بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتنازک سی پرتوں میں چھپی کھٹی میٹھی رسیلی رس بھری

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نازک سی پرتوں میں چھپی کھٹی میٹھی رسیلی رس بھری
رس بھری ایک نرم بیری یا پھل ہے جو دنیا بھر میں چمکدار پیلے رنگ سے لے کر نارنجی رنگ میں بھی دستیاب ہے

نازک سی پرتوں میں چھپی کھٹی میٹھی رسیلی رس بھری
نسیم حسین:
نازک سی پرتوں میں چھپی ہوئی رس بھری کے پودے کو نباتاتی زبان میں فائی سلیس پیروویانا کہتے ہیں جس کا اصل تعلق لاطینی امریکا کے ملک پیرو سے ہے۔ اس پودے اور اس کے پھل کو جنوبی افریقہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کیپ گوس بیری یا فائے سیلس کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ جنوب مغربی امریکا کا یہ مقامی پھل ہے تاہم برطانیہ میں اسے 18 ویں صدی میں کاشت کیا گیا اور جنوبی افریقہ میں کیپ آف گڈ ہوپ میں یہ 19 ویں صدی کے آغاز میں کاشت ہونے لگی۔ رس بھری کا قریبی تعلق ٹومائیلو اور چینی لالٹین سے بھی ہے ۔ اس کا خاندان سولانا سیسز ہے جبکہ دور کا تعلق ٹماٹر، بینگن اور نائٹ شیڈز کے دیگر پودوں سے بھی ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ رس بھری کا تعلق چیری، ربز گوس بیری، آملہ اور چینی گوس بیری سے بھی نہیں ہے۔ رس بھری ایک نرم بیری یا پھل ہے جو دیکھنے میں میں چھوٹا سا پیلا ٹماٹر لگتا ہے۔ اس کا قطر محض ایک سے دو سینٹی میٹر ہوتا ہے اس میں ٹماٹر کی طرح ہی چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں چمکدار پیلے سے لیکر نارنجی رنگ میں بھی دستیاب ہے۔ جب رس بھری نرم ہوجاتی ہے تو اس کا ذائقہ میٹھا ہوجاتا ہے ۔ اس سے قبل اس کا ذائقہ تھوڑا کھٹا ہوتا ہے ۔ یہ بطور اسنیک اور جام بہت مشہور ہے۔ اسے سلاد اور فروٹ سلاد میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بطور سجاوٹی پھل رس بھری کو بہت استعمال کیا جاتا ہے ایک نازک سے غلاف میں موجود رس بھری عموماََ 30 سے40 دنوں تک کھا نے کے لائق رہتی ہے۔ چلی اور پیرو میں اکثریہ رس بھری جنگلوں میں اگی ملتی ہے جسے مقامی افراد نہ صرف کھاتے ہیں بلکہ بازار میں فروخت بھی کرتے ہیں۔ چند برسوں قبل رس بھری کو بطور نقد آور فصل اُگایا جارہا ہے۔ جس کے تحت اسے منطقہ حارہ ، نیم گرم اورگرم علاقوں میں بھی متعارف کرایا گیا۔ جنوبی افریقہ کے علاقے کیپ آف گڈ ہوپ میں اسے1807 میں کاشت کیا گیا تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ کاشت رس بھری کو برطانیہ متعارف کروانے سے قبل ہوئی یا بعد میں بہر حال 19 ویں صدی کے درمیانی عرصے تک رس بھری کانام کیپ گوسبیری پڑچکا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رس بھری کے خلاف کی وجہ سے اسے کیپ کا نام دیا گیا۔ جنوبی افریقہ میں متعارف ہونے کے کچھ عرصے بعد رس بھری کو آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور دیگر جزائر میں متعارف کروایا گیا۔ جنوبی افریقہ میں رس بھری کاروباری نکتہ نظر کے تحت کاشت کی جاتی ہے۔ وہاں اس سے جام اور ٹن فروٹ تیار کیے جاتے ہیں اور اکثر اسے برآمد کیا جاتا ہے ۔ مختصر تعداد میں یہ گیبون اور وسطی افریقہ کے کچھ ملکوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی رس بھری بہت مختصر وقت کے لیے بازا ر میں دستیاب ہوتی ہے اور یہ موسم سرما کا پھل ہے۔ جنوبی افریقہ میں فائی سلیس پیرویانا کہلائی جانے والی رس بھری کو امریکا میں گولڈن بیری کے نام سے پکارا جاتا ہے اور کہیں کہیں یہ پچوبیری بھی کہلاتی ہے جو ماچوپچو کے نام ہے جو پیرو میں واقع مشہور زمانہ کھنڈرات ہیں۔ برطانیہ میں تازہ رس بھری فائی سلیس جبکہ خشک رس بھری گولڈن بیری کے نام سے فروخت ہوتی ہے شمال مشرقی چین کے صوبے ہیلونگ جیانگ میں یہ اگست کے آخر سے ستمبر تک کاشت کی جاتی ہے ۔ چینی زبان میں رس بھری کو پن ین پکارا جاتا ہے اور اسے گونیاؤ اور ماؤ سوان جیانگ بھی کہتے ہیں ۔ یہ تھائی لینڈ میں بھی اُگائی جاتی ہے اور مصر میں بھی جہاں اسے یعنی شرمیلی خاتون کے نام سے پکارا جاتا ہے جو اس کے غلاف کی وجہ سے وجود میں آیا۔ فرانس میں رس بھری کو اموران کیج یالوان کیج کہتے ہیں۔ رس بھری میں کاربوہائیڈریٹ، فیٹ،وٹامن C ‘ کیلشیم‘ فولاد اور فاسفورس پایا جاتا ہے۔ USDA کے مطابق رس بھری میں کیلوریز کی مقدار خاصی کم ہوتی ہے یعنی 100 گرام رس بھری میں 53 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔ اس کے بیج میں لینولک ایسڈ‘ اورلک ایسڈ نامی فیٹی ایسڈ‘ بیٹا سیٹو سیٹرول اورکمپاسیٹرول بطور فائٹو سٹرول پائے جاتے ہیں۔ اس کے بیج کے تیل میں وٹامن K اور بیٹا کیروٹین موجود ہوتا ہے۔ رس بھری کا پودا عموماََ 2 سے 3 فٹ لمبا ہوتا ہے تاہم 6 فٹ لمبا پودا بھی دیکھا گیا ہے ۔ اس کے پتے مخملی اور دل کی شکل کے ہوتے ہیں ۔ رس بھری کو یوں تو پکا ہوا ہی کھایا جاتا ہے تاہم اس کو سلاد‘ ہی اور جئی کے ساتھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ پھل کا غلاف اسی وقت ہٹایا جائے جب اسے کھانا مقصود ہو”رس بھری کی مختلف اقسام میں امیٹی لیت ہیم‘ میکر‘ول ا میٹی ‘ فل گولڈ ‘ برانڈی وائن اور بلیک ہاک شامل ہیں۔“ رس بھری روس‘ پولینڈ‘ یوگو سلاویہ‘ جرمنی‘ چلی اور امریکا میں کاشت کی جاتی ہے۔ رس بھری کے بعض نام یہ ہیں۔ ان کا بیری ‘ افریقن گراؤن بیری‘ پیروین گراؤنڈچیری‘پوچووا‘ ایزٹیک بیری‘ جائنٹ گراؤنڈ چیری‘ پوک پوک‘پویا‘اگوائے مانٹو‘ یوویلا‘یودا وغیرہ رس بھری میں فروکٹوس کی بہتات ہے لہٰذا یہ ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے مناسب پھل ہے رس بھری ردّ سوزش کا علاج ہیں۔ اس کے علاوہ رس بھری دمہ کا علاج ہے۔ اینٹی سپیٹک ہے۔ رس بھری قبض کشاہے۔ پیٹ کے کیڑے مارتی ہے۔ دست آور یعنی مہل ہے۔ اس میں موجود فائٹو کیمیکلز یعنی پولی فینولز اور کیروٹی نائیڈ اور پوٹاشیم بلڈ پریشر میں آرام دیتے ہیں یہ بایو کمپاؤنڈز کولیسٹرول کم کرتے ہیں رس بھری میں موجود پولی فینول اور کیروٹی نائیڈ کی اچھی خاصی مقدار پھیپھڑوں کے سرطان کے خلاف مدافعت پیدا کرتے ہیں رس بھری میں موجود اینٹی ہیپا ٹوما سرطان خاص طور پر لیوکیمیا کے علاج کے سلسلے میں تجویز کیا گیا ہے۔ کیرالہ میں آج بھی رس بھری کو سرطان کے علاج میں بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔ رس بھری میں یہ طاقت بھی موجود ہے کہ وہ جسم میں موجود فری ریڈیکلز کے افعال کو روکتی ہے ساتھ ہی دماغی امراض کی روک تھام بھی کرتی ہے ۔ رس بھری عمدہ بصارت کے حصول کا آسان ذریعہ ہے۔ اس میں موجود وٹامن A روزانہ کی جسمانی ضروریات کا 14 فیصد پورا کرتی ہے۔ بینائی بہتر کرتی ہے ۔ قرنیہ کی صحت بہتر بناتی ہے۔ آنکھ کے عضلات کی کمزوری رفع کرتی ہے۔ رس بھری میں پیکٹائن میں موجود ہوتا ہے جو کیلشیم اور فاسفورس کے انجذ اب کو یقینی بنا کر ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اس جوڑوں کے امراض ‘ گھٹیا اور سوزش جلد کے علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس میں وٹامن C بھی پایا جاتا ہے جو انسان کی روزانہ کی ضروریات کا 18 فیصد پورا کرتا ہے ۔ وٹامن C دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق بات طے ہے کہ رس بھری کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے نہیں دیتا اور جگر کی صحت کے لیے مفید ہے ۔ اس میں موجود فائٹو کمیکلز دل کے نظام کو مناسب انداز میں چلنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ذیا بیطس کے خطرات کو کم کرنے کیساتھ کیساتھ آنتوں کے نظام کو بھی بہتررکھتی ہے۔ خلق کے امراض میں رس بھری کا استعمال مفید ہے۔ اس کے پتے کا عرق دمے کے علاج میں استعمال ہوتا ہے ۔ رس بھری ملیریا،ڈرماٹائی ٹسِ ہیپاٹائٹس کا بھی علاج ہے۔ رس بھری خون کی کمی کے مرض یعنی انیمیا کو ختم کرتی ہے۔ اس میں موجود پوتاشیم بلڈ پریشر کوکم کرتا ہے۔ آپ رس بھری کو بطور پھل کھا سکتی ہیں۔ اس کی پڈنگ ، سوس،جام،جیلی،سلاد ، فروٹ سلاد اور میٹھے بنا سکتی ہیں۔ فروٹ سلاد بنانے کے لیے شہد اور سیب رس بھری کے ساتھ بہت مزیدار لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ رس بھری کو مختلف جیلیوں، دہی، کیک،جئی وغیرہ کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رس بھری کوکم پکے پھلوں کے ساتھ نہیں رکھنا چاہیے۔ اگر رس بھری کو سال بھر کے لیے فریز ر میں رکھنا ہوتو یوں کریں کہ پھل کو دھو کر پیپر ٹاول کی مدد سے تھپتھپاکر صاف کرلیں اور ایک پلیٹ میں پھیلا دیں ان پر پلاسٹک کے لفافے میں ڈال کر دوبارہ فریزر میں رکھ دیں۔ اگر آپ چاہیں تو رس بھری کا رنگ محفوظ رکھنے کے لیے اسے لفافے میں ڈالتے ہوئے اس پر لیموں کا رس بھی چھڑک سکتی ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے