بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتکیلا۔ صحت بخش پھل

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کیلا۔ صحت بخش پھل
گرم ممالک میں پیدا ہونے والے پھلوں میں کیلا بہت مقبول ہے۔ چوں کہ یہ غذائیت سے بھرپور اور ذائقے میں لذیدہوتاہے، اس لیے ہرخاص وعام اسے پسند کرتاہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کواسے اپنی غذایں ضرورشامل کرنا چاہیے۔
گرم ممالک میں پیدا ہونے والے پھلوں میں کیلا بہت مقبول ہے۔ چوں کہ یہ غذائیت سے بھرپور اور ذائقے میں لذیدہوتاہے، اس لیے ہرخاص وعام اسے پسند کرتاہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کواسے اپنی غذایں ضرورشامل کرنا چاہیے۔
کیلے کے پودے یوں توستمبر اور اکتوبر میں اُگائے جاتے ہیں، مگراب یہ سارا سال بھی کاشت کیے جا سکتے ہیں، اس لیے کیلاہرموسم میں بہ آسانی دست یاب ہوتاہے۔ کیلابیج سے نہیں قلم سے اُگایاجاتاہے۔ اس کی جڑلے کرمٹی میں دبادی جاتی ہے۔ جب اس میں قوت نموپیداہوتی ہے تویہ زمین سے پھوٹ کر اُفقی انداز میں پھیلتی ہے۔ پھراس میں سے ننھا پودا پھوٹتاہے۔ پودے کے بارآورہونے پراس پھولوں کے گچھے بھی لگتے ہیں، جو سرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ پھول کچھ مدت کے بعد پھل بن جاتے ہیں۔
کیلا غذائیت بخش ہے۔ کیلے کی سوگرام مقدار میں درج ذیل مفید اجزاہوتے ہیں: پروٹین اء اگرام، چکنائی۲ء۰ گرام نشاستہ ۲۲ گرام(فرکٹوس، گلوکوس، سکروز، سیلولوس اور پیکٹن)۔ اس کے علاوہ اس میں چند معدنیات، مثلاََ پوٹاشئیم، کیلسئیم، فولاد، فاسفیٹ، تانبا، جست اور میگینزیئم بھی پائی جاتی ہیں۔ کیلے میں حاتین الف، ب ا،ب ۲، ب۲، ب۹، ج، د، ھ اورپ (وٹامنزاے، بی ا، بی۲، بی۶، بی۹، سی، ڈی، ای اورپی)بھی ہوتی ہیں۔
کیلاجب تک پک نہیں جاتا، سبزرنگ کاہوتاہے۔ اس وقت اس میں ایک فی صدشکراور ۲۰ فیصد نشاستہ ہوتاہے۔ جب کیلاپک جاتاہے تواس میں نشاستہ محض ایک فیصداور شکر۲۰ فیصد ہوجاتی ہے۔ کچے کیلے کو پودے سے اُتار کرپکنے کے لیے گوداموں میں محفوظ کردیاجاتاہے۔ کچے کیلے کو ۵ سے ۱۰ درجے حرارت پراور۸۰ سے ۹۰ فیصدنمی میں ۱۵ روزتک محفوظ رکھاجاسکتاہے۔ جب کیلے کوگوداموں میں محفوظ کیاجاتا یا برآمد کرنے کے لیے جہاز میں لاداجاتاہے تواسے ایتھائی لین (Ethylene) گیس سے گزارجاتا ہے، تاکہ یہ پک کرکھانے کے قابل ہوجائے۔ پکے ہوئے کیلے کووقت خائع کیے بغیر کھالینا چاہیے۔ پہلے زمانے میں کیلے کودوردراز علاقوں میں پہنچانادشوار ہوتاتھا، اس لیے کہ ذرائع وحمل محدود تھے، مگر اب یہ آسانی سے ہرجگہ پہنچادیاجاتاہے۔
کیلے کوریفریجریٹر میں نہیں رکھنا چاہیے، ورنہ یہ جلد سیاہ پڑجاتاہے۔ اسے مناسب درجہ حرارت پرکاغذ کے کسی تھیلے میں رکھنا چاہیے۔ کیلے کاشیک بھی بناکرپیاجاتاہے۔ جلد کی حفاظت کے لیے بننے والی مصنوعات میں کیلا استعمال کیاجاتاہے۔ اقوام متحدہ کے زراعی ادارے کے مطابق 1995ء میں کیلے کی پیداوار ساڑھے پانچ سے چھے کروڑٹن سالانہ تھی، جب کہ اس وقت اس کی پیداوارنوسے دس کروڑ ٹن ہوچکی ہے۔ کیلے کی 25فیصد پیداوار ہندستان میں ہوتی ہے، جب کہ باقی فلپائن، چین، برازیل اور ایکواڈورمیں ہوتی ہے۔
کیلے کے فائدے:
کیلا بہت سی بیماریوں سے بچاتاہے۔ بچوں کوابتدائی عمرمیں کیلے کاشیک بناکرپلانا چاہیے، کیوں کہ یہ ہڈیوں کومضبوط کرتاہے۔ یہ بڑھتی ہوئی عمرکی رفتار کوکم کردیتاہے۔ آنتوں میں زخم یاآنتوں سے خون آنے پر مریض کوکیلا کھلایاجاتاہے۔ کیلادل کے لیے مفید ہے اور جسم سے تیزابی مادوں کوخارج کرتاہے کیلے میں چوں کہ فولاد ہوتاہے، اس لیے جوافران خون کی کمی کاشکار ہیں، انھیں روزانہ کیلے کھانے چاہییں۔ کیلے میں ایک مفیدجزوسیروٹون (Serotonin) ہوتاہے، جوکھانے والے کے مزاج کو شگفتہ رکھتااور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتاہے۔ ایام کے دنوں میں خواتین کوجوتکلیف ہوتی ہے، کیلا اسے دورکرتاہے۔ یہ توانائی سے بھرپور ہوتاہے، اس لیے اعصاب کوتقویت دیتااور مدافعتی قوت میں اضافہ کرتاہے۔ اس میں میگنیزیئم اور پوٹاشیئم بھی ہوتاہے، اس لیے اسے کھانے سے اچھی نیند آتی ہے۔
کیلے میں شامل نشاستے سے خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے، لیکن یہ دماغی توانائی میں اضافہ کرتااور مرکزی اعصابی نظا کومضبوط بناتاہے ۔ کیلاچوں کہ خون میں شکر بڑھاتاہے، لہٰذا اسے زیادہ نہیں کھانا چاہیے اور مناسب وقت پرکھانا چاہیے۔
کیلے میں بیٹاکیروٹین (Beta-Carotene) وافرمقدار میں ہوتی ہے۔ بیٹاکیروٹین جسم کے آزاد اصلیوں (Free Radicals) کے اثرات کوزائل کردیتی ہے۔ کیلاسرطان سے محفوظ رکھتاہے۔ اگر کیلے کو حیاتین اورھ(وٹامن سی اور ای) کے ساتھ کھایاجائے توزیادہ فائدہ پہنچتاہے۔ کیلے میں ریشے کی مقدارزیادہ ہوتی ہے، اس لیے یہ آنتوں کے لیے مفید ہے اورآنتوں کوسرطان سے محفوظ رکھتاہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے