Milk - Article No. 2054

دودھ - تحریر نمبر 2054

بدھ جنوری

Milk - Article No. 2054
کنزا یار خان
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی بے شمار نعمتیں خالص حالت میں عطا کی ہیں،لیکن کیا کہا جائے کہ انسان زیادہ منافع کے لالچ میں ان خالص چیزوں میں طویل عرصے سے ملاوٹ کر رہا ہے۔انھی نعمتوں میں سے ایک نعمت دودھ بھی ہے۔آج کل ملاوٹ کے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے گئے ہیں۔کہیں مصنوعی طریقے سے دودھ تیار کیا جا رہا ہے۔

کہیں زیادہ دودھ کے لئے جانوروں کو ہارمونز کے ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ کہیں دودھ میں سے کریم نکالی جا رہی ہے تو کہیں دودھ کو گاڑھا کرنے کے لئے مختلف اشیاء شامل کی جا رہی ہیں۔دودھ میں مصنوعی جھاگ پیدا کرنے،اسے زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ہائیڈروجن پر اوکسائیڈ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ ہائیڈروجن پر اوکسائیڈ سے اسپتالوں میں عام آپریشن کے دوران خون روکنے اور زخم صاف کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ناقص دودھ میں اس کی شمولیت سے ہڈیوں،جوڑوں اور معدے کو نقصان پہنچتا ہے۔کسی بھی محلول کے ساتھ اس کا جسم میں داخل کرنا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں ایک جانب اس طرح کے کام ہو رہے ہیں،وہیں دوسری جانب دودھ کی تجارت کرنے والے ایسے ایمان دار تاجروں کی بھی کمی نہیں، جو ملاوٹ کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور ملاوٹ کے کسی بھی طریقے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے لئے ناجائز سمجھتے ہیں۔


قدرت نے دودھ کو متوازن غذا بنایا ہے۔دودھ ہی سے دہی،گھی،پنیر اور دیگر کئی چیزیں بنائی جاتی ہیں۔دنیا بھر میں گائے اور بھینس کے دودھ کو مقوی صحت مانا جاتا ہے۔یہ کیلسیئم فراہم کرنے،ہڈیوں کی کمزوری اور حیاتین(وٹامنز)کی کمی دور کرنے کے ساتھ کئی بیماریوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اگر مہیا کیا جانے والا دودھ اپنے معیار اور اس میں موجود حیاتین کے لحاظ سے عمدہ ہے تو کیا کہنے۔

پاکستان میں دودھ کی سالانہ پیداوار 56 ارب لیٹر بتائی جاتی ہے اور اس مقدار کا 90 فیصد دودھ کھلا فروخت کیا جاتا ہے۔دودھ مقوی صحت ضرور ہے،لیکن ساتھ ہی بیکٹیریا کے حوالے سے حساس بھی ہے،اس لئے اسے الٹرا ہائی ٹریٹمنٹ (UHT) پروسیس،یعنی ایک خاص طریق عمل سے گزارا جانا بے حد ضروری ہوتا ہے،اس عمل سے گزارنے کے بعد ڈبا بند دودھ کھلنے سے پہلے 6 ماہ تک محفوظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا ہو نہیں رہا ہے،لہٰذا کھلا ہوا دودھ استعمال کرنے سے پہلے اچھی طرح اُبال کر استعمال کیا جاتا ہے۔

240 ملی لیٹر کے ایک گلاس دودھ میں توانائی کی مقدار کچھ اس طرح ہوتی ہے:لحمیات (پروٹینز)769ء گرام،چکنائی 793ء گرام،سیر شدہ چکنائی(جمنے والی چکنائی) 455ء گرام،نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ)117ء گرام،شکر 1232ء گرام،کیلسیئم 276 ملی گرام،پوٹاشیئم 322 ملی گرام،سوڈیئم 105 ملی گرام اور کولیسٹرول 24 ملی گرام۔ دودھ کی اہمیت و افادیت سے شہید حکیم محمد سعید خوب اچھی طرح واقف تھے۔

یہی وجہ ہے کہ دودھ اُن کا پسندیدہ ترین مشروب تھا۔ہمدرد کا ”دودھ روح افزا“ نامی مشروب بھی آج کل بہت مقبول ہے۔یہ دودھ کی مکمل غذائیت اور روح افزا کی تازگی سے بھرپور ذائقے دار مشروب ہے۔
دودھ عمر رسیدہ افراد کے لئے
بڑھتی عمر کے ساتھ عمر رسیدہ افراد کی غذائی ضروریات میں کمی آجاتی ہے۔ان کی غذاؤں میں دودھ،بکرے یا بھیڑ کا گوشت،انڈا،بغیر چھنے آٹے کی روٹی،سبزیاں اور پھل کافی مقدار میں ہونے چاہییں۔

عمر رسیدہ افراد کی غذا میں کیلسیئم کی مقدار 900 ملی گرام ہونی چاہیے۔ جو عمر رسیدہ افراد دودھ ہضم نہ کر پاتے ہوں،انھیں دہی یا پنیر ضرور کھانا چاہیے،تاکہ ہڈیاں کمزوری سے محفوظ رہ سکیں۔
دودھ نوجوانوں کے لئے
موجودہ دور کے نوجوان کولا اور توانائی بخش مشروبات(انرجی ڈرنکس)کے دل دادہ ہیں اور لسی کو فرسودہ اور دیہاتی مشروب سمجھتے ہیں۔

