Molli

مولی

Molli

سانس کے مرض میں مفید
مولی میں موجود اجزاء کی وجہ سے سینے کی جکڑن کم ہوتی ہے اور سانس میں روانی آتی ہے ۔مولی ہمارے ہاں زیادہ استعمال ہونے والی سبزیوں میں سے ایک ہے ۔مولی بھوک بڑھاتی اور خون کی گردش کو فعال بناتی ہے ۔مولی کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں جن کا سائز اور رنگ مختلف ہوتا ہے ۔مولی کے فوائد حاصل کرنے کیلئے اسے کچی حالت میں ہی کھانا چاہیے۔


پکانے پر اس کے وٹامن ضائع ہو جاتے ہیں ۔ مولی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے ۔مولی معدے میں تیزابیت کو کم کرتے ہوئے سینے کی جلن دور کرتی ہے ۔مولی میں فائٹو کیمیکلز اور اینتھو سائنانز ہوتے ہیں جو کینسر کے خلاف لڑتے ہیں ۔وٹامن سی کی موجودگی کی وجہ سے مولی ڈی این اے کو صحت مند رکھ کر کینسر کے خلا ف مدافعت پیدا کرتی ہے۔

(جاری ہے)


پوٹا شیم کی موجودگی کی وجہ سے مولی سے خون میں پوٹا شیم اور سوڈیم کی مقدار کنٹرول میں رہتی ہے ،اسی طرح بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رہتا ہے ۔

گردہ ومثانہ سے ریت آنے کی حالت میں مولی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔بواسیر کے مرض میں مولی کا رس اور مولی کے پتے مریض کو کھلانے سے شفا ہوتی ہے ۔مولی کو باریک کرکے نمک لگا کر کھانے سے جگر کی اصلاح ہوتی ہے ۔
یرقان کے مرض میں مولی کے پتوں کا رس نکال کر چینی ملا کر مریض کو پلانا مفید ہے ۔مولی خود دیر ہضم ہوتی ہے ۔مولی کھانے کے بعد گڑکھانے سے مولی جلد ہضم ہو جاتی ہے اور بد بودار ڈکاریں بھی نہیں آتیں ۔

تلی کے امراض میں بھی مولی کھانا مفید ہے ۔اس کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ مولی کو چھیل کر اور کاٹ کر کالی مرچ اور ہلکا سانمک لگا کر رات کو اوس میں رکھ دیں اور صبح نہار منہ کھائیں ۔یہی نسخہ بواسیر کے لیے بھی مفید ہے ۔
مولی کو سرکہ میں بھگو کر کھانا ورم تلی میں مفید ہے ۔تخم مولی بیرونی طور پر چہرہ کی سیاہی ،برص کو دور کرنے اور چہرے کا رنگ صاف کرنے کیلئے بطور اُبٹن استعمال کیے جاتے ہیں ۔

نزلہ وزکام میں چٹکی بھر نمک مولی سونگھنے سے بھی افاقہ ہوتا ہے ۔درد والی جگہ پر مولی کے بیج لیموں کے رس میں پیس کر لگانا مفید بتایا جا تا ہے ۔
مولی کے چند فوائد
صاف چمکدار دانت: مولی کا رس اور سرکہ ایک ایک چمچ،بیکنگ سوڈا اور نمک ایک چٹکی ملا کر دانتوں پر لگائیں ۔دانت صاف اور چمکدار ہو جائیں گے ۔
ہوم فیشل: مولی کا رس ،دہی اور ٹماٹر کا رس ہم وزن لے کر ابٹن کی طرح لگالیں ۔

کچھ دیر بعد عرقِ گلاب سے منہ دھولیں۔
لمبے بال: مولی کے پتے،مولی کا تیل ،سرسوں کا تیل ،بادیان کے پھول ،لہسن ،لونگ ،کالازیرہ ،اجوائن ،جائفل جاوتری ،کلونجی ،آملہ سب کو ملا کر ایک ابال دے کر اتار لیں ۔کاٹن کی مدد سے جڑوں میں لگائیں ۔
گنج پن: مولی کا رس گنج پر ہر روز رگڑنے سے گنج پن میں فائدہ ہوتا ہے ۔
جوڑوں کا درد: سرسوں کے تیل میں مولی کے پتے ڈال کر اتنا پکائیں کہ پتے جل جائیں ۔

پھر نئے پتے ڈالیں اور یہ عمل تین سے چار بار دہرائیں ۔مولی کا تیل تیار ہے ۔یہ تیل درد میں مفید ہے ۔
مسوڑھوں کے امراض : مولی پر کالی مرچ لگا کر کھائیں ۔مسوڑھوں کے امراض اور پائیوریا کے ساتھ ساتھ دانت بھی مضبوط ہو ں گے ۔
جگر کے مسائل : مولی کو کوٹ کر ململ کے کپڑے میں لپیٹ کر جگر کے مقام پر رکھیں ۔مولی کے اثرات سے جگر کے ورم میں آرام آئے گا۔ورم دور کرنے کے لیے مولی کارس پاؤں کے تلوؤں پر لگانا بھی مفید ہے ۔
پیشاب کی بیماریاں : مولی پیشاب کے کئی امراض میں بھی مفیدہے ۔
بواسیر: بواسیر کے مریضوں کے لئے مولی کارس اور مولی کے پتے مفید ہیں ۔اسے سلاد کے طور پر یا بھجیا کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-04

Your Thoughts and Comments