Mausam Sarma Mein Haldi Istemal Karne Ke Fawaid - Article No. 2319

موسم سرما میں ہلدی استعمال کرنے کے فوائد - تحریر نمبر 2319

جمعرات 9 دسمبر 2021

Mausam Sarma Mein Haldi Istemal Karne Ke Fawaid - Article No. 2319
آمنہ ماہم
ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہاؤس سے کم نہیں ہوتے۔پاکستانی کھانوں میں ہلدی عموماً استعمال کی جاتی ہے۔یہ ادرک کی نسل کے پودے Longa Curcuma کی جڑ سے نکالی جاتی ہے۔مصالحے دار اور گرم ہلدی اپنی تیز مہک اور زرد رنگ کی بدولت جانی جاتی ہے۔قدیم چینی ادویات اور آیورودیک طریقہ علاج میں اس کی تاریخ کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔


ہلدی قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات کی حامل ہے اور خراشوں،زخموں اور جلنے وغیرہ کے لئے مفید ہے۔یہ ایک فوری مرہم کا کام کرتی ہے،خون کے لوتھڑوں کی روک تھام اور زخم پر لگانے کی صورت میں نئے خلیات کی افزائش میں مدد دیتی ہے۔یہ درد بھی دور کرتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ درد میں کمی لانے کے لئے بھی بہترین ہے۔

(جاری ہے)

طاقتور اینٹی بائیوٹک ہونے کے ساتھ ساتھ یہ انفیکشنز جیسے ای کولی کی بھی روک تھام کرتی ہے (یہ بیکٹیریا عام طور پر صحت مند انسانوں اور جانوروں کے اندر ہوتا ہے،تاہم آلودہ پانی یا گائے کے کچے پکے گوشت کے ذریعے جسم میں داخل ہونے پر شدید انفیکشن،معدے کے درد،اُلٹیوں،خونی ہیضے اور اکڑن کا باعث بن سکتا ہے)۔

یہ جگر کی صفائی کا کام بھی کرتی ہے۔ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہم بہت زیادہ کھا لیتے ہیں اور خوراک،ہوا،ذاتی نگہداشت اور گھریلو مصنوعات کے نتیجے میں بہت زیادہ زہریلے مواد جیسے کیمیکلز،کیڑے مار ادویات،آلودہ پانی،بھاری دھاتوں وغیرہ کے اثر میں آتے ہیں۔
یہ زہر ہمارے جگر،گردوں،لمفی نظام اور خاص طور پر شمحی بافتوں (فیٹ ٹشوز) میں جمع ہو جاتے ہیں۔

ان زہریلے مواد کا انبار کاربوہائیڈریٹس ،پروٹینز اور غذائیت کو ہضم کرنے میں مزاحمت کرتا ہے۔مزید برآں یہ مواد ہمارے جسم میں آکسیجن کی مقدار کو کم کرتے ہیں جس سے ایک تیزابی،کم توانائی اور خراب کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ہم امراض کا آسان نشانہ بن جاتے ہیں۔روزمرہ کی بنیاد پر ہلدی کا استعمال ان زہریلے اثرات کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے اور ان کا انبار کم کرکے جگر کو ٹھیک رکھتا ہے۔

اس مصالحے کا ایک اور حیرت انگیز فائدہ اس کی جلن کش خوبیاں ہیں۔ماڈرن پاکستانی خوراک پراسیس فوڈز سے بھرپور ہے جن میں حد سے زیادہ نمک اور سڑے ہوئے تیل کا استعمال ہوتا ہے جو جسم کے اندر جلن اور دیگر نقصانات کا باعث بنتے ہیں جن سے وقت گزرنے کے ساتھ الرجی،دمہ اور جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ان غذاؤں کا تعلق یادداشت کھونے،کینسر،امراض قلب،موٹاپے اور ڈپریشن سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

ہلدی کا روزانہ استعمال جسم میں سوجن کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے جبکہ اس کی زرد رنگت میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس نقصانات کا ازالہ اور علامات کا خاتمہ کرتے ہیں۔اور ظاہر سی بات ہے اس میں قدرتی خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں،اور دواؤں کی طرح زہر نہیں ہوتا۔ہلدی ایک سادہ چیز ہے جو بلڈ شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے،دن بھر میں توانائی کی سطح کو برقرار رکھنے اور بہتر مزاج کے لئے مدد دیتی ہے۔


ہلدی کو قدیم زمانے سے بطور غذا اور دوا استعمال کیا جا رہا ہے جس کے صحت پر بے شمار طبی اثرات مرتب ہوتے ہیں،ہلدی میں اینٹی انفلامینٹری اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائے جانے کے سبب اس کا استعمال ماہرین کی جانب سے بھی تجویز کیا جاتا ہے۔سردیوں کے موسم کو بڑی تعداد میں لوگ پسند کرتے ہیں مگر اس کے آنے سے متعدد بیماریاں،انفیکشن اور وائرس بھی سر اُٹھا لیتے ہیں جن سے تحفظ کے لئے احتیاط اور علاج دونوں ضروری ہیں اور یہ ایک بطور غذا ہلدی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔


غذائی ماہرین کے مطابق آسانی سے دستیاب قدرتی جڑی بوٹی ہلدی جگر کی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے،ہلدی کی چائے جگر سمیت مجموعی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔سردیوں میں گرم تاثیر رکھنے والی ہلدی سے بنے چند مشروبات ناصرف غذائیت کی بنا پر بے حد مفید ہوتے ہیں بلکہ یہ مزیدار بھی ہوتے ہیں جن کا استعمال سرد موسم میں لازمی ہے۔سردیوں میں ہلدی کا استعمال بطور دوا کیسے کیا جا سکتا ہے اس کا طریقہ درج ذیل ہے:
ہلدی اور اجوائن کا پانی
اجوائن اور ہلدی کا پانی بنانے کے لئے اجوائن کو رات بھر کے لئے بھگو کر رکھ دیں،صبح اس پانی اور اجوائن میں ہلدی شامل کرکے پکا لیں، ہلدی اور اجوائن سے بنی صحت بخش چائے تیار ہے۔


ہلدی اور دودھ (گولڈن ملک)
انٹرنیٹ پر ان دنوں گولڈن ملک (ہلدی والا دودھ) کا ذکر بڑا عام ہے،گولڈن ملک صحت کے حوالے سے بے شمار فوائد کا مجموعہ کہلاتا ہے، سردیوں میں نیم گرم دودھ میں ہلدی ڈال کر استعمال کرنے سے جسم میں گرمی پیدا ہوتی ہے،اس کے علاوہ یہ دودھ ہڈیوں کو مضبوط بنا کر کمزوری سے بھی بچاتا ہے،اس مشروب میں ہلدی کی شکل میں اینٹی آکسیڈنٹس اجزاء ہونے کے سبب جسم سے سوزش (انفلیمیشن) کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-12-09

Your Thoughts and Comments