انھیں بھی دودھ،دہی اور اس سے بنی ہوئی اشیاء ضرور کھانی چاہییں۔
دودھ بچوں کے لئے
عموماً چھوٹے بچے دودھ پینے سے بھاگتے ہیں۔آج کل بازار میں کئی طرح کے ذائقے والے دودھ دستیاب ہیں،جو بچے بہت شوق سے پیتے ہیں۔بچوں کو یہ ذائقے دار دودھ کسٹرڈ یا کھیر کی شکل میں بھی دیا جا سکتا ہے۔
دودھ نومولود کے لئے
ماں کا دودھ بچے کے لئے بہترین غذا ہے۔

نومولود کی پیدائش کے فوری بعد اچھی نشوونما کے لئے مناسب غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ماں کا دودھ بچے کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔اس میں حیاتین،لحمیات،نشاستہ اور دیگر مفید اجزاء توازن کے ساتھ موجود ہوتے ہیں،جو اس کی نشوونما اور مدافعتی نظام کے لئے بے حد ضروری ہوتے ہیں۔یہی اجزاء دماغی خلیات (سیلز) بنانے میں بھی معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

ماں کا دودھ بچے کو اُلٹی اور نمونیا سمیت دیگر کئی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ماں کا دودھ بچے میں ایسی ضد اجسام(اینٹی باڈیز) بناتا ہے،جو اسے کسی بھی مرض سے لڑنے میں مدد دیتی ہیں۔بچوں میں منہ کے اندر سفید زخم بن جاتے ہیں،جن پر دہی کی طرح کی رطوبت جم جاتی ہے،جو دراصل پھپوندی ہوتی ہے۔یہ مرض عام طور پر دودھ پینے والے بچوں کو ہوتا ہے اور خاص طور پر ان بچوں کو جن کی پرورش بازار کے دودھ پر ہو۔

بچوں کو یہ مرض ہاضمے کی خرابی سے بھی ہوتا ہے۔عموماً 6 ماہ کی عمر سے بچے کو ٹھوس غذا کھلانی شروع کی جاتی ہے۔ٹھوس غذا سے مراد نرم غذا ہوتی ہے،جیسے دلیا،کیلا،انڈے کی سفیدی،پھلوں کا رس،سوپ اور پتلی کھچڑی وغیرہ۔اس دوران نرم غذا کے ساتھ دو سال کی عمر تک بچے کو ماں کا دودھ بھی لازمی پلایا جائے۔
کسی بھی مسئلے کی صورت میں معالج سے مشورے کے بعد فارمولا دودھ پلایا جائے۔

فارمولا دودھ میں بھی تقریباً وہی اجزاء ہوتے ہیں،جو ماں کے دودھ میں ہوتے ہیں،لیکن قوت مدافعت بڑھانے میں ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔فارمولا دودھ سے بچے کی قوت مدافعت میں اضافہ نہیں ہوتا۔کچھ خواتین ماں بننے کے بعد تساہل یا حُسن میں کمی کے ڈر سے بچے کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں،جس کے باعث ماں اور بچے دونوں کی صحت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔

بغیر کسی عذر یا بیماری کے ایسی خواتین کے لئے حدیث میں وعیدیں آئی ہیں۔ماں کا دودھ جہاں ایک طرف بچے کی بہترین نشوونما کرتا ہے،وہیں ماؤں کو چھاتی کے سرطان سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ماں کا لمس بچے میں محبت پیدا کرتا ہے۔آج کل بازار میں دستیاب ڈبا بند دودھ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جب کہ فوائد کے اعتبار سے یہ دودھ بچوں کی صحت کے لئے غیر مفید ہے،البتہ چائے کے لئے اُسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گھر کا بجٹ بناتے وقت ان تمام باتوں کا خیال کرنا چاہیے،اس لئے کہ گرانی کے اس دور میں انتہائی ضروری اشیاء ہی خریدنی چاہییں۔ مجھے اپنے والدین سے یہ سن کر حیرت ہوتی ہے،جب وہ یہ بتاتے ہیں کہ اس وقت فارمولا دودھ کا جو ڈبا بازار میں پندرہ سو روپے سے لے کر دو ہزار روپے میں دستیاب ہے،1980ء کے عشرے کے شروع میں اس کی قیمت پندرہ سے بیس روپے ہوا کرتی تھی،جب کہ اس وقت تو چنگ چی رکشا کا کم سے کم کرایہ ہی پندرہ بیس روپے ہے۔


تقابلی جائزہ
شہروں کی نسبت دیہات میں گائے اور بھینسوں کی پرورش صرف سادے چارے پر ہوتی ہے،اس لئے اس سے حاصل ہونے والے دودھ کی قیمتیں شہر کی قیمتوں سے نصف ہوتی ہیں۔چونکہ شہروں میں جگہ کی کمی کے باعث گھر گھر مویشی پالنا ممکن نہیں،جب کہ دیہات میں جگہ زیادہ ہونے کی وجہ سے اکثر گھروں میں گائے،بھینس اور مرغیاں پالی جاتی ہیں،اس لئے دودھ،دہی،انڈے،مرغی،دیسی گھی اور مکھن کی قیمتیں نہایت مناسب ہوتی ہیں اور یہ ان لوگوں کی مرغوب غذاؤں میں شامل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سخت محنت مشقت کے بعد ان چیزوں کے کھانے کی وجہ سے اُن کی صحت بھی قابل رشک ہوتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-01-13

Your Thoughts and Comments