Roza - Ramzan Or Sehat

روزہ،رمضان اور صحت

Roza - Ramzan Or Sehat
شہید حکیم محمد سعید
درحقیقت زندگی کی محنتیں اور کاوشیں سامان تسکین حیات ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی معیشت قیام وبقاکی جدوجہد اور کشاکش کا نام ہے ،اس لیے قدرتی طور پر اس کا ہر گوشہ طرح طرح کی محنتوں اور کاوشوں میں گھرا ہوا ہے اور بہ حیثیت مجموعی زندگی اضطراری ذمے داریوں کا بوجھ اور مسلسل مشقتوں کی آزمایش ہے۔


قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”بلاشبہ ہم نے انسان کو اس طرح بنایا ہے کہ اس کی زندگی مشقتوں سے گھری ہوئی ہے۔“
جولوگ حرکت میں رہتے ہیں ،وہ برکت پاتے ہیں ۔جو انسان جدوجہد اور سعی مسلسل اور کاوش پیہم کو مشعل راہ بنالیتے ہیں، اس دنیا کی فراوانیاں ان کا مقدر ہوجاتی ہیں اور جب اس کا مقصود اللہ اور اس کی محبت ہوتا ہے تو انسانی عظمت انتہاؤں کوچھولیتی ہے۔

(جاری ہے)


روزہ ایک عبادت اور فرض ہے ۔اس کے جسمانی اور روحانی فائدے مسلم ہیں۔میرے نزدیک من جملہ دیگر فوائد وبرکات کے روزے کا مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان جو ہر قسم کی نعمتوں سے بہرہ ورہے اور ان کے کھانے پینے پر قدرت رکھتا ہے،وہ حسب حکم خداوندی جب کھانے پینے سے ہاتھ کھینچتا ہے،خود کو اکل وشرب ،یعنی کھانے پینے سے محروم کرتا ہے اور جب اس محرومی کا احساس کرتا ہے تو اس کو ضرور ان لوگوں کا خیال آنا چاہیے،جو بے بضاعتی کی بنا پر اشیائے خورونوش سے محروم رہتے ہیں ۔

اسے اس بھوک کا احساس ہونا چاہیے،جو ایک نادار کی قسمت ہوجاتی ہے اور اس پیاس کا ادراک ہونا چاہیے،جوکش مکشِ حیات اور اصول وفرایض کی بنا پر اختیار کی جاتی ہے۔
اگر ایک روزے دار کی رُوح روزے کی اس ایک غرض و غایت سے آگاہ اور واقف نہیں ہوتی ہے تو میری رائے میں اس کے احساس وادراک کی قوتوں کو بیدار ہونا چاہیے۔جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو خالق کائنات کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔

طلوع سحرتا غروب آفتاب آپ خود پر جو پابندی عائد کرتے ہیں، وہ آپ کا اپنا فعل ہے اور آپ کا ضمیر ہے ،جو آپ کو پابند بناتا ہے ۔جب آپ پابندی کرتے ہیں اور اس پابندی کو توڑتے نہیں تو آپ خوب جانتے ہیں کہ اس کا جاننے والا صرف اللہ ہے اور اس یقین کے ساتھ آپ تعمیل ارشاد کرتے ہیں۔
اطاعت کی یہ تربیت بھی روزے کا عنوان ہے ،وہی قادر مطلق جس کے حکم کی آپ تعمیل کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں،آپ کو کھانے پینے کی پوری آزادی دیتا ہے ،مگر ایک حدکے ساتھ کہ اسراف نہ کرو۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم اتنا نہ کھائیں کہ وہ ایک طرف اسراف کی حد میں آجائے اور دوسری طرف ہمارے جسم اور ہماری رُوح کے لیے سبب علالت بن جائے۔ہم جب بھی ضرورت سے زیادہ کھائیں گے ،ہمارا جسم اور اس کا نظام اسے قبول نہیں کرے گا اور وہ ضائع ہو گا۔
رمضان میں قدرت کی نعمتوں سے متمتع ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم نہ صرف اپنے اقتصادی نظام کو متاثر کرلیں،بلکہ کھانے پینے کا زائد ازضرورت وحیثیت سامان کرکے اپنے لیے نئے مسائل پیدا کرلیں۔

