Paani Ki Ehmiyat , Afadiyat Or Zarorat

پانی کی اہمیت،افادیت اور ضرورت

Paani Ki Ehmiyat , Afadiyat Or Zarorat
پر وفیسر ڈاکٹر سید اسلم ،ایف آرسی پی(ایڈنبرا)ایف اے سی سی (امریکا)
ہمارے جسم میں سب سے زیادہ مقدار پانی کی ہوتی ہے۔خون میں دس میں سے نوحصے پانی ہوتاہے۔
ہمارے گوشت میں تین چوتھائی پانی ہے ۔جسم کے اکثر اعضائے رئیسہ ،جو سخت کام میں مصروف رہتے ہیں جیسے دل ،پھیپھڑے ،گُردے اور عضلات ،ان میں پانی کی کثیر مقدار ہر وقت رہتی ہے۔


یہ عام تجربہ ہے کہ فاقہ کشی کی حالت میں بھوک زیادہ لگتی ہے ۔اگر ہمیں کسی وجہ سے کھانے کو نہ ملے تو ہم پھر بھی اس وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں ،جب تک ہماری ساری چربی،ساری جمع شدہ شکر اور نصف لحمیات(پروٹینز)ہمارے جسم سے ختم نہ ہو جائیں،لیکن دس فیصد پانی ہمارے جسم سے کم ہوجانا خطر ناک ہے اور بیس فی صد کمی ہونے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

(جاری ہے)


پانی کے ذریعے غذا ہضم ہوتی ہے اور جہاں جہاں ضرورت ہو،پہنچتی ہے ۔

پانی ہی کے ذریعے جسم سے غیر ضروری مادے خارج ہوتے ہیں ۔پانی سے جسم کی سیرابی ہوتی اور شادابی آتی ہے ۔کاربن ڈائی آکسائیڈگیس اسی میں حل ہو کر جسم کے ہر حصے سے خارج ہوتی ہے اور اوکسیجن گیس اسی میں گھل کر جسم کے ہر حصے تک پہنچ کر قرار جان بن جاتی ہے۔
ہمارے جسم میں حرارت کی یکسانیت پانی ہی کی مرہون منت ہے اور جب یہ پسینے کی شکل میں بخارات بن کر اُرجاتا ہے تو ہمارے جسم سے غیر ضروری گرمی خارج ہوجاتی ہے۔

جس طرح مٹی کے برتن سے پانی رس رس کر اس کو ٹھنڈا رکھتا ہے ،بالکل اسی طرح ہمارے جسم کے مساموں میں سے پانی پسینے کی شکل میں نکل کر جسم کو خنکی اور تازگی بخشتاہے۔
اس کے علاوہ پانی ہمارے جوڑوں کو چکنا رکھتا اور دماغ کی جھلّیوں کو تری مہیا کرتا ہے ۔جو پانی ہم پیتے ہیں اس غذاکا جزو ہے ،جو ہم کھاتے ہیں ۔یہ پھلوں میں بھی ہوتا ہے ،سبزیوں میں بھی اور خشک غلے اور دالوں میں بھی پانی ہی ہوتا ہے ۔

آلو میں تین چوتھائی اور ٹماٹر تو زیادہ تر پانی ہے ۔اس سے جہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری غذا کا نصف سے زیادہ حصہ پانی پر مشتمل ہے ،وہاں اس سے یہ بھی عیاں ہوجاتا ہے کہ پانی ہماری صحت وبقا کے لیے کس قدر ضروری ہے۔
پینے کی چیزوں ،جیسے کافی،شوربا،ٹھنڈے مشروب اور سالن وغیرہ کا جزو غالب پانی ہے ۔ان سب کے علاوہ پانی کا ایک اور بھی ذریعہ ہے ۔

جب غذا ہمارے جسم میں تحلیل ہوتی ہے تو دوسری چیزوں کے ساتھ پانی بھی بنتا ہے اور اس طرح تقریباً تین چوتھائی بوتل پانی جسم کو مل جاتاہے۔
جس قدر پانی ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے ،اسی قدر خارج بھی ہوتا ہے ۔ایک صحت منداور تندرست آدمی ایک بوتل کے برابر پانی پیشاب کے ذریعے اور تقریباً اسی قدر(خصوصاًگرم ممالک میں)پسینے کی شکل میں خارج کرتا ہے ۔

