بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتکمزور ہڈیاں

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کمزور ہڈیاں
مضبوط بنانے کیلئے کیلشیم سے بھرپور خوراک لیں
انسان جب جوان ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں بخوبی کام کررہے ہوتے ہیں تو اسے خیال بھی نہیں آتا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب اس کی کمر جھکنے لگے گی‘توانائی ساتھ چھوڑجائے گی اور ہڈیاں چٹخنے لگیں گی۔بڑھاپے میں کمزور اور بوسیدہ ہڈیاں بھی جان کاعذاب بن جاتی ہیں،لیکن مختلف طریقوں سے ہم اپنی ہڈیوں کی مضبوطی کوقائم رکھ سکتے ہیں اور بوسیدہ ہڈیوں کی بیماری یعنی بوسیدگی استخواں Osteoporosis)سے بچ سکتے ہیں ۔بوسیدگی استخواں میں ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں اور بہ آسانی ٹوٹ جاتی ہیں۔جب اس مرض کی ابتداہوتی ہے تو اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی ہڈی کے ٹوٹنے پر اس بیماری کاپتا چلتا ہے۔بوسیدہ ہڈیوں کے باعث زیادہ ترکلائی کولھے اور ریڑھ کی ہڈی میں شکستگی ہوتی ہے۔آئیے اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہڈیوں کومضبوط بنانے اور بوسیدگی استخواں کاراستہ روکنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ مچھلی کھائیے اور دودھ پیجیئے ان دونوں چیزوں میں کیلشیئم ہوتا ہے جوہڈیوں کومضبوط بناتا ہے۔چکنائی نکلا یاکم چکنائی والا دودھ استعمال کیجئے۔مچھلی میں روغنی مچھلی کاانتخاب کیجئے کیوں کہ اس میں پایا جانے والا کیلشیم جسم میں بہتر طرح سے جذب ہوتا ہے۔کیلشیم کے حصول کاایک اچھا ذریعہ ہرے پتوں والی سبزیاں بھی ہیں۔ اگر غذا سے کیلشیم کی مطلوبہ مقدار حاصل نہ ہوسکے تو اسے گولیوں یادیگر مصنوعات سے پورا کیجئے لیکن یہ خیال رکھیے کہ دن بھر میں یہ مقدار دو ہزار ملی گرام سے نہ بڑھے۔یہ بھی یادرکھے کہ میگ نیزئیم بھی ہڈیوں کے لیے مفید بلکہ ضروری ہے۔اس کے علاوہ وٹامن ڈی اور جست بھی اہم ہے۔وٹامن ڈی دھوپ سے بھی حاصل ہوتی ہے۔اسے حاصل کرنے کے دیگر ذرائع روغنی مچھلی انڈاور مارجرین ہیں۔ انہیں اپنی غذا میں مناسب طریقے سے شامل کیجئے۔ ہڈیوں کومضبوط بنانے کے لیے ورزش بھی اہم ہے۔ٹینس‘اسکواش‘باسکٹ بال اور تیز دوڑ سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔وزن اٹھانے سے ہڈیوں پربوجھ پڑتا ہے جو اچھا اثرڈالتا ہے۔ہفتے میں تین چار بار آدھے آدھے گھنٹے ورزش کیجئے۔ تمباکونوشی ترک کردیجئے۔عورتوں میں تمباکو نوشی اکثر جلد سن یاس کاباعث بن سکتی ہے جس کی وجہ سے بوسیدگی استخواں کاخطرہ ان کے لیے بڑھ جاتاہے۔ نمک اور کیفین کااستعمال کم کیجیے۔ہماراجسم کیلشیم کی جومقدار جذب کرتاہے یہ دونوں اشیاء اس پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ بوسیدگی استخواں میں موروثی اثرات کابھی دخل ہوسکتا ہے۔چنانچہ جن عورتوں کی ہڈیاں چھوٹی اور کم گنجان ہوتی ہیں یاجن کے خاندان میں یہ بیماری چلی آرہی ہوا ن کے لیے اس کاخطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔بعض اوقات ہڈیوں کی صحت پر کچھ دوائیں بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر جو لوگ دمہ الرجی یاجوڑوں کی تکلیف کے لیے بہت زیادہ مقدار میں کورٹی کوسٹیرائڈز استعمال کرتے ہیں ان کے لیے بوسیدگی استخواں کاخطرہ بڑھ جاتا ہے۔بوسیدگی استخواں سے محفوظ رہنے میں ہمارے طرز زندگی کوبھی دخل ہے۔بہرحال زندگی میں اعتدال قائم رکھ کر ہم اس بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ علاج:بوسیدہ ہڈیوں اور جسمانی کمزوری کے لئے عام طور پر ہم میڈیکیٹڈ کیلشیم استعمال کرتے ہیں اس کاکوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس کازیادہ ترحصہ بذریعہ پیشاپ خارج ہوجاتاہے اور اس کابیشتر حصہ گردوں میں جاکرپتھری کاباعث بنتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے