار بھی ہو سکتا ہے۔بہتر ہے کہ ایسے حساس لوگ ایسے مقام پر چلے جائیں جہاں کی ہوا میں زیرہ گل موجود نہ ہو۔ جوشاندہ ایسے تمام عارضوں کا گھریلو علاج ہے۔طبیعت زیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-06

Your Thoughts and Comments