جلد پر سے یہ اپنے آپ خارج ہوتا ہے، چاہے پسینا ہمیں دکھائی دے یا نہیں۔یہ اخراج ان صورتوں میں بھی ہوتا ہے ،جب بہ ظاہر نہ پسینا آرہا ہو اور نہ کوئی محنت کی جارہی ہو۔ہم سانس کے ذریعے چوبیس گھنٹے میں تقریباً نصف بوتل کے قریب پانی خارج کر دیتے ہیں۔
جب پانی ہمارے جسم کا اس قدر ضروری حصہ ہے اور اتنی بڑی مقدار میں خارج ہوتا رہتا ہے تو اس کو کثیر مقدار میں مہیا بھی کیا جانا چاہیے۔

اگر مناسب مقدار میں پانی نہ پیا جائے تو نقاہت ہو جاتی ہے ،خون میں غلاظت پیدا ہوجاتی ہے ،غذا ہضم نہیں ہوتی ،اجابت معمول کے مطابق نہیں ہوتی،بلکہ سخت اور تکلیف سے ہوتی ہے،پیشاب کم اور گہرے رنگ کا آتا ہے اور عام شکایت یہ ہوتی ہے کہ پیشاب تیل کی طرح ہورہا ہوتا ہے ۔جسم اندر سے گرم اور غلیظ ہو جاتا ہے ،پانی جس طرح جسم کو باہر سے صاف کرتا ہے ،اس سے کچھ زیادہ یہ اندرونی صفائی کرتاہے۔


پانی قدرت کی فیاضی کی لازوال مثال ہے ،جس کا اسراف اگر چہ عام ہے،لیکن صحیح استفادہ اور مصرف اس مناسبت سے کم ہے ۔پانی جس مقدار میں پینا چاہیے،اتنا لوگ نہیں پیتے۔اس کی سب سے بڑی وجہ عالم گیر لاعلمی ہے کہ پانی پینا کس قدر ضروری ہے اور کم پینے کے کیا مضر اثرات ہیں؟گو کھانا کھانے کے بعد حلق صاف کرنے کے لیے عادتاً تھوڑا سا پانی پیا جاتا ہے ،لیکن یہ مقدار ضرورت کے مطابق نہیں ہے اور اب تو یہ رسم بھی مفقود ہوتی جارہی ہے۔


کھانے کے بعد چائے ،کافی وغیرہ کا رواج بڑھتا جارہا ہے،جو مغرب کا اثر ہے تو اس عمل میں اندھی تقلید کے علاوہ لاعلمی کا بھی حصہ ہے ۔مغرب میں ایک تو سرد ملک ہونے کی وجہ سے اس قدر پانی کی ضرورت نہیں ہوتی،جس قدر گرم ملکوں میں ہوتی ہے ۔دوسرے یہ بھی حقیقت ہے کہ علم نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھی پانی ضرورت سے کم پیا جاتا ہے،لیکن اب وہاں بھی پانی کی اہمیت کا احساس پیدا ہورہا ہے ۔

چائے یا کافی سے تشنگی مٹانے سے پانی کی ضرور ت توپوری نہیں ہوتی ،بلکہ ان کے بعد زیادہ پیشاب آکر جسم میں پانی کی قلت بڑھ جاتی ہے۔
کھانے کے ساتھ پانی نہ پینا ایک غلط مفروضہ ہے کہ اس سے ہاضمہ بگڑ جائے گا۔یہ بات گو درست ہے کہ بغیر چبائی ہوئی غذا کو پانی کی مدد سے پیٹ میں اتار نا مناسب نہیں ہے،لیکن خواہش کے مطابق پانی پینا مفید اور بحالی صحت کے لیے معاون ہے ،سواے ان لوگو ں کے جن کو کھانے کے بعد سوئے ہضم اور نفخ ہوتا ہے ،ا ن کو چاہیے یا تو کھانے سے نصف گھنٹہ قبل یا دو گھنٹے بعد پانی پییں۔


