Kiwi Fruit

کیوی فروٹ منفرد ذائقے وشفاء بخش خوبیوں سے بھر پور پھل

Kiwi Fruit
افشین حسین بلگرامی :
کیوی فروٹ یا چائینز گوژبیری (Gooseberry) یا رس بھری) نرم ورسیلے پھلوں کے گروپ میں شامل سب سے زیادہ غذائی اجزاء سے بھرپور پھل قرار دیا جاتا ہے۔ اسکا نباتاتی نام (Actinidia Chinensis) ہے۔ چین کایہ دیسی پھل چائنا کے اس خطے سے تعلق رکھتا ہے جو علاقہ کئی صدیوں سے علاقائی ووڈی وائن (Woody vine) کے لئے دنیابھر میں خصوصی شہرت رکھتا ہے۔

کیوی فروٹ کی یہاں کی علاقائی زبان میں ینگ ٹو (Yangtoo) کہا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے لمبے درختوں سے سجی اس وادی چین کے شمالی حصے (اُومازی شوان) Szechuan صوبے کے درمیان سمندری سطح سے 500-1200 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ منفرد لذت کا حامل یہ بدیسی پھل اپنی جنم بھومی سے نکل کر نیوزی لینڈ کی سر زمین تک (یہاں سے سفر کنے والے تاجروں ومسافروں کے ذریعے) پہنچا جہاں اس مزیدار ینگ ٹو فروٹ کوکیوی فروٹ (Kiwi Fruti) کا نام دیا گیا جو دنیا بھر میں اب اسی نام سے پہچانا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

چین کے اس بدیسی پھل کو اب دنیا کے بہت سے ممالک میں صنعتی بنیادوں پر کاشت کیا جا رہا ہے۔ جن میں اٹلی، آسٹریلیا، چلی، ایران اور فرانس وانڈیا وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں ۔ لیکن یہ امر قابل حیرت ہے کہ دنیا بھر میں اور کسی بدیسی پھل ن اتنے کم وقت میں شہرت وپسندیدگی کی معراج کو نہیں پایا ہے جتنی تیزی سے مقبولیت کیوی فروٹ کے حصے میں آئی ہے۔

خاص طور پر کمرشل کلٹی وشین یا صنعتی بنیادوں پر کاشت کے حوالے سے یہ بھی ایک ریکارڈ ہ کہ اتنی مختصر سی مدت میں اس مزے دار ولذیذ پھل نے ایک سودمند کا روباری پھل کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔
کیوی فروٹ کی بیرونی جلد کی رنگت زنگ کے یا خاکستری رنگ ایسی ہوتی ہے جبکہ اس کی ساخت روئیں دار، ظاہری شکل لمبوتری اور کناروں سے بیضوی ہوا کرتی ہے۔ اس کی بیرونی جلد یا چھلکے پر موجوباریک بھورے روئیں سوتی کپڑے سے رگڑنے سے بآسانی صاف ہو جاتے ہیں۔

اگر کیوی فروٹ کو درمیان میں سے دو برابر حصوں میں یا کراس سیکشن میں کاٹا جائے تو گودے کا وہ حصہ جو چھلکے کے قریب ہوگا تیز سبزجبکہ وسطی حصے تک جاتے جاتے گودے کی تیز سبزرنگت مدہم ہوتی چلی جائے گی اس کا درمیانی حصہ سفید گولائی پر مشتمل ہوتا ہے جس کے گرد سیاہ رنگ کے ننھے ننھے بیجوں کا اک گول حلقہ سابنا ہوتا ہے یہ بیج تعداد میں کئی درجن ہوا کرتے ہیں۔

یہ ایسا پھل ہے جسے چھلکے اور بیجوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ ہرے رنگ کے مختلف شیڈز سے سجے کیوی فروٹ کے درمیان ننھے سیاہ رنگ کے گول بیجوں کا حلقہ اس مزیدار پھل کو اک انتہائی دلکش منفرد خوبصورت انداز بخشا ہے ۔ نہ صرف اس پھل کی خوبصورتی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی منفرد ترشی ومٹھاس کا ایک مزیدار وانتہائی بہترین نمونہ ثابت ہوتا ہے۔

کیوی فروٹ کا ذائقہ اسٹرابیر ،رہو بارب(Rahubarb) اور گوژبیری سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔
کیوی فروٹ نہ صرف منفرد ذائقے و ساخت کی وجہ سے خصوصٰ شہرت کا حامل ایک بہترین پھل ہے بلکہ اس کے غذائی اجزا کی مفید اور بہترین طبی و شفاء بخش خوبیوں کی بنیاد پر بھی اس پھل کو فوڈایکسپرٹس خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اس میں وہ تمام صحت بخش اجزا کثیر تعداد میں موجود ہیں جو کسی بھی دوسرے پھلوں میں موجود ہوتے ہیں۔

صرف غذائی ریشے یا فائبر ہی کیوی فروٹ میں اتنی مقدار موجود ہے جتنی کسی اناج کے دلیے (بریک فاسٹ سیریلز)، کیلے، پپیتے یا مالٹے وغیرہ میں ہوا کرتی ہے۔ کیوی فروٹ خوردنی شکر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش معدنیات جیسے کہ پوٹاشیم، فاسفورس اور کیلشیم وغیرہ کی بھی بہترین رسد کا حامل پھل ہے۔
اس کے علاوہوٹامن Cاور Eکی بہرین مقدار سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک فائدہ مند لو کیلوری (low Calorie)فروٹ کی بھی حیثیت رکھتا ہے تاہم اقسام کے لحاظ سے اس میں اسکا ربک ایسڈ کی مقدار مختلف توازن میں موجود ہوسکتی ہے یعنی بعض اقسام کے کیوی فروٹس تیز ترشی مائل جبکہ اس کی کچھ اقسام نیم ترشی مائل اور قدرے شیریں بھی ہوا کرتی ہیں۔


کیوی فروٹی کے درخت کی لکڑی سخت ہوا کرتی ہے جبکہ دوسرے پھلدار درختوں کے مقابلے میں اس کے درخت میں کیڑا لگنے و مختلف موسمی و بناتاتی بیماریاں پھیلنے کے کطرات بھی صفر کے برابر ہوتے یہ۔ اس کی کاشت کیلئے 200سے 2000میٹر تک کی اراضی بھی کافی ہوا کرتی ہے۔ اس حقیقت سے کیوی فروٹ کے صنعتی لحاظ سے منفعت بخش پھل ہونے کا بخوبی اشار ہ ملتا ہے کہ محض معمولی توجہ و دیکھ بھال کر کے کیوی فروٹ کے لگائے ہوئے درختوں سے آپ 6-7سال بعد سالانہ پچاس سے ساٹھ کلو کیوی فروٹ کے حصول میں کامیابی حاصل کرلیں گے۔


کیوی فروٹ کی سالانہ فصل کے اسی (80%)فیصد حصے کو خام حالت ادھ پکی حالت میں ہی استعمال کرلیا جاتا ہے جبکہ بقیہ بیس فیصدی (20%)مقدار کو ویلیو ایٹڈ فوڈ پروڈکٹس جیسے کہ پیسٹریز، جام، جیلی، فروٹ پلپ و مشروبات و آئسکریم وغیرہ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-14

Your Thoughts and Comments