Phoolon Mein Khushbu Bhi....doa Bhi - Article No. 1559

پھولوں میں خوشبو بھی․․․․دوابھی - تحریر نمبر 1559

پیر 29 اپریل 2019

Phoolon Mein Khushbu Bhi....doa Bhi  - Article No. 1559
حکیم محمد ابراہیم شاہ
اللہ نے کوئی چیز بے کار نہیں بنائی۔ہر چیز میں بڑی خوبیاں ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ان خوبیوں کا علم نہیں ہوتا۔پھول تو ہر ایک کو خوبصورت لگتے ہیں ،ان میں اور کیا کیا خوبیاں ہیں ان سے ہر شخص واقف نہیں ۔آئیے ان پھولوں کی خوشبو کے ساتھ ساتھ ان کی خوبیوں سے بھی متعارف ہو تے ہیں۔
گلاب (Rose)
یہ پھول پھولوں کا بادشاہ کہلاتا ہے ۔

اس سے گلقندتیار ہوتا ہے جو قبض کی شکایت میں مفید ہے ۔اس کے پھول کے زیرے کو پیس کر پانچ گرام مقدار میں دست روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔عرق گلاب دکھتی ہوئی آنکھوں میں ڈالنے سے آرام آجاتا ہے ۔شربت گلاب دل گھبرانے کی شکایت میں بے حد مفید ہے۔
گل گڑھل(Hibiscus)
اس کا پودا اکثر باغوں میں لگا ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

اس کے پھول گہرے سرخ ہوتے ہیں ۔

گل گڑھل بالوں کو لمبا اور سیاہ کرتا ہے ،تیلوں میں گڑھل کے بیچ پانچ گرام کھانے سے پیشاب میں جلن اور سوزش ختم ہو جاتی ہے ۔
اس پھول کیت ازہ پتیوں کو پانی میں جوش دے کر شکر ملا کر کھانسی ،حلق کی خراش اور پیشاب کی بعض کایات میں استعمال کیا جاتا ہے۔خشک پھولوں کا سفوف پانچ گرام کی مقدار میں روزانہ صبح نہاز منہ استعمال کرنا جریان اور بدخوانی میں مفید ہے ۔


گل داؤدی(Chrysanthemum)
اس پھول کے جو شاندے کے استعمال سے گردے اور مثانے کی پتھری نکل جاتی ہے ۔سخت قسم کے بلغمی ورم ختم کرنے کے لیے اس کا مرہم بہت مفید ہے۔120گرام گل داؤدی ،ساٹھے تین گرام سونف اور ڈیڑھ گرام زیدہ سفید کوٹ کرپانی میں اتنا پکائیں کہ تمام چیزیں مرہم کی طرح ہو جائیں۔بلغمی ورم تحلیل کرنے کے لیے یہ مرہم مفید ہے۔


سورج مکھی(Sunflower)
اسے گل آفتاب پرست بھی کہاجاتا ہے ۔کیونکہ یہ ہر وقت اپنا رخ سورج کی طرف رکھتا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے ۔اس پھول کو سرکے میں ملا رک سات رو ز تک عرق النساء(ٹانگ کا درد جو کولہے سے شروع ہو کر پنڈلی تک آتا ہے )پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتاہے۔
پیٹ کے کیڑے نکالنے کے لیے اس کے بیجوں کی دوسے چار گرام تک کی پھنکی دو دن تک دن میں دو بار دینی چاہیے۔

تیسرے دن آرنڈی کا تیل استعمال کرائیں۔
گل سدابہار(Periwinkle)
اس کے پھول دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک گلابی اور دوسرے سفید۔اس کے پتے مہندی کے پتوں کے ساتھ پیس کرلگانے سے کارش میں فائدہ ہوتا ہے ۔یہ پھیپھڑوں کے امراض اور کھانسی وغیرہ میں مفید ہے ۔دست اور پیچش روکنے کے لیے اس کے تازہ پتے ستائیس گرام کی مقدار میں پانی سے کھانا بہت مفید ہے ۔

