Pista Ye Dil Ki Bemarion Se Door Rakhta Hai

پستہ یہ دل کی بیماریوں سے دوررکھتاہے

Pista Ye Dil Ki Bemarion Se Door Rakhta Hai
حمزہ فیروز :
سردی میں خشک میوہ جات استعمال صحت کے لیے مفید ثابت ہوتاہے۔ ان میں ایک میوہ پستہ بھی ہے پستے کاشمار مغزیات میں کیاجاتاہے۔ یہ جسم میں حرارت بھی پیداکرتاہے۔ جب کہ قوت حافظہ، دل، معدے اور دماغ کے لیے بھی مفید ہے۔ اس کے متواتراستعمال سے جسم ٹھوس اور بھاری ہوجاتاہے۔ مغزپستہ سردیوں کی کھانسی میں بھی مفید ہے اور پھیپھڑوں سے بلغم خارج کرکے انہیں صاف رکھتاہے۔

پستے میں کیلشیم، پوٹاشیم اور حیاتین بھی اچھی خاصی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ایک سو گرام پستے کی گری میں 594حرارے ہوتے ہیں۔ پستہ کااستعمال مختلف سویٹس کے ہم راہ صدیوں سے مستعمل ہے۔ حلوہ زردہ اور کھیرکا لازمی جزہے۔ نمکین بھنا ہوپستہ انتہائی لذت دارہوتاہے اور دیگر مغزیات کی طرح بھی استعمال کیاجاتاہے۔

(جاری ہے)

جدید طبی تحقیق کے مطابق دن میں معمولی مقدار میں پستہ کھانے کی عادت انسان کو دل کی بیماری سے دوررکھ سکتی ہے۔

پستہ خون میں شامل ہو کرخون کے اندرکولیسٹرول کی مقدار کوکم کردیتا ہے۔ اس کے علاوہ خون میں شامل مضرعنصر لیوٹین کوبھی ختم کرنے میں مدد دیتاہے۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیاکہ پھل اور پتے دار ہری سبزیوں کھانے سے شریانوں میں جمے کولیسٹرول کوپگھلایاجاسکتاہے۔ پستہ عام خوراک کی طرح کھاناآسان بھی ہے اور ذائقے دارغذا بھی اگرایک آدمی مکھن تیل اورپنیر سے بھرپور غذاؤں کے بعد ہلکی غذاؤں کی طرف آناچاہتاہے تواسے پستہ کھانے سے آغاز کرنا چاہیے۔

پستہ کا روزانہ استعمال کینسر کے امراض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک جدیدتحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ مناسب مقدارمیں پستہ کھانے سے پھیپڑوں اور دیگر کینسرزکاخطرہ کم ہوجاتاہے۔ کینسر پرکام کرنے والی ایک امریکی ایسوسی ایشن کے تحت کی جانے والی ریسرچ کے مطابق پستہ میں وٹامن ای کی ایک خاص قسم موجود ہوتی ہے جوکینسر کے خلاف انتہائی مفید ہے ۔ ماہرین کاکہناہے کہ پستہ میں موجود اس خاص جزو سے نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ دیگر کئی اقسام کے کینسرسے لڑنے کے لیے مضبوط مدافعتی نظام حاصل کیاجاسکتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2016-01-16

Your Thoughts and Comments