Namak Ki Kami Or Ziadti

نمک کی کمی اور زیادتی

جمعرات فروری

Namak Ki Kami Or Ziadti
کنزا یار خان
کسی ملک کے بادشاہ نے ایک دن اپنے بچوں کو بلا کر ان سے اپنے بارے میں رائے جاننا چاہی۔ اُن سے دریافت کیا کہ اُن کی نظر میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ پہلے شہزادے نے کہا:”ابّا جان !آپ میرے لئے چاندی کی طرح ہیں۔“دوسرے نے کہا:“ابّا جان !آپ میرے لئے سونے کی طرح ہیں۔“تیسرے نے کہا:”بابا!آپ میرے لئے ہیرے کی طرح ہیں“جب کہ شہزادی نے کہا کہ پیارے ابّو!میری زندگی میں آپ کی حیثیت نمک کی سی ہے۔

بادشاہ کو شہزادی کا جواب غیر معقول لگا۔خیر بات آئی گئی ہو گئی۔کچھ عرصے بعد بادشاہ سلامت کو بلند فشارِ خون(ہائی بلڈ پریشر)کا مرض لاحق ہو گیا۔اطبا نے ان کے کھانوں میں نمک کی مقدار بہت کم کردی اور انھیں ادویہ کے ساتھ روکھے پھیکے پر ہیزی کھانے دیئے جانے لگے۔

(جاری ہے)

اس وقت انھیں نمک کی اہمیت کا احساس ہوا اور شہزادی کی بات یاد آئی اور بہت معقول لگی۔

انگریزی میں ”سالٹ“(SALT) کہی جانے والی اس چیز کو اردو میں نمک کہا جاتاہے ۔تبت میں آج بھی زیریں ہمالیائی علاقوں میں آباد بستیوں میں جھیلوں کے کنارے جمنے والے نمک کے بدلے اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کی جاتی ہیں۔افریقہ کے کئی علاقوں میں بھی ایسا ہی ہوتاہے۔ اگر آپ ہاکس بے (HAWKSBAY) جائیں یا کراچی سے بدین اور ٹھٹھہ کی طرف جائیں تو جنوب کی طرف سمندر کے کنارے نمک کے ڈھیر نظر آئیں گے۔


پاکستان بہت خوش قسمت ملک ہے کہ جہاں سمندری نمک کے علاوہ معدنی نمک بھی وافر مقدار میں موجود ہے۔ نمک زمانہ قدیم سے جانوروں کی کھالوں،گوشت اور مچھلی کو محفوظ کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔گو کہ سمندری نمک صنعتوں میں استعمال ہوتاہے، مگر المیہ یہ ہے کہ کچھ نا عاقبت اندیش افراد زیادہ منافع کے لالچ میں یہ نمک غریب بستیوں کے مکینوں کو چٹانی نمک کہہ کر کھلا رہے ہیں، جو صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے ۔

پاکستان میں سمندری نمک کے علاوہ معدنی نمک کے ذخائر بھی موجود ہے۔معدنی نمک کے ذخائر صوبہ پنجاب میں کھیوڑہ کے مقام پر نمک کی کانوں میں موجود ہیں۔ہر سال یہاں سے 3لاکھ 25ہزار ٹن نمک نکالا جاتاہے۔
نمک کے بغیر زندگی پھیکی لگے گی۔انسانی صحت وتوانائی کے علاوہ ذائقے کی دنیا بھی نمک ہی کی وجہ سے آباد ہے۔ اس کی کمی بھی صحت کے لئے اچھی نہیں،اس لئے اس کی مناسب مقدار ضرور کھانی چاہیے۔

ایک لحاظ سے یہ جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔جسم کے ہر خلیے کا انحصار سوڈیئم پر ہے، جو نمک کا جزو ہے۔نمک جسم کو زہریلے مادوں سے پاک کرتاہے۔ اس میں شامل آیوڈین صحت کے لئے بہت ضروری ہے ۔اس سے اعصابی نظام خوب فعال اور چوکس رہتاہے اور عصبی اشارے (NERVE SIGNALS) ٹھیک طور سے کام کرتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جسم فاضل نمک جلد کی تہ میں محفوظ کر لیتاہے۔

اس طرح جلد جراثیم سے محفوظ رہتی ہے ۔نمک قوت مدافعت کو درست رکھتاہے اور لو بلڈ پریشر کو نارمل کرنے میں مدد دیتاہے ۔یہ دمے،ملیریا،ٹائیفائڈ،بخار،جلدی امراض اور جوڑوں کا درد دور کرنے میں بھی فائدہ مند ہے۔اسے مناسب مقدار میں ہی کھانا چاہیے۔
زیادہ مقدار میں کھانے سے مختلف قسم کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ دل کا بایاں بطن(LEFT-VENTRICLE) پھیل جاتاہے، جو قلب کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتاہے۔

نمک زیادہ کھانے کی عادت کے ساتھ اگر پانی بھی کم مقدار میں پیا جائے تو گردوں پر بہت خراب اثرات پڑ سکتے ہیں۔نمک کی کمی یا زیادتی جسمانی ساخت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔جن لوگوں کے جسموں سے سخت گرمی یا شدید محنت کی وجہ سے زیادہ پسینا خارج ہوتاہے، اسی کے ساتھ نمک کی مقدار بھی خارج ہو جاتی ہے۔ ایسے افراد معالج کے مشورے سے نمک کی زیادہ مقدار کھا سکتے ہیں۔

نمک کی زیادہ مقدار کھانے کی عادت سے چھوٹی آنت اور معدے میں زخم ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سینے میں سوزش وجلن بھی ہو سکتی ہے ۔اگر آپ امراض سے بچنا چاہتے ہیں تو کھانے میں اوپر سے نمک ہر گز نہ ڈالیں۔اپنی روزانہ کی غذاؤں میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار بڑھا کر زیادہ نمک کھانے کی عادت سے پیدا ہونے والے امراض پر قابو پایا جا سکتاہے ،اس لئے کہ ان میں نمک کی مقدار کم ہو تی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-13

Your Thoughts and Comments