Milawat Shuda Ghizaon Se Bachain

ملاوٹ شدہ غذاؤں سے بچیں

Milawat Shuda Ghizaon Se Bachain

طاہر حبیب
صنعتی ترقی کی وجہ سے جہاں انسان کا معیارِ زندگی بہتر ہوا ہے ،وہاں اس صنعتی ترقی نے اس سے خالص غذا تک چھین لی ہے ۔اب جدید طریقوں سے ملاوٹ کی جارہی ہے ۔ڈبا بند دودھ اگر چہ دودھ ہی ہوتا ہے ،لیکن اس میں گائے اور بکری کا دودھ بھی شامل کر دیا جاتا ہے ۔کیمیائی طریقوں سے دودھ بنانے کے کئی طریقے بھی ایجاد ہو گئے ہیں ۔چھوٹے خورد ہ فروش بھی انھی طریقوں سے مصنوعی دودھ تیار کرکے فروخت کرتے ہیں۔


ڈیٹر جنٹ(DETERGENT)،یوریا،خوردنی تیل،لیکوئیڈ ہائڈروجن،ملک پاؤڈر اور ڈھیر سارا پانی ملا کر دودھ تیار کر لیا جاتا ہے ،جس پر صرف۔30۔40روپے فی لیٹر لاگٹ آتی ہے ۔پھر اس دودھ کو100روپے فی لیٹر فروخت کیا جاتا ہے ،یعنی فی لیٹر 60۔70روپے منافع کمایا جاتا ہے ۔یہ کتنا بڑا ستم ہے کہ خریدار دودھ فروش کو 60۔

(جاری ہے)

70روپے زیادہ بھی دیتا ہے اور اپنی اور خاندان والوں کی صحت بھی داؤ پر لگاتا ہے ۔


بھینسوں کو مضرِ صحت ٹیکا لگا کر جو دودھ حاصل کیا جارہا تھا،وہ زہر سے کم نہ تھا۔پھر آربی ایس ٹی (RBST) ،باسٹن 250،ایتھوسیل ،اوکسی ٹوجن اور دیگر مضرِ صحت ٹیکوں پر پابندی لگا دی گئی ،جن کے استعمال پر دنیا بھرمیں پہلے ہی سے پابندی عائد ہے ،کیوں کہ جن مویشیوں کو یہ ٹیکے لگائے جاتے ہیں ،ان کا دودھ پینے اور گوشت کھانے والے افراد سرطان اور دوسرے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں ،
لیکن بے حسی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ پابندی کے باوجود یہ مہلک ٹیکے اب بھی بازار میں دستیاب ہیں اور چوری چھپے زیادہ قیمت پر فروخت کیے جارہے ہیں۔


ایک اہم مسئلہ اشیائے خورونوش میں حرام اجزاء شامل کرنے کا بھی ہے ۔کچھ عرصہ پہلے پتا چلا تھا کہ بیرونِ ملک سے مرغیوں کے لیے منگوائی جانے والی خوراک (FEED)میں خنزیر کے گوشت کی آمیزش ہے ۔امریکا اور یورپی ممالک سے درآمد کی گئی کھانے پینے کی 19۔اشیاء کی ایک فہرست بھی سامنے آئی تھی ،جن میں حرام اجزاء شامل تھے ۔ان اشیاء میں گوشت ،دودھ سے بنائی گئی مصنوعات،
سُوپ ،چاکلیٹ اور ٹافیاں وغیرہ شامل تھیں ۔

بیرون ملک سے درآمد کی گئی ڈبا بند غذاؤں یا پیکنگ پر اُن میں شامل کردہ اجزاء کی شناخت مختلف کو ڈ نمبروں سے ظاہر کی جاتی ہے ،لہٰذا ایک عام فرد حلال وحرام کا فرق معلوم نہیں کر سکتا۔
بین الاقوامی تجارتی قوانین کے مطابق تمام کھانے پینے کی مصنوعات کے ڈبوں یا پیکنگ پر ان میں شامل کردہ اجزاء اور غذائیت بخش خاصیتیں لکھنا ضروری ہے ۔چوں کہ ان اجزاء کی تفصیل لکھنا مشکل ہے ،
لہٰذا ان پر خاص قسم کے نمبر ڈالے گئے ہیں ،جو یورپین نمبر یا ای ۔

کوڈ کہلاتے ہیں ۔برطانیہ میں قائم کردہ ایک اسلامی تنظیم کے مطابق جن ڈبا بند غذاؤں یا ان کی پیکنگ پر درج پانچ ای۔کوڈز میں سے کوئی ایک ای ۔کوڈ بھی چھپا ہوا ہے ،اُن میں قطعی اور مکمل طور پر حرام اجزاء شامل ہیں ،لہٰذا انھیں ہر گزنہ خریدا کھایا جائے۔وہ پانچ ای۔کوڈزیہ ہیں:ای ۔120،ای۔121،ای۔441،ای۔542اور ای۔920
۔
پاکستان کے علاقے کھیوڑہ میں معدنی نمک کی سب سے بڑی کان ہے ۔

یہ نمک”لاہوری نمک“کے نام سے مشہور ہے۔مختلف کمپنیاں اس نمک کو پیس کر ”ریفائن“اور مختلف ناموں سے فروخت کرتی ہیں ۔
سمندری نمک میں عام طور پر نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی کے ذرّات بھی پائے جاتے ہیں ۔لاہوری نمک کی زیادہ فروخت اور مقبولیت کے پیشِ نظر جعل ساز سمندری نمک کو لاہوری نمک جیسا بنانے کے لیے اُس میں مختلف قسم کے کیمیائی اجزاء شامل کر دیتے ہیں ،جس کی وجہ سے نمک شفاف اور اُس کا ہر دانہ الگ الگ نظر آتا ہے ۔

ماہرینِ صحت کے مطابق اس نمک میں شامل کردہ ایک کیمیائی جزو جوڑوں کے لیے انتہائی مضر ہے ،اس لیے کہ یہ جسم میں کیلسےئم کے انجذاب کوروک دیتا ہے ۔اس کیمیائی جزو کا نام ”ای ٹرپل فائیو“(E TRIPPLE 5) ہے۔
کئی کمپنیاں زیرِ زمین پانی کو منرل واٹر کے نام سے فروخت کررہی ہیں اور اربوں روپے سالانہ کمارہی ہیں ۔لوگوں کو چاہیے کہ وہ منرل واٹر کی بوتلیں خریدنے کے بجائے پانی اُبال کر پییں۔

منرل واٹر کے کارو بار میں لاگت انتہائی کم اور نفع بہت زیادہ ہے ۔اس پانی میں مضرِ صحت اجزاء شامل ہیں۔
ہمارے ہاں بد قسمتی سے نہ تو اشیائے خورونوش کے نمونوں کی ٹیسٹنگ(TESTING)کاکوئی انتظام ہے اور نہ ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی کی جاتی ہے ۔ہر فرد کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہے،فروخت کرے،انتظامیہ کچھ نہیں کرے گی۔

ایک وقت تھا کہ دودھ فروش دودھ میں پانی چوری چُھپے ملاتے تھے اورمعاشرے میں یہ بہت شرمندگی کی بات سمجھی جاتی تھی ،مگر اب ملاوٹ کرنے والے کسی کی پروا نہیں کرتے۔
انھیں نہ تو اللہ کا خوف ہے ،نہ معاشرے میں اپنی بے عزتی کاڈر ،راتوں رات دولت مند بننے کی خواہش ہر احساس پر غالت آچکی ہے ۔اب وہ مذہب اور دین کے اصولوں کے بھی پابند نہیں رہے ۔حدیث مبارکہ ہے کہ ”جس نے ملاوٹ کی ،وہ ہم میں سے نہیں۔“حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت میں جھوٹ اور فریب کو ممنوع قرار دیا ہے ،مگر آج کی تجارت سراسر جھوٹ،فریب اور دھوکا دہی پر مبنی ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-11

Your Thoughts and Comments