Mausam Garma Ki Thandi Ghazain - Article No. 2180

موسم گرما کی ٹھنڈی غذائیں - تحریر نمبر 2180

جمعہ 18 جون 2021

Mausam Garma Ki Thandi Ghazain - Article No. 2180
موسم گرما میں دھوپ میں شدت بہت بڑھ جاتی ہے۔جسم کو جھلسا دینے والی لُو چلتی ہے۔سخت گرمی سے انسان،پرند اور چرند پیاس کے مارے مضطرب دکھائی دیتے ہیں۔درختوں کے پتے مرجھا جاتے ہیں۔راتیں چھوٹی اور دن بڑے ہو جاتے ہیں۔قدرت نے غذاؤں میں ایسی افادیت رکھی ہے کہ وہ موسم کی سختیاں برداشت کرنے میں بھی مفید ہیں۔
گرمیوں میں ضروری یہ ہے کہ پانی کا استعمال بڑھا دیا جائے۔

جو لوگ دوپہر میں باہر نکلنے پر مجبور ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ہلکی لسی کو اپنی غذا میں شامل کریں۔سخت گرمی میں بھوک بھی کم ہو جاتی ہے تو ایسے میں لسی سے بہتر کوئی مشروب نہیں۔ہلکی پتلی بالائی اتری ہوئی دہی کی لسی کا ایک گلاس دیر تک چاق و چوبند رکھتا ہے۔گرمی میں کھانا کھانے کی رغبت کم ہو جاتی ہے اس صورت میں دہی مفید غذا ہے۔

(جاری ہے)

دہی کا استعمال نظام ہضم کو بھی درست رکھتا ہے اور آنتوں کو گرمی کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔


صبح کے وقت پانی کے دو گلاس پئیں بہتر ہے کہ اس میں لیموں نچوڑ لیا جائے یہ بھی گرمی کا مقابلہ کرنے کے لئے مفید ہو گا۔لیموں میں موجود وٹامن سی اور دوسرے وٹامنز اضافی توانائی فراہم کرتے ہیں۔
پودینہ ایک ایسی جڑی بوٹی جسے کھانوں میں ذائقہ اور خوشبو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ پورا سال باآسانی دستیاب ہوتا ہے۔تھوڑے سے پودینے کے پتے اور سونف کو ایک گلاس پانی میں ڈال کر اُبال لیں۔

ٹھنڈا ہونے پر چھان لیں اور جگ میں ڈال کر فریج میں رکھ دیں۔ سارا دن جب پیاس لگے وقتاً فوقتاً اس پانی کو پئیں۔یہ ناصرف گرمی میں توانائی فراہم کرے گا بلکہ خون صاف کرکے جلد کو بھی شاداب کرے گا۔گرمیوں کے مسائل یعنی دانے،خارش پھنسی وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک اچھا ٹانک بھی ہے۔پودینے کے فوائد بہت زیادہ ہیں اسے چٹنی کی صورت میں دسترخوان کی زینت بھی بنایا جاتا ہے۔


بات ہو گرمی کی تو کھیرے کی افادیت کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔اس کے اتنے فائدے ہیں کہ اکثر ماہرین غذا اسے سپر فوڈ بھی کہتے ہیں ۔گرمی کے سخت موسم اور چلچلاتی دھوپ میں روزانہ کی غذا میں کھیرے کے استعمال کو یقینی بنائیں۔سخت گرمی میں اگر زیادہ محنت نہ کی جائے تب بھی پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا ہوتا ہے۔اس طرح جسم میں موجود پانی کی بڑی مقدار ضائع ہو جاتی ہے۔

جسم میں پانی کی خاص مقدار کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔کھیرے کا استعمال ناصرف جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے بلکہ گرمی کے اثرات سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔کھیرے کو کچا یا رائتہ اور سلاد بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔دہی کے ساتھ ملا کر کھانے سے کھیرا آنتوں کو سوزش سے بچاتا ہے اور معدے کو فعال رکھتا ہے۔نظام ہضم کو پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

گرمیوں میں کئی بچے اسہال یا پیچش کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو ایسے میں کھیرا ایک بہترین غذائی دوا ہے۔
قدرت نے جس پھل کو جس موسم میں پیدا کیا اس میں اس موسم کے لحاظ سے مخلوقات کے لئے افادیت پنہاں رکھیں۔موسم گرما کی ایک سوغات کیری بھی ہے جس کا نام سنتے ہی چٹخارے لینے کا دل چاہتا ہے ۔کیری موسم گرما کا مزیدار پھل ہے۔گرمیوں میں اسے کئی طرح سے کھایا جاتا ہے۔

مثلاً اس کی چٹنی دسترخوان پر پسند کی جاتی ہے اس کے مربے اور اچار بھی لوگوں کو مرغوب ہوتے ہیں۔طبی اعتبار سے بھی اس کے کئی فوائد ہیں مثلاً اس میں وٹامن سی،وٹامن بی ون،اور بی ٹو زیادہ پایا جاتا ہے۔یہ اپنے اندر لُو سے بچانے کی تاثیر رکھتا ہے۔نظام ہضم کو فعال کرکے جسم سے فاسد مادے خارج کرنے میں مفید ہے۔کیری آنتوں کے امراض میں مفید ہے۔

کیری کی ایک پھانک شہد کے ساتھ ملا کے کھانے میں اسہال،پیچش اور قبض کے امراض سے نجات دیتی ہے۔گرمی کے موسم میں لُو کے تھپیڑوں سے بچنے کے لئے کیری کا شربت مفید مشروب ہے جسے بنانا آسان ہے۔دو پیالی پانی میں تین سے چار پیالی شکر ملائیں اور چاشنی تیار کر لیں۔اسے ٹھنڈا ہونے پر چھان لیں۔دو پیالی اُبلی ہوئی کیری کا گودا بلینڈر میں یکجان کرکے تیار چاشنی میں ملا دیں۔

صاف اور خشک بوتل میں محفوظ کر لیں استعمال کرنے کے وقت ایک حصہ شربت میں تین حصہ پانی اور برف کے ساتھ ملا کر پیش کریں۔
گرمیوں میں زیادہ چکنائی والے کھانے پیاس بڑھا دیتے ہیں لہٰذا کوشش کریں کہ غذا میں مرچ مسالے اور مرغن غذاؤں کا استعمال کم کر دیں۔اس کی بجائے دالوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں۔غذا میں پھلوں کا استعمال بھی بڑھا دیں خاص طور پر وہ پھل جو پانی اور رس سے بھرپور ہوتے ہیں جیسے تربوز،مالٹا،موسمی،گریب فروٹ وغیرہ۔


گرمیوں میں جسم پر توجہ دینے کے ساتھ گھر بھی ٹھنڈا رکھیں۔اس سلسلے میں پہلا قدم برآمدوں اور کھڑکیوں پر چک کے پردے ڈالنا ہے، اس سے گرمی باہر ہی رہے گی۔گھر کے اطراف میں پیڑ اور پودے لگائیں تاکہ ان کی چھاؤں سے گھر کی چھتیں اور دیواریں دھوپ کی شدت سے محفوظ رہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-18

Your Thoughts and Comments