Khana Aitdaal Se Khayiyae

کھانا اعتدال سے کھائیے!

Khana Aitdaal Se Khayiyae

مرض بھگائیے
ماہرین صحت کہتے ہیں کہ غذا سادہ کھاؤ اور جب تک پہلی غذا ہضم نہ ہو جائے ،دوسری غذانہ کھاؤ۔ایک کھانے کے فوراً بعد کچھ اور کھانے سے معدہ خراب ہو جاتا ہے ۔معدہ چونکہ ہمارے جسم کا انتہائی اہم حصہ ہے لہٰذااس کی خرابی بے شمار بیماریوں کو جنم دیتی ہے ۔اس بہت اہم نکتے کو ہم عام طور پر یاد نہیں رکھتے۔
کہا جاتا ہے کہ انسانی جسم میں تقریباً ہر بیماری کی بنیاد معدہ ہے۔

خراب معدہ کئی امراض کو حملے کی دعوت دیتا ہے۔
اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے”کھانے ہی سے تو ہمیں قوت ملتی ہے تو پھر زیادہ کھانے میں کیا مضائقہ ہے․․․؟“
اطبا کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ کھانا صریحا ً صحت کو نقصان پہنچانا ہے ۔ہم مختلف قسم کی غذائیں کھاتے ہیں جن کے ہضم ہونے میں مختلف وقت لگتا ہے ۔

(جاری ہے)

بعض غذائیں جلد ہضم ہو جاتی ہیں ،
بعض کو دیر لگتی ہے۔جن لوگوں کے معدے کمزور ہوں یا وہ بوڑھے ہوں ،انہیں ملکی یا جلد ہضم ہونے والی غذا کھانی چاہیے ۔جو ان اور صحت مند آدمی مرغن اور دیر ہضم اشیاء کھا سکتے ہیں لیکن قاعدے قرینے سے۔“
قدیم اطبا نے غذا ہضم ہونے کے سلسلے میں جو تجزیے کیے تھے ،جدید غذائی تحقیق بھی ان کی تصدیق کرتی ہے ۔

قدیم اور جدید معلومات کے مطابق سب سے ہلکی غذا ابلے ہوئے چاول ہیں لیکن یہ یاد رہے کہ ابالنے کے بعد چاول اپنی زیادہ تر غذائیت سے محروم ہو جاتے ہیں لہٰذا ساتھ دوسری غذائیت بخش غذا بھی کھانی چاہیے۔چاولوں کی کھچڑی بھی جلد ہضم ہونے والی غذا ہے۔
دیگر ایسی غذاؤں میں اراروٹ ،ساگودانہ،جو کا شوربا ،کچا انڈا،میٹھے اور پکے ہوئے پھل شامل ہیں ۔

ان کے ہضم ہونے کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو گھنٹے ہے۔
یہاں لوگوں کی سہولت کے لیے مختلف غذاؤں کے ہضم ہونے کے اوقات کا چارٹ شائع کیا جارہا ہے تا کہ موٹے افراد اس سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے بسیار خوری سے بچ سکیں۔اس طرح یہ لوگ کئی امراض سے محفوظ رہیں گے۔
سب سے دلچسپ اور مرحلہ وار دورانیہ ہضم انڈے کا ہے ۔کچا انڈہ پھینٹ کر استعمال کریں ،تووہ دو گھنٹے میں ہضم ہوتا ہے ۔

اگر نیم برشت (ہاف بوائل)کھائیں تو ڈھائی گھنٹے کا عرصہ لگے گا۔سخت ابلا ہوا ہونے کی صورت میں ساڑھے تین گھنٹے صرف ہوں گے۔تلنے کی صورت میں بھی ساڑھے تین گھنٹے لگتے ہیں اور اگر زیادہ گھی میں تلا گیا ہو،تو پھر اس کے ہضم ہونے میں چار گھنٹے لگیں گے۔
پھلوں کے بارے میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔ہمیشہ ٹھیک طرح پکے ہوئے پھل کھائیں۔سخت اور کچے ثقیل ہوتے اور ہضم ہونے میں تین ساڑھے تین گھنٹے لگاتے ہیں ۔

سیب کو ہضم ہونے کے لیے دو گھنٹے چاہئیں ۔ابلی ہوئی سبزیاں اڑھائی گھنٹے میں جبکہ پکی ترکاری ساڑھے تین گھنٹے میں ہضم ہوتی ہے ۔دال ہضم ہونے میں اڑھائی گھنٹے کی مدت لیتی ہے۔گندم کی خمیری روٹی سواتین گھنٹے ،باجرہ ،مکئی اور جوار کی روٹی بھی ساڑھے تین گھنٹے میں ہضم ہوتی ہے۔
بکری کے گوشت کا شوربہ تین گھنٹے اور بھنا ہوا گوشت سواتین گھنٹے میں ہضم ہو تا ہے ۔

