بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتمولی۔ جگر کی محافظ

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مولی۔ جگر کی محافظ
مولی کے پراٹھے بھی بنائے جاتے ہیں، جو ذائقے دار ہوتے ہیں۔ مولی کا رس پینے سے پیشاب خوب کھل کرآتا ہے اور جلن دور ہوجاتی ہے۔
ایم ۔ شفیق احمد :
گاجر، چقندر اور شلجم کی طرح مولی بھی زیر زمین اُگنے والی جڑ ہے۔ اسے سبزی کے طورپر ساری دنیا میں پسند کیا جاتاہے۔ زمانہٴ قدیم سے اس کی کاشت کی جارہی ہے ۔ رومی، یونانی اور مصری اسے شوق سے کھاتے چلے آرہے ہیں۔ تحقیق کرنے والوں کا خیال ہے کہ مولی کو سب سے پہلے مغربی ایشیا میں کاشت کیا گیا ۔ یہ سردیوں کے علاوہ گرمیوں میں بھی بازار میں دستیاب ہوتی ہے، لیکن کم عرصے کے لیے۔ یہ بیجوں سے چھوٹی چھوٹی کیا ریوں میں اگائی جاتی ہے۔ جب اس کی فصل تیار ہوجاتی ہے تو اسے جڑ سمیت مٹی میں سے اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ کھاتے وقت اوپری سخت حصے کو چھیل کر علیحدہ کردیا جاتا ہے، پھر اس کے قتلے بنالیے جاتے ہیں۔ مولی کا ذائقہ عموماََ چرپراہوتا ہے، البتہ کچھ مولیاں ہلکی میٹھی بھی ہوتی ہیں۔ مولی پر سائز میں مل جاتی ہے، مثلاََ چھوٹی، لمبی اور پتلی۔ اس کا رنگ عام طور پر سفید یا کبھی کبھار سرخ بھی ہوتا ہے۔ سفید کی نسبت سرخ مولی کو لوگ کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، کیوں کہ اس میں ہلکی مٹھاس ہوتی ہے۔ مولی کے پتے عام سبزیوں کی طرح تیل میں پکائے جاتے ہیں۔ مولی سے ہمیں حیاتین (وٹامنز)حاصل ہوتی ہیں، مثلاََ حیاتین الف ، ب،ب1 اور ج (وٹامنز اے، بی ،بی،سی)اس کے علاوہ نیاسن ، فولک اور آگزیلک ایسڈ بھی فراہم کرتی ہے ۔ یہ سب صحت کے لیے ضروری ہیں۔ مولی کے پتے، بیج اور جڑ آیورویدک اور طب یونانی میں کام آتے ہیں۔ مولی کا نمک معدے کی بدہضمی میں کھایا جاتاہے۔ اس میں دوسری ادویہ ملا کر اس کا چورن بھی بنایاجاتاہے۔ مولی کو سرکے میں بھی ڈال کر کھایا جاتاہے۔ مولی کے پراٹھے بھی بنائے جاتے ہیں، جو ذائقے دار ہوتے ہیں۔ مولی کا رس پینے سے پیشاب خوب کھل کرآتا ہے اور جلن دور ہوجاتی ہے۔ حیاتین ج کی کمی سے مسوڑوں سے خون آنے لگتا ہے، مولی کھانے سے خون آنا بند ہوجاتا ہے۔ مولی کی جڑ پیشاب کا نظام درست رکھنے اور آتشک کا مرض دور کرنے میں کام آتی ہے۔ اس کے استعمال سے مسےّ ختم ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر پیشاب رک رک کر آرہا ہو او ر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو مولی کھانی چاہیے۔ حلق میں خراش،ہو بلغم آرہا ہو اور سینے پر ٹھنڈک کا اثر ہوتو مولی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ شہید حکیم محمد سعید کی رائے میں مولی یرقان کو بھی دورکرتی ہے ۔ یہ جگر کی بھی حفاظت کرتی ہے۔ آج کل کے فیشن زدہ نوجوان مولی کھانا پسند نہیں کرتے، اس لیے کہ اسے کھانے کے بعد منھ سے بُو آنے لگتی ہے۔ وہ افراد جو مولی کھانا پسند کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مولی کھانے کے بعد اگر گڑکھالیا جائے یا مٹرکے چند دانے چبالیے جائیں تو منھ کی بُو دور ہوجاتی ہے۔ مولی مہنگی سبزی نہیں ہے اور ہر موسم میں شہروں میں دستیاب ہوتی ہے۔ اگر مٹی نرم ہوتو اسے کہیں بھی اُگایا جاسکتا ہے اس کی افزائش کے لیے دھوپ اور پانی بہت ضروری ہیں۔ اسے پھلوں کے باغات میں بھی اُگایا جاسکتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے