Pyaas

پیاس

Pyaas
پیاس
انسان پیاس اس وقت محسوس کرتا ہے جب انسان کا جسم ٹھوس غذا اور سیال غذا یا پانی کے ختم ہوجانے پر پیاس کی علامتیں ظاہر کرنے لگتا ہے معدے میں سکڑاؤ بڑھتا ہے زبان ہونٹ اور حلق خشک ہونے لگتا ہے اور بے چینی بڑھ جاتی ہے ساتھ ہی جسم کے وزن میں دو فیصد یا اس سے زیادہ کمی واقع ہوجاتی ہے پیاس کے اسباب بھی وہیں ہیں اور پیاس دور کرکے تسکین حاصل کرنے کے طریقے بھی وہی ہیں جو بھوک کے سلسلے میں بیان کیے گئے ہیں یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ صحت مند انسان کے جسم میں 60 سے 70 فیصد تک پانی ہوتا ہے اور جسم کی کارکردگی اور اس کا نظام اسی وقت درست حالت میں چل سکتا ہے کہ انسان کے جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار موجود ہو لہٰذا پیاس لگتے ہی اسے دور کرنا صحت مند رہنے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ غذائی اجزاء کا جسم ہونا ضروری ہے۔

(جاری ہے)


غذا: یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ غذا جسم کی پرورش کرتی ہے اور اس میں مطلوبہ حرارت قائم رکھتی ہے غذا میں وہ تمام ٹھوس اور سیال کھانے والی چیزیں شامل ہیں جو انسان کے جسم میں پہنچ کر اس کی نشوونما صحت صلاحیت اور کارکردگی کو برقرار رکھنے کا کردار ادا کرتی ہیں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان کے جینے کے دوران اس کے تمام اعضا اپنے اپنے فرائض ادا کرتے ہیں دماغ سوچتا ہے آنکھیں دیکھتی ہیں کان سنتے ہیں اور ہاتھ پاؤں چلتے ہیں اس عمل میں جسم کے اعضا کی صلاحیت خرچ ہوتی ہے یہ ٹوٹ پھوٹ بھی جاتی ہے لہٰذا ان کی مرمت نشوونما اور خرچ ہونے والی توانائی کو پورا کرنے والی چیز غذا ہی ہے اگر غذا جسم میں نہ پہنچے تو یہ اعضا اپنے آپ کو قائم رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کرتے ہیں اور اس طرح گھل جاتے ہیں یا گھس جاتے ہیں جیسے کسی مشین کے پرزے تیل وغیرہ نہ ملنے سے گھس جاتے ہیں اور پھر ایسا وقت آجاتا ہے کہ ناکارہ ہوجاتے ہیں چنانچہ انسان جسم کی توانائی اور صحت کو غذا تین طریقوں سے برقرار رکھتی ہے۔


۱۔غذا انسانی جسم کی نشوونما کو جاری رکھتی ہے اور اعضا کی مرمت کا کام کرتی ہے کیونکہ انسانی جسم کے تمام اعضا میں توڑ پھوڑ جاری رہتی ہے جس سے جسم کے خلیے اور معدنی نمکیات ضائع ہونے لگتے ہیں اعضا کو توڑ پھوڑ سے بچانے میں وہ لحمیات اور نمکیات کام کرتے ہیں جو غذا کے ذریعے انسان کے جسم کو حاصل ہوتے ہیں انسان کے جسم میں تقریباً ساڑھے تین کھرب خلیے ہوتے ہیں جو لحمیات پر مشتمل ہوتے ہیں اس لیے جسم کو لحمیات کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے معدنی نمکیات میں کیلشیم،فاسفورس اور لوہے کے نمک خاص طور پر قابل ذکر ہے ان کے بغیر ہڈیوں اور خون کے خلیوں کی توڑ پھوڑ کا علاج نہیں ہوسکتا۔


۲۔غذا کا کام جسم میں قوت پیدا کرتا ہے یہ قوت جسم میں فضائی آکسیجن،شکر،چکنائی اور لحمیات ملنے سے پیدا ہوتی ہے جس سے بدن میں حرارت غریزی قائم رہتی ہے اسی حرارت پر جسم کے اندرونی اعضا کے کیمیائی اور طبعی افعال محنت مشقت اور غور و فکر کے تمام کاموں کا انحصار ہے۔
۳۔جسم میں نشوونما اور کارکردگی کی صلاحیت کو تیز کرنے میں غذا جسم کو مختلف قسم کے مرکبات فراہم کرتی ہیں نامیاتی مرکبات میں مختلف وٹامن یعنی حیاتین جسم کے اندر بننے والے ہارمون اور لوہے وغیرہ اہم ہیں جو جسم کی تعمیر اور بقا میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔


ہاضمے کا نظام: جسم کے کچھ اعضا غذا ہضم کرنے کا فرض ادا کرتے ہیں ان کے مجموعی کام کا نام ہاضمے کا نظام ہے غذا کو سمجھنے کے لیے اس نظام کے لیے اہم غذا اور ان کے کام سے واقف ہونا ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2018-01-18

Your Thoughts and Comments