حسب خواہش پانی نہ پینے کی دوسری وجہ پانی کی قدرے نایابی ہے ۔یہ افسوس ناک بات ہے کہ چائے،کافی اور کولامشروبات تو تقریباً ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں اور مقبول عام ذریعہ تواضع ہیں لیکن صاف پانی کا ملنا اکثر اوقات جوے شیرلانے سے کم نہیں ہوتا۔
پیاس،پانی کی ضرورت کا اچھا خاصااشارہ ہے۔گو صحیح پیمانہ نہیں ہے ،اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ جب بھی پیاس ہوتو پانی پینا چاہیے اور اچھی طرح پینا چاہیے،بلکہ پیاس سے زیادہ پیا جائے۔

زیادہ پانی پینے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا،سوائے ان بیماروں کے جن کو ان کے طبیب نے منع کیا ہو ،اس لیے پانی پینے اور پلانے کے معاملے میں بخل نہیں کرنا چاہیے اورا س بات کی پختہ عادت ڈالنی چاہیے کہ مختلف وقفوں کے بعد مناسب مقدار میں پیا جائے۔
بعض حالات میں پانی کی خواہش اور ضرورت بڑھ جاتی ہے ،مثلاً جب زیادہ نمک،گوشت ،مچھلی ،انڈا ،
ماش،چنا یا مٹھاس کھائی جائے۔

چائے اور کافی سے چوں کہ پیشاب زیادہ آتا ہے ،اس لیے ان کے بعد پانی کی خواہش اور ضرورت بڑھ جاتی ہے ،جس کوپورا کرنا چاہیے۔
بخارمیں ،ورزش کے بعد اور گرم موسم میں پانی کی ضرورت میں زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے ،جس کو اگر پورا نہ کیا جائے تو نقصان ہو گا۔صحرا کی دھوپ میں سفر کے دوران پانی کا اخراج بے انتہا کثیر مقدار میں ہوتا ہے اور بعض دفعہ تو اس کی مقدار پندرہ بوتلوں (دس لیٹر)سے بھی تجاوز کرجاتی ہے ۔

بخار میں زیادہ پانی پینے سے ایک تو پیشاب زیادہ آتا ہے اور جسم میں جس قدر زہریلے مادّے ہوتے ہیں ،وہ خارج ہو
جاتے ہیں۔ دوسرے بخار کی حالت میں گرم جسم سے پانی زیادہ خارج ہو چکا ہوتا ہے اور پانی کی قلت ہوتی ہے ۔پانی اس کمی کو پورا کرکے سارے جسم میں ٹھنڈک پیدا کرتا ہے ۔اس طرح جو کچھ بھی علاج ہورہا ہوتا ہے ،اس میں ممدومعاون ہوتا ہے اور جسم سے ادویہ کے اخراج میں بھی مدد دیتا ہے ،اس لیے اس قول میں بڑی صداقت ہے کہ پانی جس طرح ہمیں باہر سے صاف ستھرا کرتا ہے ،کچھ اس سے زیادہ ہمیں اندر سے بھی پاک اور صاف کرتاہے۔


جس طرح گھر کی صفائی کے لیے پانی ضروری ہے ،اسی طرح یہ بھی ایک مسئلہ حقیقت ہے کہ جسم میں ہر وقت جو زہریلا مواد پیدا ہوتا ہے اور انسانی مشین کے کام کرنے سے جسم میں جو کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے ،
وہ اسی صورت جلد اور گردوں کے ذریعے صاف اور خارج ہوگا،جب پانی کی کثیر مقدار پی جائے۔
جب پیشاب میں تعدیہ(انفیکشن)ہوتو علاج کے علاوہ زیادہ پانی پینا مرض کے ازالے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔اسی طرح گردوں میں جب پتھری ہوتو زیادہ پانی پینے سے ایک تو پتھری کے اخراج میں مدد ملتی ہے اور دوسرے پتھری کے بننے سے بھی تحفظ ملتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-17

Your Thoughts and Comments