Khalis Honey

خالص شہد

جمعہ دسمبر

Khalis Honey
کہتے ہیں کہ جب شہد کی مکھیاں کسی پھول کا رس چوستی ہیں تو اس میں مٹھاس کم ہو جاتی ہے اور پانی کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔یہ مٹھاس مختلف قسم کی مٹھائیوں سے مل کر بنتی ہے۔یہ تمام شہد کی مکھی اپنے جسم کی تھیلی میں ڈالتی ہے مختلف ہاضم رطوبتیں اس پر کیمیائی عمل کر دیتی ہیں یوں یہ دوا اہم مٹھاسوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
عام طور پر شہد کی دو قسمیں ہوتی ہیں جما ہوا شہد اور پگھلا ہوا شہد اور ان دونوں کا رنگ زردی مائل،دو دھیا اور بھورا ہوتاہے۔

یوں تو دور حاضر میں کسی چیز کا خالص ہونا مشکل ہے مگر پاکستان میں متعدد ادارے خالص شہد تیار کرتے ہیں۔خالص شہد کی پہچان کرنی ہوتو روئی کے ٹکڑے کو شہد میں تر کر کے آگ لگائیے۔یہ اگر اصلی ہوگا تو فوراً آگ لگے گی اور اگر تڑ تڑکی آواز پیدا ہوتو ناقص ہو گا۔

(جاری ہے)

شہد کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ برتن صاف ستھرا ہو اور شیشے کا جار استعمال کیا جائے۔

اگر بوتل ہوتو استعمال کے بعد بند کرکے رکھی جائے۔گیلا چمچ شہد کو نہ لگانا ہی بہترہے۔یہ تمام امراض میں مفید ہے۔اگر حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری کی جائے تو شہد کے استعمال سے بڑھا پا تاخیر سے آتاہے۔انسان کم عمر اور توانا نظر آتاہے۔چہرہ شاداب ،جلد تروتازہ اور آرائش وزیبائش بھی واضح نظر آتی ہے۔اسلامی نکتہ نظر سے بھی اسے اعلیٰ مرتبہ حاصل ہے۔

یہ بابرکت غذا ہے جس کا ذکر قرآن پاک اور احادیث میں آتاہے۔آج بھی دوائیوں میں شہد کا استعمال کیا جاتاہے۔
بالوں کو لمبا اور گھنا کرنا مقصود ہوتو زیتون کے تیل میں شہد ملا کر بالوں کی جڑوں میں لیپ کرنے سے بال مضبوط ہوتے ہیں۔کھانسی میں بھی مفید ہے۔خشک کھانسی میں شہد کی ایک ایک چمچ(چائے کی)دن میں تین بار چاٹ لینا چاہئے۔حلق کے ورم میں بھی مفید ہے۔

ٹی بی میں بھی افاقہ دیتاہے۔
جن نوجوان بچیوں اور خواتین کو خون کی کمی کی شکایت ہوتو انہیں نیم گرم دودھ میں دو چمچ شہد ملا کر استعمال کرنا مفید ہے۔ایک چینی سائنسدان کے مطابق انسانی جسم کو توانائی اور کمزوری رفع کرنے کے لئے جس چیز کی مقدار میں ضرورت ہے وہ شہد میں موجود ہے۔ان امراض کے علاوہ دماغی طاقت،نسیان ،نزلہ زکام ،جوڑوں کا درد،کیل مہاسے اور لکنت وغیرہ میں بھی شہد کھانا مفید ہے۔
انگلستان کی ایک ماہر غذائیت کا کہنا ہے کہ”مردوں کے لئے بہترین غذا شہد ہے۔بیویوں کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہروں کو شہد کھلایا کریں۔یہ غذا بھی ہے اور دوا بھی۔“
تاریخ اشاعت: 2019-12-20

Your Thoughts and Comments