Peanuts - Jaare Ka Khass Tohfa - Article No. 2077

مونگ پھلی جاڑے کا خاص تحفہ - تحریر نمبر 2077

منگل فروری

Peanuts - Jaare Ka Khass Tohfa - Article No. 2077
جاڑوں کا موسم صحت افزا ہوتا ہے۔بیرونی ماحول میں سردی کے خلاف جسم کے تمام اعضا صف آرا ہو جاتے ہیں۔معدے اور جگر کا عمل تیز ہو کر بھوک چمک اٹھتی ہے۔بدن کسرت و ورزش کا خواہاں ہوتا ہے۔جو لوگ فطرت کے ان اشاروں کو سمجھ کر صحیح،مقوی اور حرارت بخش غذا کھاتے اور ورزش کے ذریعے دوران خون کو تیز کرکے خون میں اوکسیجن خوب جذب کرتے ہیں،وہ اس موسم سے خوب لطف اندوز اور مستفید ہوتے ہیں۔

اس موسم میں جسم ایسے غذائی اجزاء طلب کرتا ہے،جن سے گوشت بنے اور جسم میں خون و حرارت پیدا ہو۔جسم کو حرارت و توانائی بخشنے والی غذاؤں میں مغزیات بہت اہم ہوتے ہیں۔ان میں یوں تو بادام،پستہ،چلغوزہ،اخروٹ اور کاجو وغیرہ کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے،لیکن قدرت نے سستے تازہ پھلوں کی طرح مونگ پھلی کی صورت میں ہمیں ایک سستا روغنی بیج (مغز) بھی عطا کیا ہے۔

(جاری ہے)

جاڑوں کے شروع ہوتے ہی ریڑھی اور ٹھیلوں پر اس کے کڑھاؤ چڑھ جاتے ہیں اور گرم گرم بالُو(ریت)میں بھونی جانے والی مونگ پھلیوں کی خوشبو انھیں کھانے پر اکسانے لگتی ہے۔
مونگ پھلی کو انگریزی میں”گراؤنڈنٹ“ (Groundnut) کہتے ہیں۔یہ سندھی میں”بوہی مگ“ کہلاتی ہے۔بعض لوگ اسے چینی یا چینا بادام بھی کہتے ہیں،خصوصاً ڈھاکے میں یہ اسی نام سے مشہور ہے۔

مونگ پھلی کی کئی قسمیں ہیں۔بعض کے دانے بڑے اور بعض کے چھوٹے ہوتے ہیں۔دانوں کے اُوپری چھلکوں کی رنگت بھی گہری سرخ یا ہلکی ہوتی ہے۔زرعی تحقیق کے ذریعے اس کی کئی نئی اقسام تیار کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرکے اس سے خوردنی تیل زیادہ مقدار میں حاصل کرنا ہے۔ہندوستان میں مصنوعی گھی کی تیاری میں یہ تیل بہت استعمال ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اس کا تیل بھی کھایا جاتا ہے۔اسے روغن زیتون کا اچھا بدل سمجھا جاتا ہے۔
مونگ پھلی میں 23 فیصد لحمیات (پروٹینز)،53 فیصد نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ)اور 12 فیصد روغنی مادہ ہوتا ہے۔فائدے کے اعتبار سے مونگ پھلی ،کاجو اور اخروٹ سے کم نہیں ہوتی۔اسے بھوننے سے ذائقے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔مونگ پھلی میں کیلسیئم،فاسفورس اور حیاتین ب ا(وٹامن بی ا) بھی ہوتی ہے۔

جاڑوں میں مونگ پھلی کھانے سے جسم کو خوب غذائیت ملتی ہے،جسم توانا ہوتا ہے اور اس میں حرارت کے پیدا ہونے سے جسم جاڑوں کا اچھی طرح مقابلہ کرتا ہے۔بعض افراد کے گلے میں اس کو کھانے سے تکلیف ہو جاتی ہے،انھیں اسے بھون کر کھانا چاہیے۔نیز اس کے بیجوں کو نمک لگا کر بھون کر کھانے سے گلے میں تکلیف نہیں ہوتی۔
مونگ پھلی مختلف طریقوں سے کھائی جاتی ہے یا پھر اسے غذا میں شامل کیا جاتا ہے۔

اس کی چٹنی بھی بہت ذائقے دار ہوتی ہے۔آدھا پاؤ مونگ پھلی کے دانوں کو دھیمی آنچ پر بھون کر چھلکا دور کرکے گرائنڈر میں موٹا موٹا پیس کر اس میں مرچ،نمک اور زیرہ وغیرہ بھی پیس کر ملاتے ہیں۔یہ چٹنی گرم روٹی کے ساتھ بڑا مزہ دیتی ہے۔ایک ذائقے دار سالن کے علاوہ یہ جسم کو درکار حرارے(کیلوریز)اور دوسرے مقوی اجزاء بھی فراہم کرتی ہے۔جی چاہے تو اسی میں ہری مرچ،دھنیا اور لیموں کا رس ملا کر اس کی افادیت اور بڑھا لیجیے۔

مونگ پھلی کے دانوں کو گھی اور تیل میں ہلکی آنچ پر تل کر اس میں مرچ مصالحے ملانے سے یہ بہت چٹ پٹے ہو جاتے ہیں۔بھنے ہوئے دانوں کو تھوڑے پانی کے ساتھ باریک پیس کر گوشت کے سالن میں ملانے سے شوربا گاڑھا اور بہت ذائقے دار ہو جاتا ہے۔
مونگ پھلی کو گڑ کے ساتھ بھی کھاتے ہیں۔یہ دونوں چیزیں حرارت بدن میں اضافہ کرتی ہیں۔ورزش کرنے والوں کے لئے یہ ایک بڑی مفید اور مقوی غذا ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح گڑ کے گاڑھے قوام میں بھنے اور چھلے ہوئے دانوں کو ملا کر جما کر ٹھنڈا ہونے پر اس کو مثلث کی شکل میں کاٹ لیتے ہیں۔یہ بھی بڑی ذائقے دار مٹھائی ہوتی ہے ،جسے سب بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔جماتے وقت اس میں بھنے ہوئے صاف تِل اور کھوپرے کا اضافہ کرنے سے یہ ایک نہایت مقوی،خوش ذائقہ اور دل پسند مٹھائی بن جاتی ہے۔بعض لوگ اس میں تھوڑا کوکو پاؤڈر یا اوولٹین بھی ملاتے ہیں،اس طرح ذائقے کے علاوہ اس میں بڑی اچھی خوشبو بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

بعض لوگ میتھی کے ساگ میں مونگ پھلی کوٹ کر ملا کر تھوڑی دیر بھوننے کے بعد روٹی سے کھاتے ہیں۔اس طرح میتھی کی افادیت بڑھ جاتی ہے،جسم کو لحمیات ملتی ہیں اور لذت کے ساتھ ساتھ تقویت بدن و صحت کا سامان بھی ہو جاتا ہے۔ان جاڑوں میں قدرت کے اس عطیے سے فائدہ اٹھائیے۔ یاد رکھیے کہ یہ بہت مزے دار ہوتی ہے،اس لئے اسے بھی تمام نعمتوں کی طرح اعتدال کے ساتھ کھائیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-09

Your Thoughts and Comments