مختلف قسم کے کباب بھی ہضم ہونے میں مختلف وقت لیتے ہیں ۔مثلاً بھیڑ کے گوشت کے کباب ڈھائی گھنٹے،مچھلی اور تیتر کے تین گھنٹے ،بکری کے گوشت کے سواتین گھنٹے،مرغ اور گائے کے گوشت کے کباب ساڑھے تین گھنٹے اور مرغابی کے کباب ساڑھے چار گھنٹے میں ہضم ہو تے ہیں ۔مکھن ساڑھے تین گھنٹے اور گھی چار گھنٹوں میں ہضم ہو تا ہے۔
آلو تین گھنٹے تیس منٹ ،تلا ہوا انڈا تین گھنٹے تیس منٹ ،مرغ کا گوشت تین گھنٹے پینتالیس منٹ ،مرغ کے کباب چار گھنٹے ،بھنا ہوا گائے کا گوشت تین گھنٹے تیس منٹ ،پکی ہوئی ترکاریاں تین گھنٹے تیس منٹ ،
ابلے چاول ایک گھنٹہ تین منٹ ،دال مونگ دو گھنٹے تیس منٹ ،گیہوں کی روٹی تین گھنٹے تیس منٹ ،ابلی ہوئی سبزپھلیاں تین گھنٹے تیس منٹ ،گاجر تین گھنٹے تیس منٹ ،بند گوبھی چار گھنٹے تیس منٹ،مکھن تین گھنٹے تیس منٹ ،ابلا انڈا تین گھنٹے تیس منٹ ،بکرے کا گوشت تین گھنٹے پندرہ منٹ ،گوشت کے کباب چار گھنٹے ،مچھلی کباب تین گھنٹے ،پلاؤ تین گھنٹے پینتالیس منٹ ،چقندر تین گھنٹے تیس منٹ ،دال ماش دو گھنٹے پینتالیس منٹ ،دودھ دو گھنٹے ،شلغم تین گھنٹے تیس منٹ ،پھول گوبھی چار گھنٹے تیس منٹ ،گھی چار گھنٹے ،
سیب دو گھنٹے تیس منٹ۔


موٹاپا
بائے بائے!
خوبصورت اور اسمارٹ نظر آنا ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے مگر موٹاپا شخصیت اور اعتماد کو بری طرح متاثر کرتا ہے ۔موٹاپا اکثر غلط غذائی عادات کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ہر موٹا شخص سوچتا ہے کہ اب چاہے کچھ بھی ہوجائے ،وہ کل سے اپنی ڈائیٹنگ اور ایکسرسائز شروع کر دے گا لیکن کچھ بے احتیاطی اسے دُبلا ہونے نہیں دیتیں۔
ڈائیٹنگ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اگر موٹاپا دور کرنے کے لیے کھانے پینے پر کنٹرول نہیں کیا جائے تو آپ لاکھ کو شش سے بھی پتلا ہونا ممکن نہیں ،اگر کوئی شخص موٹاپے میں کمی کاخواہش مند ہے تو اسے ان پانچ عادات کو بدل لیں،نہیں تو وہ کبھی بھی اسمارٹ نہیں ہو پائے گا ۔


روز میٹھا کھانا مفید نہیں ہے ،آج کل لوگوں کو اتنا میٹھا کھانے کی عادت پڑ چکی ہے انہیں روز مرہ کھانا کھانے کے بعد کچھ نہ کچھ میٹھا چاہیے ۔کھانے کے بعد پیش کیے جانے والے ڈیزٹ میں کئی گنا شوگر موجود ہوتی ہے ،یہ میٹھے چاہیں دن میں کھائیں یا رات میں کھائیں ،میٹھا کھانے سے موٹاپا تیزی سے بڑھتا ہے۔
ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا بھی درست نہیں ہے ۔

آفس میں بیٹھ کر دن بھر کچھ نہ کچھ کھاتی رہتی ہیں تو آپ کا پیٹ کبھی اندر نہیں ہو سکتا ،جگالی کسی بھی طرح کی ہو ،اگر آپ کو اسنیک کھانا ہی ہے تو آپ ریشہ یا پروٹین سے بھرے گھر کی بنی غذا کھائیے۔
کئی پھل بھی ہمیں اسمارٹ اور خوبصورت بنانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔
ذیل میں ایسے ہی چند پھلوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔
کھجور
کھجور اسمارٹ رہنے اور وزن کی کمی میں معاون ہے۔


