بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتماہ رمضان میں ۔۔۔۔ ڈائٹ پلان متوازن رکھیں

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ماہ رمضان میں ۔۔۔۔ ڈائٹ پلان متوازن رکھیں
کنسلٹنٹ ڈائیٹشن شیریں خان کامشورہ ہے ، سحروافطار میں ایسی متوازن خوراک کھائیں جس سے جسم کو وافرپانی مہیا ہواور آپ زیادہ دیر تک فریش رہ سکیں۔

کنسلٹنٹ ڈائیٹشن شیریں خان کامشورہ ہے ، سحروافطار میں ایسی متوازن خوراک کھائیں جس سے جسم کو وافرپانی مہیا ہواور آپ زیادہ دیر تک فریش رہ سکیں
سحری کیسی ہو:
رمضان المبارک کے دوران ایک آئیڈیل سحری میں گڈکو کولیسٹرول ( Good Cholesterol) پروٹین (Protein) اور کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates) ضرور شامل ہونے چاہئیں۔ سحری کھانے میں کم ازکم آدھا گھنٹہ صرف کریں ا وربہتریہی ہے کہ سحری کاوقت ختم ہونے سے ایک آدھا گھنٹہ پہلے کھانا پینا چھوڑدیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر لوگ سحری کاوقت ختم ہونے سے چند منٹ پہلے نیند سے بیدار ہو کرافر اتفری میں پیٹ بھرنا شروع کردیتے ہیں، نتیجتاََ روزے کی حالت میں جسم میں توانائی کی کمی ہوجاتی ہ، سحری ہمیشہ تسلی سے آہستہ آہستہ کھائیں بلکہ سحری میں کھجوریں بھی ضرور کھائیں کیونکہ ان میں پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جوجسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ سحری کے دوران جئی یاگندم کی روٹی، دودھ اور انڈہ دن بھر کے لئے پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو مسٹرڈآئل یعنی سرسوں کے تیل میں تیارکریں، اس طرح روزے کی حالت میں آپ کو کولیسٹرول لیول بھی برقرار رہے گا۔ اسی طرح سحری میں دہی اور پھلوں کااستعمال بھی دن بھر تھکاوٹ اور نقاہت سے محفوظ رکھتا ہے۔ سحری کے بیدار ہونے کے فوراََ بعد گلاس پانی ضرور پئیں جبکہ چائے سے پرہیز ہی بہتر ہے۔
سحری میں بالخصوص ڈیری پراڈکٹس (Dairy Producets) کے باقاعدہ استعمال سے روزے کی حالت میں پیاس نہیں لگتی اور جسم میں توانائی برقراررہتی ہے۔ اسی طرح فائبر (Fiber) یعنی ریشہ دار غذائیں نہ صرف معدے پر ہلکی ہوتی ہیں بلکہ ہضم بھی دیر سے ہوتی ہیں اور تقریباََ 8گھنٹے تک جسم کی توانائی بحال رکھتی ہیں۔ سحری میں آپ مناسب مقدار میں خشک میوہ جات جیسے اخروٹ، بادام، کاجو پستہ اور انجیربھی لے سکتے ہیں، جو جسم کو دن بھر” انرجی“ فراہم کرتے ہیں۔ البتہ سحری میں تلی ہوئی اشیاء کھانے سے پرہیز کریں، ان کے کھانے سے معدہ بھاری ہوجاتا ہے اور دم بھر بیزاری اور اکتاہٹ محسوس ہوتی ہے البتہ کم گھی یاآئل والا پراٹھا کھانے میں ہرج نہیں۔ یادرکھیں سحری میں کھانا پینا ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اکثر لوگ سحری میں کھائے پیئے بناہی روزہ رکھ لیتے ہیں جسم کے باعث معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔ موسم گرما میں روزے کا دورانیہ چونکہ طویل ہوتا ہے، اس لئے سحری میں پانی دودھ یالسی بھی ضروری پئیں تاکہ روزے کے دوران ڈی ہائیڈریشن یعنی جسم میں پانی کی شدید کمی نہ ہو۔ سحری کے فوراََ بعد سوجانے سے بھی طبیعت بیزار اور معدہ بھاری ہوسکتا ہے لہٰذا سحری کے بعد کم ازکم دو گھنٹے بستر پر نہ جائیں۔
