Mithey Raseele Aam - Article No. 2011

میٹھے،رسیلے آم - تحریر نمبر 2011

جمعرات نومبر

Mithey Raseele Aam - Article No. 2011
کنزا یار خان
ایک شخص نے ٹھیلے پر آم بیچنے والے سے پوچھا:”بھائی!تمہارے ٹھیلے پر رکھے یہ کون سے آم ہیں؟ٹھیلے والا کہنے لگا:”بھائی صاحب !یہ لنگڑے آم ہیں۔“اُس شخص نے کہا:”تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ لنگڑے آم ہیں؟“اس نے جواب دیا:”بڑے بھائی!لنگڑے ہیں جب ہی تو میں ٹھیلے پر بیٹھا کر گھما رہا ہوں۔

“ یہ تو خیر ایک لطیفہ ہے،ورنہ کون ہے جسے آم پسند نہ ہو،آم پسند نہ کرنے والوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔
اکبر الٰہ آبادی نے علامہ اقبال کو تحفتاً آم بھجوائے تو شکریے کے جواب میں علامہ اقبال نے انھیں خط میں لکھا:اثر یہ تیرے اعجاز مسیحائی کا ہے اکبر +الٰہ آباد سے ”لنگڑا“ چلا لاہور تک آیا۔مرزا غالب سے کسی نے پوچھا:”حضرت !آم کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟“ فرمایا :” آم ہوں اور بہت سارے ہوں۔

(جاری ہے)

“کون سا فرد ہے،جو آم کی تعریف میں رطب اللسان نہ ہو۔گوکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر تحفتاً ایک دوسرے کو آم بھجوانے کی رسم معاشرے میں بہت کم ہو چکی ہے،لیکن ختم اب بھی نہیں ہوئی۔لوگ اب بھی ایک دوسرے کو تحفتاً آم بھجواتے ہیں۔
حیرت انگیز فوائد کا حامل آم واقعی پھلوں کا بادشاہ ہے،جسے ذیابیطس کے مریض بھی کھا سکتے ہیں،لیکن معالج سے اجازت لے کر۔

آم کے رس کا ایک گلاس حیاتین الف (وٹامن اے) کی روزانہ کی ضروریات بہ خوبی پوری کر دیتا ہے۔بعض تحقیق کار آم کی تاریخ چار ہزار سال بتاتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کو اس کا وطن مانا جاتا ہے،جہاں سے نکل کر یہ کئی دوسرے ممالک تک پھیل گیا ہے۔اب تو دنیا کے کئی ممالک میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔وہ ممالک جہاں آم پیدا نہیں ہوتا،ان ممالک کی آم کی 22 فیصد مانگ پاکستان پوری کرتا ہے۔


یہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں بہ کثرت پیدا ہوتاہے۔سندھ میں میرپور خاص کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں بھی آم پیدا ہوتا ہے۔میرپور خاص میں تو آم کی ایک بڑی منڈی ہے۔صوبہ پنجاب میں ملتان اور بھاول پور آم کی پیداوار کے لئے مشہور ہیں۔چونکہ آم گرمی کے موسم میں پیدا ہوتا ہے اور ملتان میں شدید گرمی پڑتی ہے،اسی لئے ملتان کے آم کو دیگر علاقوں کے آم پر سبقت حاصل ہے۔

یہاں کا آم اپنی خوش بو،تاثیر ،ذائقے اور لذت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔پچھلے سال جھکڑ چلنے کے باعث آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا،جس کی وجہ سے اُس کی قیمتیں بلند رہیں۔امید ہے کہ اس سال قیمتیں مناسب رہیں گی اور یہ ہر کس وناکس کی دسترس میں ہو گا۔
تحقیق کار آم کی 250 اقسام بتاتے ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں:سندھڑی،چونسا،مالدا،سرولی،کالا چونسا،سفید چونسا،نواب پوری،انور رٹول، دسہری،لنگڑا،فجری اور طوطا پری وغیرہ۔


ایک درمیانے سائز کے آم میں 21 فیصد حیاتین الف،20 فیصد حیاتین ج (وٹامن سی) کے علاوہ کیلسیئم،فولاد،حیاتین د (وٹامن ڈی)، کو بالٹ اور مینگنیز بھی ہوتی ہیں۔اس پھل میں طاقت و توانائی کا خزانہ بھرا ہوا ہے۔آم کا شیک چہرے کو حسن و رعنائی اور شادابی بخشتا ہے، کمزور جسم کو طاقت فراہم کرتا ہے،جسم کے اندرونی نظام کو درست کرتا ہے،جلد کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاتا ہے،قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے،خون پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے،عمل تکسید (Oxidation) کو روکتا ہے،آنکھوں کو شب کوری نامی بیماری سے بچاتا ہے،پیرانہ سالی کے باعث سست پڑے ہوئے ٹشوز (Tissues) کو طاقت فراہم کرتا ہے،ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور ہضم کے نظام کو درست کرتا ہے۔

اطبا کے مطابق جاتی ہوئی فصل کا پھل کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔آم کے شوقین بعض افراد آم کو فریز (Freeze) کرکے کئی مہینوں تک کھاتے ہیں،جو صحت کے لئے سراسر نقصان دہ ہے۔
آم بے حد مفید پھل ہے،اسے خود بھی کھائیں اور تحفے کے طور پر اپنے عزیز و اقارب کو بھی بھجوائیں،اس لئے کہ تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے۔آم کے موسم میں آم سے اچھا اور کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-19

Your Thoughts and Comments