جدید تحقیق کے مطابق اس کی پتیاں ذیابیطس میں مفید پائی گئی ہیں۔
کنیر(Oleander)
اس درخت کی دو اقسام ہیں ۔ایک میں سرخ پھول لگتے ہیں اور دوسرے میں سفید۔سفید قسم کم یاب اور زہریلی ہوتی ہے ۔کنیر کے پھولوں کا لیپ بنا کر چہرے پر لگانے سے رنگت نکھر جاتی ہے اس کے پھولوں یا پتوں کو باریک پیس کر نسوار کی طرح سونگھنے سے چھنکیں آتی ہیں اور بند نزلہ خارج ہو کر درد سر کی شکایت دور ہو جاتی ہے ۔

اس کاتیل پر انی خارش میں مفید ہے ۔پتوں کا جو شاندہ بنا کر اس میں روغن زیتون پکائیں کہ پانی جل کر صرف تیل باقی رہ جائے ۔یہ عمل ایسی خارش میں مفید ہے جو طویل مدت سے ہو اور کھجاتے کھجاتے کھال موٹی ہوگئی ہو۔
نیلوفر(Water Lily)
کنول کی طرح یہ بھی پانی میں ہوتا ہے ۔پھول بہت خوبصورت ہوتے ہیں ۔ان میں سے بعض پودوں کے پھول ایسے ہوتے ہیں جو دن میں کھلتے ہیں اور رات میں بند ہو جاتے ہیں ،لیکن بعض صرف رات میں ہی کھلتے ہیں۔


کشمیر کی جھیلوں میں نیلو فرپایا جاتا ہے ۔پھولوں کے رنگ مختلف ہوتے ہیں ۔بعض کارنگ سفید،کسی کا سرخ اور بعض کا ہلکا نیلا یا بنفشی ہوتا ہے ۔اس کے پتے گول اور بہت خوبصورت ہوتے ہیں ۔اس کی بعض اقسام گرم علاقوں میں ہوتی ہیں اور بعض سرد علاقوں میں۔
اس کاپھول دل ودماغ کی تقویت کے لیے بہت مفید ہے ۔گرمی کے عوارض میں اس کا شربت بہترین اثرات کا حامل ہوتا ہے ۔

آنتوں کے زخموں کو مندمل کرتا ہے ۔صفراوی شکایات میں بے حد فائدے مند ہے ۔سرخ پھولوں والی نیلو فرکی جڑابال کر بواسیر کے مرض میں غذا کے طور پر کھلاتے ہیں ۔دست روکنے کے لیے پھولوں کا جو شاندہ مفید ہے ۔اس کے پھول کا عرق گرمی کی کھانسی،تپ دق اور پسلیوں کے درد میں مفید ہے ۔اس کے پھولوں سے جوروغن تیار ہوتا ہے وہ نیند لاتا ہے اور درد سر کو روکتاہے۔


گل تسبیح(Canna)
اس پھولوں کے بیجوں سے تسبیح بنائی جاتی ہے اس کا پیڑ آدھ گزسے لے کر تین گزتک بلند،پتے کیلے کے پتوں سے مشابہ مگران سے چھوٹے،پتوں کے درمیان سے شاخ نکل کر اس پر پھول آتا ہے ۔بیج پختہ ہو کر سیاہ ہوجاتے ہیں ۔یہ بیج دل کی کمزوری میں استعمال ہوتے ہیں ۔کمزور ہاضمے والے مریضوں کو اس پودے کی جڑ کی روٹی پکا کر کھلائی جاتی ہے ۔

اس کی جڑ میں نشاستہ کافی مقدار میں ہوتا ہے۔یہ روٹی جلد ہضم ہو کر ہاضمہ قوی کرتی ہے۔
گیندا(Marigold)
اسے گل صد برگ بھی کہاجاتا ہے ۔یہ پھول یرقان(پیلیا)میں مفیدہے۔اگر کسی مریض کا پیشاب رک گیا ہو تو اس کو کونپلوں کا شیرہ مصری ملا کر پلاتے ہیں۔ خونی بواسیر میں دس گرام پھولوں کو شیرہ کالی مرچ پانچ عدد کے ساتھ پیس کر استعمال کرانے سے فائدہ ہوتا ہے اور بواسیر کا خون رک جاتا ہے ۔

یہ پھول ورموں کو گھلاتا ہے ۔زخموں کو خشک کرتا ہے ۔
نرگس(Narcissus)
اس پھول کو ہمارے شاعروں نے انتشار کے استعارے میں استعمال کیا ہے اور اسے انتشار کرتی ہوئی آنکھ سے تشبیہہ دی ہے ۔اس کے پھول میں چھ پتیاں ہوتی ہیں ۔سردی سے نزلہ زکام ہو گیا ہو تو وہ اس پھول کے سونگنے سے ختم ہو جاتا ہے بال خورے کی شکایت میں اس پھول کو سر کے کے ساتھ لیپ کر نا فائدے مند ہوتا ہے ۔

پھوڑوں پر پھولوں کو لیپ کرنے سے ان کی پیپ صاف ہو جاتی ہے ۔سیاہ داغ صاف کرنے کے لیے سرکے میں نرگس کے بیج پیس کر لیپ کرتے ہیں۔
کنول(Lotus)
یہ ایک آبی پودے کا پھول ہوتا ہے جو تالابوں اور جھیلوں میں پایا جاتا ہے ،ہندوؤں کے نزدیک یہ پھول بہت متبرک ہوتا ہے۔پھول کے نیچے بیر کے برابر بیج ہوتے ہیں جنہیں کنول گٹہ کہا جاتا ہے۔

یہ بیج کھائے جاتے ہیں ۔ان کا ذائقہ شیریں ہوتا ہے ۔بچوں کے دست روکنے کے لیے مغز کنول گٹہ پانی میں پیس کر چھان کربچوں کوپلانے سے آرام آجاتا ہے ۔چھ گرام کی مقدار میں مغزکنول گٹہ دینے سے جریان وغیرہ میں فائدہ ہوجاتاہے۔
گلنار(Carnation)
یہ ایک درخت کا پھول ہے ۔اس کا درخت انار کے درخت سے مشابہ ہوتا ہے ۔اس کے درخت میں بہت کم پھل آتا ہے ۔

اس کا پھول سرخ رنگ کا ہوتا ہے ۔بعض اقسام کا سفید اور سیاہ پھول بھی ہوتا ہے ۔یہ پھول دستوں کو بند کرنے میں مفید ہے۔
آنتوں کے زخم اور پیچش کے لیے نافع ہے ۔اسے جوش دے رکلیاں کرنے سے دانتوں کا ہلکا بند ہوتا ہے ۔اس کا سفوف منہ کے چھالوں میں چھڑ کنے سے فائدہ ہوتا ہے ۔
چنبیلی (Jasmine)
چنبیلی کے پھول مختلف رنگ کے ہوتے ہیں مثلاً سفید،زرد اور نیلا ۔

سفید قسم بہت عام ہے ،زرد اور نیلی کم یاب ہے ۔جھائیاں دور کرنے کے لیے چنبیلی کے پھولوں کا لیپ کیا جاتا ہے ۔اس کے لیپ سے رخساروں کارنگ نکھر جاتا ہے اور ان پر سرخی آجاتی ہے ۔چنبیلی کے پھولوں سے تیل بانتا ہے جو خارش ،فالج، لقوہ اور استسقامیں مفید ہے ۔اس کے پتوں کو چبانا یا جو شاندہ سے کلی کرنا دانتوں کے درد اور منہ چھالے ہو جانے کے لیے مفید ہے ۔
ناگ پھنی(Cactus Flower)
ناگ پھنی کو تھوہر بھی کہاجاتا ہے ۔اس کے پتے ناگ کے پھن سے مشابہ ہوتے ہیں اس لیے اسے ناگ پھنی کہاجاتا ہے ۔اس کے پتوں پر باریک کاٹنے ہوتے ہیں۔اس کے پختہ پھل کارنگ قرمزی اور ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔یہ پھل بواسیر کے لیے بہت مفید ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2019-04-29

Your Thoughts and Comments