جون اور جولائی کی چلچلاتی دھوپ اور حبس میں کم وبیش 15گھنٹے کا روزہ ایمان کے امتحان کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کی قوت مدافعت کی قلعی بھی کھول کررکھ دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان سے سحری میں زیادہ نہیں کھایا جاتاجس کے نتیجے میں دوپہر کے وقت ہی بھوک ستانا شروع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جب اافطاری کاوقت آتا ہے تو سبھی اپنی اپنی من پسند اشیاء پر ٹوٹ پڑتے ہیں جس سے نہ صرف روزے کامقصد ختم ہوجاتا ہے بلکہ نظام انہضام بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
افطاری میں کیاکھایا جائے:
بلاشبہ افطاری کے وقت سب سے بڑا چیلنج اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنا ہوتا ہے کیونکہ دن بھر خالی پیٹ رہنے کی وجہ سے ” نہار منہ“ والی کیفیت پیدا ہوچکی ہوتی ہے چنانچہ شوگر لیول کو بحال کرنے کے لئے سب سے پہلے کھجور کھائیں۔ کھجور انسانی جسم میں داخل ہوکر گلوکوز اور فرکٹوز (Fructose) کی شکل میں قدرتی شکر پیدا کرتی ہے جو فوری طور پر جزوبدن بن جاتی ہے اور روزے کی حالت میں دن بھر جو کیلوریز خرچ ہوتی ہیں ، ان کی کمی کوبھی فوراََ پورا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ نمک سے روزہ افطار کرنا بھی نبوی ﷺ ہے جس سے موسم گرما میں طویل دورانیے کے روزے اورمشقت کی وجہ سے جسم میں پیدا شدہ نمکیات کی کمی پوری ہوجاتی ہے۔ کھجور اورنمک کے علاوہ بادام اور کیلا بھی فوری توانائی فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ بہرحال کھجور یانمک سے روزہ افطار کرنے کے بعد پہلی ترجیح تازہ پھل یافریش جوسز ہونے پر چاہئیں یعنی سحری کے برعکس افطاری میں ایسی غذائیں لیں جو ذود ہضم ہوں تاکہ معدے پر بھی گراں ثابت نہ ہوں۔ افطار میں فروٹ چاٹ کی روایت بڑی خوش آئند ہے لیکن خواتین کوچاہیے کہ اس میں نمک اور چاٹ مصالحہ کم سے کم استعمال کریں ورنہ خالی معدے میں مرچ مصالحے والی غذا سینے کی جلن اور تیزابیت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔خیال رہے کہ افطاری میں نمک کازیادہ استعمال بلڈپریشر اوردل کی شریانوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے ۔ افطاری کے فوراََ بعد لیکوئیڈ (Liquid) یعنی مشروبات کازیادہ استعمال بھی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ چنانچہ افطارکے فوراََ بعد دودھ سوڈاہرگز نہ پئیں۔ دراصل کاربونیٹڈڈرنکس کااستعمال جسم سے کیلشئیم کو خارج کرتا ہے اور کیلشئیم کی کمی سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں خصوصاََ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد بھی دودھ سوڈا پینے سے پرہیز کریں۔ افطار کے حوالے سے ایک اور دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سال بھر کے پکوڑے سموسے صرف رمضان المبارک میں ہی کھالئے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں اکثر لوگ معدے کی تیزابیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ افطاری کے بعد دودھ، لسی ، کھیر، فرنی یا مکھن وغیرہ کو بھی معمول کے مطابق لیں تاکہ کیلشییم اور پروٹین کی کمی نہ ہونے پائے۔ اس کے علاوہ کولیسٹرول سے پاک تیل میں پکی ہوئی موسمی سبزیوں کے علاوہ کچی سبزیوں کا سلاد آپ کومعمول کے مطابق فائبرز ، وٹامنز اور آئرن فراہم کرتا ہے تاہم افطاری میں چاول سے ہر ممکن حدتک پرہیز کریں کیونک یہ شدید پیاس کا باعث بنتے ہیں۔ افطار کے بعد سونے سے پہلے تک کم ازکم 6گلاس پانی ضرور پئیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے