Matar - Chote Se Daane K Bare Faide

مٹر چھوٹے سے دانے کے بڑے فائدے

جمعرات اکتوبر

Matar - Chote Se Daane K Bare Faide

لیاقت علی جتوئی
مٹر بظاہر ایک عام سی پھلی یا سبزی ہے،جس میں ہرے رنگ کے چھوٹے چھوٹے گول دانے ہوتے ہیں۔ مٹر میں قدرت نے بے شمار خوبیاں اور فوائد جمع کررکھے ہیں۔مٹر ایک مشہور تر کاری ہے،جو دنیا کے ہر خطے میں کھائی جاتی ہے۔اس کے دانوں کو بطور سلاد بھی کھایا جاتاہے۔گوشت اور قیمہ کے ساتھ بھی مٹر پکائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ مٹر آلو کا سالن تقریباً ہر گھر میں ہی پکایا جاتاہے۔

مٹر قدرت کی ایک زبردست نعمت ہے۔یہ سستی اور با آسانی دستیاب ہونے والی سبزی ہے ،تاہم اس کے شاندار فوائد کے باعث اسے ’پاور فوڈ‘بھی کہا جاتاہے۔مٹر میں کئی غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں،جو کہ انسانی صحت اور تندرستی کے لیے بے حد ضروری ہیں۔اس کے اجزاء میں فولاد ،نشاستہ،پروٹین،وٹامن اے ،ایچ ،بی،ای اور سی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جدید تحقیقات کے مطابق اس میں پروٹین23فیصد،کاربوہائیڈریٹس50فیصد،جبکہ وٹامن بی کا فی مقدار میں پایا جاتاہے۔

اس میں سلفر یعنی گندھک اور فاسفورس بھی دیگر اجزاء کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔مٹر طبی لحاظ سے دوسرے درجے میں گرم اور خشک ہوتے ہیں۔اسے کسی بھی طریقہ سے پکا کر کھایا جائے ،یہ جسم کو غذائیت بہم پہنچاتا ہے۔سرد مزاج والے اشخاص کے پٹھوں اور اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔مٹر کے چند فوائد اور خصوصیات درج ذیل ہیں:
خون میں اضافہ
مٹر کو اپنے کھانے کا حصہ بنانے سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔

مٹر کا سب سے بڑا فائدہ ان مریضوں کو ملتاہے،جن کے جسم میں خون کی کمی ہوتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق مٹر نیا خون بنانے میں کسی بھی دوا سے زیادہ موٴثر کردار ادا کرتے ہیں۔مٹر کھانے سے جسم میں نشاستہ کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔یہ جسم میں پروٹین اور فولاد کی کمی کو بھی پورا کرتے ہیں۔مٹر کھانے سے خون میں صرف اضافہ ہی نہیں ہوتا بلکہ صاف اور صالح خون پیدا ہوتاہے۔

کمزوراور ناتواں جسم کے لیے یہ انتہائی فائدہ مند ہے،اسے کھانے سے جسم فربہ ہوتاہے۔
بُرے کو لیسٹرول کوکم کرتاہے
مٹر میں فیٹ یا چربی بہت کم ہوتی ہے۔ایک کپ میں 100کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ پروٹین،فائبر اور مائیکرونیوٹرینٹس بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔اس کے استعمال سے وزن نہ زیادہ بڑھتاہے نہ ہی کم ہوتاہے،بلکہ اس میں توازن بر قراررہتاہے۔


معدے کے کینسر سے بچاتاہے
مٹر میں کولیسٹرول نامی ایک غذائی جزو موجود ہوتاہے،جو صحت کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔میکسیکو میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق،اگر جسم کو2ملی گرام کو لیسٹرول حاصل ہو جائے تومعدے کے کینسر کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتاہے۔مٹر کے ایک کپ میں 10ملی گرام کولیسٹرول پایا جاتاہے۔
الزائمر اور گٹھیا کے مرض سے بچاتاہے
مٹر میں اینٹی انفلیمیٹری یعنی سوزش دور کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص مختلف سوزش کا شکار ہو،ایسے افراد کے لیے مٹرکسی نعمت سے کم نہیں ۔سوجن بڑھنے سے کینسر،امراض قلب اور بڑھتی عمر کے اثرات تیزی سے ظاہر ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ،مٹر میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز،وٹامن سی اور وٹامن ای کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے،جن سے الزائمر کے مریضوں کو بے حد فائدہ پہنچتا ہے۔

اس کے علاوہ ،مٹر میں پایا جانے والا وٹامن بی ،گٹھیا کے خطرات کو کم کرتاہے۔
ذیابیطس میں فائدہ مند
مٹر میں پروٹین اور فائبر بڑی مقدار میں موجود ہوتاہے۔یہ پروٹین اور فائبر جب جسم میں داخل ہوتاہے تو اس کے بعد یہ شوگر کو خون میں آسانی سے شامل نہیں ہونے دیتا۔مٹر اینٹی انفلیمیٹری (سوزش کش)ہونے کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہے،جس کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ بہترین غذا سمجھی جاتی ہے۔


ہڈیوں کی مضبوطی
مٹر کا ایک کپ کھانے سے ہماری وٹامن ’کے‘کی روزانہ کی 44فیصد ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔’کے‘(K)وہ وٹامن ہے ،جو ہڈیوں میں کیلشیم کو اسٹور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔جس طرح،کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں،اسی طرح وٹامن’کے‘کو بھی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ایک انتہائی اہم سمجھا جاتاہے۔


ماحول دوست
ماحول دوست ہونا مٹر کی ایک اور زبردست خوبی ہے۔جو اسے کئی دیگر سبزیوں سے منفرد بناتی ہے۔مٹی میں موجود بیکٹیریا کے ساتھ مل کر مٹر ہوا میں موجود نائٹروجن کو مٹی میں جذب کر لیتے ہیں،جس سے زمین کو ایک قدرتی فرٹیلائزر حاصل ہوتاہے اور ساتھ ہی آب وہوا سے نائٹروجن بھی صاف ہو جاتی ہے ،جوکہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔


جلد کے امراض کی اکسیر
مٹر کھانے کے علاوہ چہرے پر لگانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتاہے،جس کے اپنے کئی بہترین فائدے ہیں۔مٹر کو سُکھانے کے بعد پیس کر،اس سے بنے آٹے کا اُبٹن چہرے پر لگانے سے داغ دھبے دور ہو جاتے ہیں۔
جلنے پر :مٹر کوپیس کر جلنے والے حصے پرلگانے سے جلن ٹھیک ہوتی ہے۔
چہرے کے لیے :مٹر کے بھنے دانوں اور سنگترے کے چھلکوں کو دودھ میں پیس کر چہرے پر لگانے سے جلد کی رنگت میں نکھار آتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-31

Your Thoughts and Comments