بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتکیلا کھایئے، صحت مند رہیے

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیلا کھایئے، صحت مند رہیے
کیلے میں پوٹاشیئم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چناں چہ جو افراد پابندی سے کیلا کھاتے ہیں، ان کی موت کے امکانات بیس فیصد گھٹ جاتے ہیں
مریم مرتضیٰ :
لوگ کیلا رغبت سے کھاتے ہیں ، اس لیے کہ میٹھا ہوتا ہے۔ اسے کھانے کا سب سے سہل طریقہ یہ ہے کہ چھیل کر کھا لیجئے۔ اگر چاہیں تو دودھ میں ملا کر گرائنڈر میں ڈالیں اور دو چمچے چینی کی آمیزش کرکے شیک بنا لیجئے۔ گھر کے علاوہ اب یہ دعوتوں میں بھی کھایا جاتا ہے۔ کیلے میں پوٹاشیئم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ چناں چہ جو افراد پابندی سے کیلا کھاتے ہیں، ان کی موت کے امکانات بیس فیصد گھٹ جاتے ہیں۔
دل کا بہترین دوست: کیلے میں چوں کے کیلسیئم ہوتا ہے ، چناں چہ یہ دل کے لیے بے حد مفید ہے ۔ بلڈ پریشر کو نہیں بڑھنے دیتا اور فالج ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے پیلے چھلکے کے نیچے بہت سے فائدے پوشیدہ ہیں۔ معالجین کا کہنا ہے کہ آپ سوڈیئم کم کھائیں، لیکن پوٹا شیئم زیادہ ۔ کیلے میں ریشہ ، حیاتین ج اور ب 6 (وٹامنز سی اور بی6)بھی ہوتی ہیں، اس لیے دل کو تقویت دیتا ہے۔
توانائی بخش: کیلا کھانے کے بعد آپ جسم میں توانائی محسوس کریں گے، لہٰذاکوئی ورزشی کام شروع کرنے سے قبل دو کیلے کھا لیجئے، تاکہ آپ کے جسم میں شکر کی سطح بڑھ جائے، اس لیے کہ جب ہم کوئی ورزشی کام کرتے ہیں تو شکر خرچ ہوتی ہے۔ کیلا کھانے سے عضلات اور خاص طور پر رات کو ہونے والا ٹانگوں کا کھچاؤ ختم ہوجاتا ہے۔
خوشی دینے والا پھل: کیلا کھانے کے بعد آپ خوشی محسوس کرتے ہیں،اس لیے کہ آپ کے اضملال وافسردگی(ڈپریشن)دور ہوجاتی ہے۔ کیلے میں”ٹرپٹوفین“ ہوتا ہے جو ”سیروٹونن“ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ سیروٹونن دماغ تک خوشی کی لہر روزانہ کرتا ہے، لہٰذا آپ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ زمانہٴ حمل میں خواتین صبح کے وقت کسلمندی محسوس کرتی ہیں، کیلا کھانے سے یہ دور ہوجاتی ہے۔
ذہنی دباؤ دُور ہوجاتا ہے: کیلا کھانے سے پوٹاشیئم کی اچھی مقدار آپ کے جسم میں پہنچ جاتی ہے تو دل کی دھڑکنوں میں توازن پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طریقے سے آپ کے دماغ تک او کسی جن کی مناسب مقدار پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم میں پانی کی مقدار میں بھی توازن رکھتا ہے۔ کیلا کھانے سے ہضم وجذب کا نظام بھی درست رہتا ہے۔ جب یہ شکایتیں دور ہوجاتی ہیں تو آپ کے ذہن میں کوئی دباؤ نہیں رہتا۔
چاق چوبند رہنے کے لیے: جب آپ امتحان دینے جارہے ہوں یا آپ کو انٹرویو دینا ہوتو کیلے ضرور کھائیں۔ آپ کے جسم میں پوٹاشیئم کی سطح میں اضافہ ہوجائے گا۔ چناں چہ آپ چاق وچوبند اور تیز طرار ہوجائیں گے۔
پیٹ کی خرابیوں کو دور کرتا ہے: کیلے میں ہاضم خامرے(انزائمز)ہوتے ہیں۔ چناں چہ یہ ہاضمہ درست رکھتا ہے اور جسم سے زہریلے مادّے اور نقصان دہ معدنیات کو نکال دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کو قبض ہویا اسہال کی شکایت ہو، کیلا دونوں صورتوں میں مفید ہے۔ اس کے علاوہ ہاضمے میں اگر کوئی گڑبڑ ہوتو اسے بھی درست کردیتا ہے۔ معدے اور آنتوں میں پائے جانے والے مفید جراثیم کا یہ دوست ہے، اسی لیے سینے کی جلن ، معدے کے زخموں اور زہریلے مادّوں کو ختم کرکے آپ کو سکون پہنچاتا ہے۔
ڈائٹنگ میں کیلا کھایئے: اگر آپ وزن کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ کررہے ہوں اور کوئی میٹھی چیز بھی کھانا چاہتے ہوں تو کیلا کھایئے۔ کیلے میں حرارے(کیلوریز) کم ہوتے ہیں اور اس میں حل پذیر ریشہ ہوتا ہے۔ چناں چہ آپ کا ہاضمہ درست رہتا ہے اور آپ مطمئن رہتے ہیں۔
بصارت کے لیے مفید: کیلے میں ابتدائی درجے کی حیاتین الف (وٹامن اے)اور بیٹا کیروٹین ہوتی ہے، جو روشنی کو قرنیے تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔ ان سب فائدوں کے علاوہ کیلا مجموعی طور پر صحت بخش ہے ، اس لیے کہ اس میں حیاتین ج (وٹامن سی)ہوتی ہے اور یہ آزاد اصلیوں(فری ریڈیکلز)کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے، جو سرطان پیدا کردیتے ہیں۔ کیلے میں فولاد بھی ہوتا ہے، اس لیے جسم میں ہیمو گلوبن پید ا کرتا ہے ، جس سے ہڈیاں مضبوط ہوجاتی ہیں۔ گرمیوں میں کیلا کھانے سے جسم کا درجہٴ حرارت کم ہوجاتاہے تو ہمیں فرحت محسوس ہوتی ہے۔ بخار ہونے پر اگر کیلا کھایا جائے تو جسم کی حدّت کم ہوجاتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے