Mein Kharboza HooN - Article No. 2167

میں خربوزہ ہوں - تحریر نمبر 2167

جمعہ جون

Mein Kharboza HooN - Article No. 2167
گرمیوں کی آمد کے ساتھ جوں جوں سورج تیز ہونے لگتا ہے،میں آپ کی مدد کے لئے بازار میں آجاتا ہوں۔یوں تو سب پھل اچھے ہوتے ہیں،لیکن گرمیوں کے موسم میں میری زیادہ قدر ہوتی ہے،کیونکہ میں اس موسم کی سختیوں اور تکلیفوں کو دور کرنے میں آپ کی بڑی مدد کرتا ہوں۔میرا ذائقہ اور خوشبو سب کو بھاتی ہے۔پاکستان میں میری کئی قسمیں کاشت کی جاتی ہیں،مثلاً زرد،گہرا نارنجی،سفید اور سبز۔

سب کے اپنے رنگ اور مزے ہوتے ہیں۔کوٹی اتنا میٹھا ہوتا ہے کہ لب بند ہو جائیں،کوئی ہلکی مٹھاس والا ہوتا ہے اور کچھ بالکل پھیکے سیٹھے ہوتے ہیں،لیکن فائدہ سب سے ہوتا ہے۔
میری کاشت عام طور پر دریاؤں اور نالوں کے کنارے کی جاتی ہے۔یہاں کی رتیلی زمین میں میری جڑیں دور تک پھیل کر صاف ستھرا پانی پی کر بڑھتی اور پھلوں میں رنگ،خوشبو اور ذائقہ بھرتی رہتی ہیں۔

(جاری ہے)

میرا شمار سستے پھلوں میں ہوتا ہے۔گاؤں دیہات میں تو مجھے بہت زیادہ کھایا جاتا ہے،ہاں شہروں میں،میں مہنگا بکتا ہوں،لیکن میرے فائدے میری قیمت سے زیادہ ہوتے ہیں۔میری دو قسمیں،سردا اور گرما بڑی اور وزنی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت میٹھی ہوتی ہیں۔
مجھ میں کافی غذائی اجزاء ہوتے ہیں۔مجھے پابندی سے کھائیے،اگر آپ دُبلے اور کمزور ہوں تو اس سے وزن بھی بڑھے گا اور آپ خود کو تازہ دم بھی محسوس کریں گے۔

آپ کو دن بھر کے لئے درکار حیاتین ج (وٹامن سی) کی آدھی مقدار ایک درمیانے خربوزے سے حاصل ہو جاتی ہے۔میری نارنگی رنگت کی قسم میں بیٹا کیروٹین (Beta Carotene) بھی ہوتی ہے۔یہ گاجر میں بھی ہوتی ہے۔یہی کیروٹین جسم میں پہنچ کر حیاتین الف (وٹامن اے) میں تبدیل ہو جاتی ہے،جو قلب اور شریانوں کا نظام محفوظ رکھتی ہے۔مجھ میں تھوڑی مقدار میں فولک ایسڈ بھی ہوتا ہے،جس سے خون میں کمی نہیں ہوتی۔


میرے گودے اور ریشے میں سلینیئم بھی ہوتا ہے۔یہ جسم کو خرابی اور فساد سے محفوظ رکھتا ہے،یعنی آپ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔آپ کی یہ شکایت درست ہے کہ میں ذرا کم میٹھا ہوتا ہوں،بلکہ اکثر صورتوں میں مٹھاس مجھ میں بالکل نہیں ہوتی۔اس میں غلطی میری نہیں ہوتی۔ زیادہ فصل لینے کی لالچ میں کیمیائی کھاد زیادہ استعمال کرنے سے یہ عیب مجھ میں پیدا ہو جاتا ہے۔

کسان بھائی مجھے پوری طرح پکنے بھی نہیں دیتے۔ویسے نارنگی رنگت کے خربوزے اکثر میٹھے ہوتے ہیں۔
طبی لحاظ سے مجھ میں پیشاب زیادہ لانے کی صلاحیت ہوتی ہے،اس لئے گردوں کے مریضوں کے لئے میں بہت مفید ثابت ہوتا ہوں۔ زیادہ پیشاب لانے کی وجہ سے جسم سے خون کے خراب مادوں کے علاوہ میں گردوں اور مثانے سے پتھری بھی نکال دیتا ہوں۔میرے چھلکوں سے نمک بھی حاصل کیا جاتا ہے،جس کے کھانے سے یہی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔

یہ نمک خربوزہ کہلاتا ہے۔اسی طرح میرے چھلکوں کو پانی یا عرق گلاب میں پیس کر چہرے پر لیپ کرنے سے رنگ صاف ہوتا ہے۔اکثر اوقات پیشاب میں جلن کی شکایت ہو جاتی ہے۔گرمیوں میں خاص طور پر یہ تکلیف ہو تو میرے کھانے سے یہ تکلیف بھی دور ہو جاتی ہے۔میرے کھانے کا بہترین وقت سہ پہر کا ہوتا ہے۔
میرے باریک ٹکڑوں کے ساتھ برف کا چورا،دودھ،بالائی اور شکر ملا لینے سے بڑی عمدہ میٹھی ڈش تیار ہو جاتی ہے۔

میرے بیجوں کو خاص طور پر شہروں میں پھینک دیا جاتا ہے۔انھیں پھینکنا نہیں چاہیے،یہ بیج بھی بہت مفید ہوتے ہیں۔ان کے استعمال سے بھی گردے،مثانے اور آنتیں صاف ہوتی ہیں۔اسی طرح انھیں چھیل کر مغز پیس کر لیپ کرنے سے چہرے کی رنگت نکھرتی ہے۔انھیں کھانے سے گلے کی خشکی اور خراش بھی دور ہوتی ہے۔معالجین بتاتے ہیں کہ میرے بیجوں کے مغز کھانے سے دماغ کو بھی طاقت ملتی ہے۔مجھ میں لحمیات (پروٹینز)، نشاستہ (کاربوہائیڈریٹ) اور کیلسیئم کے علاوہ فولاد،تانبا،حیاتین الف،حیاتین ب اور حیاتین ج بھی ہوتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-04

Your Thoughts and Comments