Makai - Sunehre Daane Gazaiyaat Bhare - Article No. 2048

مکئی سنہرے دانے غذائیت بھرے - تحریر نمبر 2048

منگل جنوری

Makai - Sunehre Daane Gazaiyaat Bhare - Article No. 2048
اجناس میں مکئی ایک قدیم فصل ہے۔جس کی آٹے کی شکل میں روٹی بھی بنائی جاتی ہے اور موسم سرما میں سرسوں کے ساگ کے ساتھ اس کا تال میل تو غضب کا ذائقہ دیتا ہے۔مکئی کا تیل بھی مفید مانا جاتا ہے۔یہ خوردنی تیل وسیع تر مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔مکئی کو ابال کر کھانے یا بھٹہ سالم بھون کے کھایئے۔سلاد میں ڈالئے،سوپ میں مرغی کے ساتھ شامل کرکے چکن کارن سوپ بنایئے ہر شکل میں یہ صحت بخش ہے۔

چین میں مکئی کا ٹھیک ٹھاک استعمال ہوتا ہے وہ اپنی دیگر ڈشز (سوپ کے علاوہ بھی)میں بھی مکئی کے دانے ڈالتے ہیں مگر ہندو پاک میں جس طرح چھلیوں کو بھون کے کھانے کی روایت ہے وہ دنیا میں کم کم ہی دکھائی دیتی ہے۔اہل مغرب مکئی سے کارن فلیکس بناتے ہیں جو صحت بخش ناشتے کے مینیو میں شامل ہے۔

(جاری ہے)


مکئی کے طبی فوائد
مکئی سے ایک جزو Ethanol حاصل کیا جاتا ہے جو بہترین باؤ فینوئل ہے۔

اس میں موجود سفید مادے سے نہایت اعلیٰ قسم کا گلوکوز بنتا ہے ۔کارن فلیکس دراصل اسی پروسیس کا حصہ ہیں۔اس میں مختلف غذائی اجزاء مثلاً فائبر،فاسفورس،میگنیز،سوڈیم،فولک ایسڈ،وٹامن B5 اور B1 پائے جاتے ہیں۔خراب کولیسٹرول لیول کو کم کرنے کے لئے مکئی عمدہ غذائی علاج ہے۔دل کے مریضوں کے لئے بہتر غذا ہے۔ اس میں شامل وٹامن B یادداشت کو بڑھاتا ہے۔

ماں بننے والی خواتین کے لئے یوں تو موسم کا ہر پھل اور مختلف اجناس اہمیت و افادیت رکھتے ہیں لیکن اگر وہ نمک کا استعمال کئے بغیر مکئی کھائیں تو مفید ہے چونکہ اس میں فولک ایسڈ بھی ہے تو مادشکم میں نشوونما پانے والے بچے کی ریڑھ کی ہڈی اور ذہنی افزائش کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔علاوہ ازیں یہ خون کی کمی کو بھی پورا کرکے ماں اور بچے کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتی ہے ۔

100 گرام مکئی میں فولک ایسڈ کی مقدار 43 مائیکرو گرام ہوتی ہے۔پرانی قبض کے مریضوں،موٹاپے کا شکار افراد،بواسیر کے مریضوں اور نظام ہاضمہ کی درستگی کے لئے مکئی کھائی جا سکتی ہے کیونکہ اس میں موجود فائبر وزن اعتدال میں رکھتا ہے۔علاوہ ازیں اس میں کاربوہائیڈریٹس،پروٹین،فیٹ اور پانی بھی موجود ہے۔
میکسیکو کی روٹی
کہتے ہیں کہ دنیا میں مکئی کا پودا سب سے پہلے میکسیکو میں اُگا تھا۔

میکسیکو کی مقامی روٹی Tortilla مکئی کے آٹے سے تیار کی جاتی ہے۔جو نظام ہضم کے عمل میں مفید ہے۔معدے اور آنتوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہے۔درج ذیل چارٹ میں مکئی میں موجود کاربوہائیڈریٹس،پروٹین،فیٹ اور پانی کی شرح فیصد دی گئی ہے۔ مکئی کا پیلا رنگ Lutein کی وجہ سے ہوتا ہے یہ اینٹی آکسیڈنٹ ہمارے جسم کو کینسر اور دل کے امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔

قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔لہٰذا مکئی کے موسم میں تازہ مکئی کھانی ضروری ہے۔اب کی بار جب بھٹے والے گلی میں سودا بیچنے آئیں تو فوراً خرید لیں کیونکہ یہ سنہرے صحت بھرے دانے قیمتاً بھی مہنگے نہیں اور ہیں بھی افادیت سے بھرپور۔
غذائی اجزاء مکئی
کاربوہائیڈریٹس 71 فیصد
پروٹینس 92 فیصد
فیٹ 3.8 فیصد
پانی 12.5 فیصد
مکئی میں طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس مثلاً Zeaxanthin اور Lutein اور وٹامن E بھی موجود ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-05

Your Thoughts and Comments