کھجور قبض کے مسئلہ کو دور کرنے میں مدد کرتی ہے،یہ آنتوں کے نظام کو آسانی سے چلانے میں مدد کرتی ہے ۔یہ عمل انہضام کی طاقت کو سنبھالتی ہے اور میٹا بولزم میں اضافہ کرتی ہے ۔جس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے ،وزن کم کرنے کے لیے متوازن مقدار میں کھجور کا استعمال کرنا چاہیے،ورنہ وزن بڑھ بھی سکتا ہے۔
کھجور میں نکوٹن ہوتی ہے جو جسم کے عمل انہضام اور آنتوں کے مسئلہ کا علاج کرتی ہے ،کھجور جسم کے اچھے بیکٹیریا کو بڑھاتی ہے اور خراب بیکٹیریا کو ماردیتی ہے ۔

کولیسٹرول اور ٹرانس فیٹ دونوں ہی وزن بڑھانے والے عوامل ہوتے ہیں ،کھجور میں کولیسٹرول اور ٹرانس فیٹ نہیں ہوتا ،اس میں کئی قسم کے نیو ٹرینٹس پائے جاتے ہیں ،ساتھ ہی یہ کیلوری کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔
بھرپورڈائیٹ کے لیے کھجور فائدہ مند ہے ،کھجور خود ہی بھر پور میل ہے،اس لیے یہ زیادہ نہیں کھانے دیتی ،ڈائیٹنگ میں جولوگ کھانا بالکل ہی بند کر دیتے ہیں وہ وزن کم کرنے کے بجائے وزن بڑھالیتے ہیں۔


پپیتا
پپیتا،ایک ایسا پھل ہے کہ جو ڈائٹ کنٹرول کرنے کے علاوہ بھی بہت سارے طبی فوائد رکھتا ہے ۔ایک طبی تحقیق کے مطابق پپیتا وٹامن سی،فولیٹ ،پوٹاشیم،وٹامن اے ،ای اور کے سے بھر پور ہونے کے ساتھ ساتھ نظام انہضام کو بہتر بنانے میں معاون ہوتا ہے ۔ریشے سے بھر پور اور نسبتاً کم کیلوریز کے ساتھ پپیتا وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔


چکوترا
صرف بتیس کیلوریز اور ایک آدھے چکوترے میں صفر چربی کے فوائد کے ساتھ یہ سنگترے کی ایک ترش قسم وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہے ۔یہ غذائیت سے بھر پور ہے۔
بیر
بیر کو عام طور پر غذائیت سے بھر پور غذا جانا جاتا ہے ۔جن میں وٹامن ،معدنیات اور اینٹی آکسی ڈنٹ وافر مقدارمیں موجودہیں ۔اسٹرابیری ،بلوبیری ،بلیک بیریز اور رس بیریز ذائقے اور فائبر سے بھر پور ہونے کے باجود اور ساتھ ساتھ میٹھے اور بھوک کی کمی کو پورا کرتے ہوئے ۔

نہ تو بھاری پن لاتے ہیں اور نہ ہی وزن میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔
وزن کم کرنے کے علاوہ بھی بیرکے کئی فوائد ہیں ۔چھوٹے بیر انسان کو فائٹو نیتوٹرینٹ کی بہت زیادہ اور اہم مقدار فراہم کرنے کا موثر ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو ابھارنے میں معاون ہوتے ہیں۔
خربوزہ
ایک چھوٹے کپ میں میٹھا اور خوش ذائقہ خربوزہ صرف بچپن کیلوریز کے ساتھ موجود پھلوں میں بہترین انتخاب ہے ۔

اس میں بہت کم مقدار میں فیٹس اور سوڈیم موجود ہوتی ہے ،جبکہ اس میں فولیٹ نیاسن ،پوٹا شیم ،میگنیزیم ،وٹامن سی اور وٹامن اے کی وافر مقدار ہوتی ہے ،فائبر اور پانی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال بھوک پر کنٹرول اور وزن کو قابو میں رکھنے میں زیادہ مددگار ہے۔
سیب
روزانہ ایک سیب کا استعمال ڈاکٹر سے دور رہنے کے علاوہ اور بھی کئی اہم کام کرتا ہے ۔جن میں سے ایک وزن کم کرنے میں مدد دینا بھی شامل ہے ۔ایک عام سائز کا سیب بھوک کو کنٹرول کرنے کے علاوہ ایک انسان کی پندرہ فیصد فائبر کی ضروریات کو بھی پورا کرتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-05

Your Thoughts and Comments