وہ لوگ،جو بے حساب نعمتوں سے بے حساب متمتع ہونے کے اہل ہیں ،ان کو اپنے پڑوس اور اپنے معاشرے کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ کوئی فاقہ تو نہیں کررہا ہے۔
میری رائے میں رمضان شریف میں افطار وسحر کے جو اہتمام وانتظامات عام طور سے آج کل لوگ کرتے ہیں،وہ اس ماہ مبارک کی روح اور جذبے کے خلاف ہیں ۔کھانے پینے میں تنوعات کثیرہ(بہت زیادہ اقسام )نقصان دہ ہیں۔

افطار میں عموماً ہم جتنا کھا لیتے ہیں، رات کے کھانے سے جو شکم پُری کر لیتے ہیں اور پھر صبح سحری میں جولوازمات ہم تیار کرتے ہیں ،وہ اگر چہ کھانے کی تعریف میں آتے ہیں ،لیکن قطعی طور پر ہماری جسمانی ضرورت وحاجت سے زیادہ ہیں،ہمیں اس کا حساب کرنا چاہیے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں ہر چیز جتنی زیادہ حقیقت سے قریب ہوتی ہے،اتنی ہی زیادہ سہل ودل نشین اور قابل لحاظ وعمل ہوتی ہے اور خود فطرت کا یہ حال ہے کہ وہ کسی گوشے میں بھی اُلجھی ہوئی نہیں ۔

الجھاؤ جس قدر پیدا ہوتا ہے ،بناوٹ اور تکلف سے پیدا ہوتاہے۔
میں ذاتی طور پر رمضان المبارک میں گزشتہ کئی برسوں سے افطار کے وقت مروجہ افطاری ،یعنی دہی بڑے ،دال سموسے،پھلکیاں ،چٹنیاں،قلمی بڑے اور آلو کچالو وغیرہ کچھ نہیں کھاتا۔میرامعمول یہ ہے کہ میں کھجور سے روزہ افطار کرتا ہوں اور اگر ممکن ہوتونماز مغرب سے فارغ ہو کر نا شتا کر لیتا ہوں،یعنی ایک گلاس دودھ ،ذراسی دبل روٹی بغیر مکھن کے ،گاہے بہ گاہے انڈا اور بس۔

سحری میں معمولی سا سادہ کھانا کھاتا ہوں ۔گھی والی روٹی اور چاول رمضان المبارک میں ترک کر دیتا ہوں ۔میں اس معمول پر برسوں سے کار بند ہوں اور مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
شاید میں غلطی نہیں کروں گا اگر سب کو ایسا ہی کرنے کا مشورہ دوں۔یقین کرنا چاہیے کہ ایسا کرنے سے صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اس کے برعکس اس میں جسم اور روح دونوں کا فائدہ ہے ۔

پھر دیکھیے کہ تراویح اور تہجد میں کیا مزاآتاہے۔یہ کیا نماز ہوئی کہ رکوع کررہے ہیں تو حلق میں پانی اُچھل کرآرہا ہے اور سجود میں غذا جیسے منھ سے باہر نکلی جارہی ہے۔
آج جدید سائنس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ روزہ کولیسٹرول کو ختم کرتا ہے ۔یہ وہی خون کا کولیسٹرول ہے،جو دل کی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب ہے ۔آج کی دنیا میں اس سائنسی انکشاف کے لحاظ سے روزہ ایک برکت ہے ۔جو بات آج سائنس کو معلوم ہوئی ہے ،اس کا ادراک ذات ختم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا اور ضرور تھا،اسی لیے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کو جسم وروح کے لیے باعث خیروبرکت قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو اعتدال اور میانہ روی کی تلقین فرمائی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-29

Your Thoughts and Comments