Mein Keela HooN - Article No. 2084

میں کیلا ہوں - تحریر نمبر 2084

منگل فروری

Mein Keela HooN - Article No. 2084
جب پاکستان قائم ہوا تو میں صرف مشرقی پاکستان میں ہوتا تھا۔ہاں،سندھ میں بھی ہوتا تھا،لیکن کیلے کی یہ قسم گھٹیا شمار کی جاتی تھی۔پھر یہاں آباد ہونے والوں نے آم کی طرح میری عمدہ قسم کی کاشت کی اور اب میں باہر کے ملکوں میں جا کر فروخت ہوتا ہوں اور آپ مجھے ہر جگہ موجود پاتے ہیں۔آپ مجھے شوق سے خریدتے اور کھاتے ہیں۔اب تو مجھ سے بنائی گئی آئس کریم اور ملک شیک بھی خوب عام ہو گئے ہیں۔

آپ کی اس دنیا میں پھلوں کو خاص مقام حاصل ہے۔پھل دیگر غذاؤں کے مقابلے میں زود ہضم،یعنی جلد ہضم ہوتے ہیں۔ان میں غذائیت زیادہ ہوتی ہے اور یہ معدنی نمک اور حیاتین(وٹامنز)سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔آپ مجھے کیلا کہتے ہیں تو میں عربی میں”موز“ اور انگریزی میں”بنانا“(Banana) کہلاتا ہوں۔

(جاری ہے)

میرے اپنے خاص ذائقے کے علاوہ میری اپنی خوشبو بھی ہوتی ہے ،جو بنانا فلیور (Banana Flavour) کہلاتی ہے۔


مجھ میں غذائیت بہت ہوتی ہے۔میں دُبلے پتلے افراد کا بہترین دوست ہوں۔روزانہ ناشتے میں مجھے کھا کر اوپر سے دودھ پینے والوں کا وزن بڑھتا ہے اور جسم میں طاقت آتی ہے۔میرے غذائی اجزاء پٹھوں،یعنی عضلات میں اضافہ کرتے ہیں۔جن افراد کی آنتیں سست رہتی ہوں،انھیں نہار منہ ایک دو پکے ہوئے کیلے اچھی طرح چبا کر،بلکہ منہ میں لئی سی بنا کر کھانا چاہیے۔

آنتوں کا فعل اس سے تیز ہو گا ،بھوک کھل کر لگے گی اور جسم میں طاقت کروٹیں لیتی محسوس ہو گی۔نزلے زکام کے بعد گرم و خشک دواؤں کے کھانے سے بلغم سینے میں جم جاتا ہے۔ کیلے کھانے سے بلغم نرم اور پتلا ہو کر آسانی سے خارج ہونے لگتا ہے اور خشک کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔
اگر آپ ورزش کے ذریعے اپنا جسم مضبوط بنانا چاہتے ہوں تو پھر مجھے ضرور کھانا چاہیے،خاص طور پر تن سازوں(باڈی بلڈرز)کو چاہیے کہ وہ بالائی دار دودھ میں مجھے شامل کرکے ملک شیک بنا کر پییں،بلکہ بہتر ہے کہ اس میں دس پندرہ بادام اور یہ نہ ملیں تو بھنی اور چھلی ہوئی مونگ پھلی کے دانے ایک مٹھی،تھوڑی سی دار چینی اور چھوٹی الائچی کے دانے شامل کرکے بلینڈر میں یک جان کرکے یہ مشروب پییں۔


قدرت نے مجھ میں ہضم میں مدد دینے والے خمائر(Enzymes) بھی رکھے ہیں۔آج کل بازار کی تیار شدہ غذائیں(فاسٹ فوڈز)، کباب،تکے اور ایسی ہی چٹ پٹی اور مسالے دار اشیاء زیادہ کھائی جاتی ہیں۔ان سے اکثر اوقات پیٹ خراب ہو جاتا ہے اور مروڑ و دست کی شکایت ہو جاتی ہے۔میں ان کا بہترین علاج ہوں۔جب بھی ایسی غذائیں اور مسالے دار کھانے کھائیے،ایک دو کیلے اچھی طرح کھا لیجیے۔

اس طرح آپ کا معدہ اور آنتیں ٹھیک رہیں گی اور کھانا بھی اچھی طرح ہضم ہو گا۔
دست اور پیچش کی صورت میں بھی دوسری غذائیں بند کرکے مجھے شکر کے ساتھ کھاتے رہنے سے صحت بہت جلد ٹھیک ہو جاتی ہے۔میں بغیر شکر کے بھی مفید ثابت ہوتا ہوں۔مجھ میں معدے اور آنتوں کے زخم ٹھیک کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔کچے کیلے کو خشک کرکے اور اس کا سفوف بنا کر کھانے سے معدے کے زخم(السر)میں مبتلا تمام مریضوں کو بہت جلد صحت حاصل ہوتی ہے۔


مجھ میں بینائی کو تقویت پہنچانے کی صلاحیت بھی ہے۔مجھے کھانے سے بچوں کے اعصاب بھی قوی ہو جاتے ہیں۔دن بھر کی تھکن دور کرنے کے لئے مجھ سے بہتر کوئی اور پھل نہیں۔مجھے روزانہ کھانے سے چہرے کا رنگ صاف ہو جاتا ہے۔پھل کے علاوہ قدرت نے میرے تنے کے پانی میں بھی دوائی اثرات رکھے ہیں،جن سے اطبا اپنے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔میری جڑ بھی مفید ہے،اس کے پانی سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

میں قدرت کا ایک انعام ہوں،جس سے اللہ نے پاکستان کو بھی نوازا ہے۔مجھے کھائیے اور صحت مند رہیے۔ہاں،ایک احتیاط ضرور کیجیے،مجھے کھا کر میرے چھلکے کوڑے دان میں ضرور ڈالا کیجیے۔اس طرح خود آپ اور دوسرے لوگ پھسل کر حادثات کا شکار نہیں ہوں گے۔میں پورا سال بازار میں بہ آسانی دستیاب ہوتا ہوں۔میری 100 گرام کی مقدار میں درج ذیل صحت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں۔


حیاتین الف(وٹامن اے) 430 بین الاقوامی یونٹ
حیاتین ب(وٹامن بی:تھایامن) 40 ء ملی گرام
رائبو فلاون 50ء ملی گرام
نایاسن 7ء ملی گرام
حیاتین ج(وٹامن سی) 10 ملی گرام
لحمیات(پروٹینز) 12ء گرام
حرارے(کیلوریز) 88
نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ) 23 ملی گرام
کیلسیئم 8 گرام
فاسفورس 28 ملی گرام
فولاد 60ء ملی گرام
پوٹاشیئم 260ملی گرام
تاریخ اشاعت: 2021-02-16

Your Thoughts and Comments