Kaale Kaale Singhare - Article No. 2342

کالے کالے سنگھاڑے - تحریر نمبر 2342

جمعرات 6 جنوری 2022

Kaale Kaale Singhare - Article No. 2342
ان کی سیاہ رنگت پر نہ جائیں یہ اصل پھل کے غلاف یا چھلکے ہی تو ہیں جنہیں بعد ازاں ضائع ہی کر دینا ہوتا ہے۔سردیوں کی یہ سوغات ان دنوں ٹھیلوں پر خوب بک رہی ہے۔ان کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے اور یہ معدے کی گرمی کو دور کرتے ہیں۔سردیوں میں معدے کی گرمی کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں جن میں پائے،نہاری،حلوہ جات اور میوے کے علاوہ چائے اور کافی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے اور اگر خدا نخواستہ آپ بیمار رہے ہوں تو اینٹی بایوٹکس اور دوسری ادویات کے مسلسل استعمال سے بھی معدے میں حرارت بڑھتی ہے۔


سنگھاڑے کھارے اور میٹھے دونوں قسموں کے ہوتے ہیں۔آیئے ان کی غذائیت پر غور کر لیا جائے۔
مختلف وٹامنز کے علاوہ ان میں معدنی ذرات مثلاً آئرن،پوٹاشیم،کیلشیم،زنک اور فائبر موجود ہیں۔

(جاری ہے)


کیلوریز کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے جبکہ پروٹین،وٹامن B اور کاپر کے علاوہ میگنیزیئم بھی موجود ہے۔
یرقان دور کرنے میں مفید ہے۔
تھائی رائیڈ کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں گلے کی سوزش بھی دور کرتا ہے۔


ہائی بلڈ پریشر میں بھی کارآمد ہے۔پوٹاشیم ایسا معدنی ذرہ ہے جو جسم میں خون کے بہاؤ کو رواں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض بھی سنگھاڑے کھا سکتے ہیں۔یہ بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے۔
جراثیم کش خصوصیات کے حامل سنگھاڑے پولی فینولک اور فلیوونائیڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذا ہے۔یہ بیکٹیریا اور وائرس کا خاتمہ کرکے صحت برقرار رکھتے ہیں اور Urine کے انفیکشن،وائرل سوجن اور تھکاوٹ کے علاوہ نیند کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

سنگھاڑے کو بھاپ میں پکایا جاتا ہے۔زیادہ پانی میں اُبالا نہیں جاتا ورنہ اس کے فوائد نہیں رہتے۔
یہ قلب دوست پھل ہے۔وزن قابو میں رکھتا ہے۔حالانکہ 100 گرام سنگھاڑوں میں 97 کیلوریز موجود ہیں مگر چکنائی موجود نہیں۔یہ کینسر کا بھی دفاع کرتا ہے۔کیونکہ اس کا اینٹی آکسیڈنٹس (مانع تکسیدی اجزاء) زائد مقدار میں جسم کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
کمال کی بات تو یہ بھی ہے کہ اگر آپ افسردہ یا غمزدہ ہوں تو سنگھاڑے کھا کر تھکن اور اضمحلال کی کیفیت ختم ہونے لگتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2022-01-06

Your Thoughts and Comments