Papple Fruit Saib Hai Ya Nashpati? Bojho Tu Janain - Article No. 1999

پے پل فروٹ سیب ہے یا ناشپاتی؟بوجھو تو جانیں - تحریر نمبر 1999

ہفتہ نومبر

Papple Fruit Saib Hai Ya Nashpati? Bojho Tu Janain - Article No. 1999
افشین حسین بلگرامی
مارکیٹ میں آج کل ایک پھل کی ایک نئی قسم تیزی سے مقبولیت اور پسندیدگی کی صف میں شامل ہوتی نظر آرہی ہے یہ پھل دیکھنے میں بالکل سیب کی طرح نظر آتا ہے تاہم اس پھل کا ذائقہ اور ساخت ناشپاتی سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔یہ پھل تخمی یا ہائیبریڈ پھلوں کے زمرے میں شامل وہ پھل ہے جسے نباتیاتی ماہرین (بوٹونیکل ایکسپرٹس) نے ”پے پل فروٹ“ (Papple Fruit) کا نام دیا ہے۔

زرعی یا نباتاتی ماہرین گزشتہ کئی عشروں سے پھلوں کی مختلف اقسام کی قلم کاری سے تو پھلوں کی مزیدار اقسام تیار کر رہے ہیں جن میں آم اور کینو وغیرہ کے نام تو سرفہرست ہی ہیں مگر کاشت کاری کے تخمی طریقوں(جنہیں سائنسی اصطلاح میں ہائیبریڈ پولیشن اینڈ ایگریکلچر (Hybrid Pollination & Agriculture) کہا جاتا ہے کو بروئے کار لاتے ہوئے اب ایک ہی نباتاتی خاندان بوٹونیکل فیملی (Botanical Family) سے تعلق رکھنے والے دیگر دو مختلف پھلوں کے بیجوں کی بار آوری کے ذریعے پھل کی ایک بالکل نئی قسم کراس بریڈ کرنے کی جستجو گزشتہ کئی برسوں سے تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اپنی کوششوں میں کامیابی سائنسدانوں نے روزیاسی (Rosaceae) فیملی سے تعلق رکھنے والے دو مزیدار پھلوں یعنی سیب اور ناشپاتی کی باہمی تخم ریزی کرکے حاصل کی ہے۔

(جاری ہے)

سیب اور ناشپاتی کی تخمی تحقیق کو T109کا ہائیبریڈ کوڈ دیا گیا ہے۔جبکہ حاصل ہونے والے اس ہائیبریڈ پھل کو پے پل فروٹ کا نام دیا گیا ہے اس کی وجہ انگریزی زبان میں سیب کو ایپل (Apple) اور ناشپاتی کو پیئر (Pear) کہنا ہے اسی لئے ان دونوں پھلوں سے وجود پانے والی اس قسم کو تحقیق کاروں نے پے پل (Papple) کا نام دیا ہے۔
غذائی لحاظ سے پھلوں کا بادشاہ تسلیم کیا جانے والا پھل سیب بلاشبہ ایک بہترین پھل ہے بڑے بزرگ اور طبی ماہرین کا مقولہ قدیم وقتوں سے زبان زد عام ہے کہ ”ایک سیب روزانہ کھانے سے ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی“کیونکہ روزانہ ایک سیب کھانے سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے اور ماہرین کے مطابق ننانوے فیصد بیماریوں کی جڑیں نظام ہاضمے کی خرابیوں سے جا کر ملتی ہیں۔

اسی طرح روزیاسی نامی نباتاتی خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک اور بہترین پھل ناشپاتی کے نام سے بھی بے پناہ شہرت کا حامل ہے جو کہ سیب کی طرح ہی رسیلا اور مزیدار ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لئے بھی ایک اکسیر پھل کی حیثیت رکھتا ہے۔سیب کے جیسے ہی یہ پھل بے شمار ادویاتی خوبیوں کا حامل بھی قرار دیا جاتا ہے نظام ہاضمہ کے مرکزی حصوں جیسے کے معدے اور آنتوں کی صحت بحال رکھنے میں ناشپاتی نہ صرف ایک بہترین میلین پھل کی حیثیت سے تیزابیت دور کرنے‘آنتوں میں غذائی تحلیل کے عمل کو تیز کرکے دائمی قبض اور نظام ہاضمہ کی دیگر کمزوریوں کو بھی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔


جرمن سائنسدانوں نے سیب اور ناشپاتی کے ملاپ سے جو یہ نیا پھل تیار کیا ہے۔یہ دیکھنے میں تو سیب جیسا ہے لیکن اس کا ذائقہ اور غذائی خصوصیات ناشپاتی سے ملتی ہیں جرمنی کی یونیورسٹی آف ایلائیڈ سائنسز سے منسلک تحقیق کاروں ڈیئرینڈ اور سنا پیبروک نے اپنی تحقیقاتی ٹیم کے ہمراہ گزشتہ دو دہائیوں کی محنت کے بعد پھل کی یہ قسم ایجاد کی ہے یہ تحقیقی سیبوں کی مختلف اقسام پر (لگ بھگ تیرہ برسوں کی)تفصیلی اور طویل مطالعاتی دوروں پر مشتمل ہے اس کام کی مالی معاونت جرمنی میں پھلوں کی پیدوار سے منسلک 200سے زائد کمپنیوں کی تنظیم ”لوور ایلبے بریڈنگ اینثی ایسٹیو(زید۔

آئی۔این) (Lover Albey Breeding Initiative) کر رہی ہے۔ڈیئرینڈ کہتے ہیں کہ”سیب اور ناشپاتی کے ملاپ سے تیار کیا گیا۔”پے پل“نامی پھل کا درخت دیکھنے میں سیب کے درخت جیسا لگتا ہے جبکہ اس کے پتے ناشپاتی کے درخت کی طرح نظر آتے ہیں۔جبکہ درخت پر اگنے والے پے پل (Papple) نامی قیہ تخمی یا ہائیبریڈ پھل بھی سیب کی شکل کے ہیں مگر اس کا ذائقہ اور خصوصیات ناشپاتی سے مماثل نظر آیا کرتی ہیں۔


اس ہائیبریڈ پھل کو سیب کی مختلف اقسام اور پھر آپس میں کراس بریڈ کرایا جاتا ہے۔تحقیق کار پر اُمید تھے کہ اس طرح ایک اعلیٰ معیار کا پھل تیار ہو سکے گا تاہم ایسا ہونے میں قدرتی عمل دخل کو نظر انداز کیا جانا نا ممکن بھی تھا کیونکہ سیب کی نئی قسم کی تیاری اور اس کی باقاعدہ فروخت شروع ہونے میں 20-15 سال کا وقت درکار تھا تحقیقی عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے محققین کا کہنا تھا کہ سیب اور ناشپاتی کے جینیاتی ملاپ سے ایک نئے پھل تیار کرنے کی کوششوں میں صرف جرمن ماہرین ہی مصروب نہیں تھے بلکہ نیوزی لینڈ میں بھی اس حوالے سے تحقیقات کی گئیں تحقیق کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ”کسی بھی ہائیبریڈ پھل کا اچھا ذائقہ محض ایک صفت ہے۔

اس کے علاوہ اس میں بیماریوں سے بچاؤ کی صلاحیت بھی اہم ہے۔مثال کے طور پر اگر ناشپاتی کے درخت کے جینیاتی خوائص کا سیب کے درخت کے ساتھ ملاپ کرایا جائے تو نموپانے والے اس کراس بریڈ پودے میں ان خرابیوں کے پیدا ہونے کے امکانات صفر ہو جایا کرتے ہیں۔جس کا شکار سیب کا درخت یا پودا ہوا کرتا ہے جس کی وجہ سے کیڑے مار ادویات کے استعمال کی جھنجھٹ بھی ختم ہو جاتی ہے۔


پے پل فروٹ نامی اس پھل میں سیب اور ناشپاتی کی غذائی خصوصیات چونکہ ایک ہی جگہ سموئی ہوئی ہیں۔اس لئے یہ پھل بالکل ایک پنتھ دو کاج کا مثالی نمونہ ثابت ہوتا ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ تحقیق کاروں نے پے پل فروٹ کا جو پودا سیب اور ناشپاتی پھل کی کراس پولینشن کے ذریعے تیار کیا اس میں لگنے والے پھل اور ان پھلوں سے تیار کیے جانے والے مزید درختوں میں بھی کاشت کے حوالے سے بہترین فوائد دیکھنے میں آئے جیسے کہ پے پل فروٹ کے درخت میں زرخیزی کی کمی یا کیڑا لگنے کی شکایات سامنے نہیں آئیں اور پھل میں بھی بیجوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔

واضح رہے روز یا سی فیملی کے پودوں کے پھولوں کے بیج سائنائیڈ (زہر) کی کثیر رسید کے حامل ہوا کرتے ہیں اسی لئے سیب اور ناشپاتی کے بیج کھانا انتہائی خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے)پے پل فروٹ میں بھی سڑنے اور جلد کیڑا لگنے کے امکانات بھی بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔کولیسٹرول سے پاک یہ پھل دل و دماغ کے لئے فرحت بخش نیا خون پیدا کرنے‘جگر کو تقویت دینے‘ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج کے ساتھ ساتھ مزاج پر مثبت اور خوشگوار اثرات پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

بچوں کے لئے پے پل فروٹ ایک بہترین و مزیدار ہیلتھی و سرپرائز ٹریٹ کچھ اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ سلائس میں کٹے پے پل فروٹ کو اگر بچوں کو کھلاتے ہوئے انہیں پھل کے ذائقے اور ساخت (جو کہ وہ بناء دیکھے صرف محسوس کر سکتے ہیں)کی بناء پر پھل کا نام بوجھنے کو کہا جائے تو کبھی وہ سیب کا نام لیں گے تو کبھی اسے ناشپاتی کے نام سے شناخت کریں گے۔بچوں پر ہی کیا موقوف شاید اکثر بڑی عمر کے افراد بھی پے پل فروٹ کا ذائقہ چکھ کر اس کی شناخت درست انداز میں کرتے ہوئے چکرا کر ہی رہ جائیں گے۔


پیکٹن (Pectin) کاربوہائیڈریٹس‘فلورائیڈ‘آئرن اور وٹامنز کی موجودگی پے پل فروٹ کو صحت و تندرستی میں اضافہ کرنے والے ایک بہترین پھل کی صف میں لاکر کھڑا کر دیتی ہے۔ان بہترین اجزاء کی موجودگی کی وجہ سے پے پل فروٹ استعما ل کرنے والا فرد کبھی بھی بلند فشار خون اور دائمی قبض کا مریض نہیں بن سکتا۔روزانہ ایک پے پل فروٹ استعمال کرنے سے جسم میں کولیسٹرول کی سطح بھی کم رہتی ہے۔ خون کی رگوں میں پھٹکیاں(Clots) نہیں بنتی اور دوران خون متوازن رہتا ہے۔جبکہ ان تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ پے پل فروٹ انتہائی مزیدار رسیلا اور زود ہضم پھل ہے۔اس لئے بچوں بڑوں سب کے لئے ہی روزانہ اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-07

Your Thoughts and Comments