بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتروزہ اور صحتِ جسمانی

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
روزہ اور صحتِ جسمانی
رمضان المبا رک میں پانچ انعامات، حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا رمضان المبارک میں میری امت کو پانچ چیزیں عطا کی گئیں ہیں جو پہلے کسی کو بھی نہیں دی گئیں۔
مفتی ضیاء احمد رضوی:
رمضان المبا رک میں پانچ انعامات، حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا رمضان المبارک میں میری امت کو پانچ چیزیں عطا کی گئیں ہیں جو پہلے کسی کو بھی نہیں دی گئیں۔سب سے پہلی روزہ دار کی منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے دوسری میری امت کے روزہ افطار کرنے کے وقت تک فرشتے ان کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں،تیسری اللہ تعالیٰ ان کے لئے جنت کو ہر دن مزین فرماتا ہے پھر جنت کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عن قریب اہل ایمان سے محنت اور تکلیف اٹھادی جائے گی اور تیری طرف آنے والے ہیں،چوتھی یہ کہ اس ماہ مکرم میں شیاطین باندھ دئے جاتے ہیں،پانچویں یہ کہ اللہ تعالیٰ آخری رات میں سب کی بخشش فرما دیتا ہے،عرض کی گئی یا رسولﷺ کیا لیلتہ القدر ہے وہ ؟تو رسول اللہﷺ نے فرمایا نہیں لیکن جب کوئی مزدور اپنا کام پورا کرلیتا ہے تو اس کو اس کا اجر پورا دیا جاتا ہے۔
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص ایمان کے ساتھ اور نیکی کی نیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
افطار کرنے کا ثواب:
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا حلال کھانے سے تو رمضان المبارک کے سارے مہینے میں فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور جب لیلتہ القدر کی رات آتی ہے تو جبریل علیہ السلام اس سے مصافحہ فرماتے ہیں،اور جس شخص سے جبریل علیہ السلام مصافحہ کر لیتے ہیں اس کی آنکھوں سے آنسورواں ہو جاتے ہیں اور دل نرم ہو جاتا ہے۔
ایک شخص عرض گزار ہوئے یارسول اللہﷺ جس کے پاس اتنا نہ ہوتاتو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک لقمہ روٹی کا کھلا دے،وہ پھر عرض کرنے لگا یارسول اللہﷺ جس کے پاس یہ بھی نہ ہو؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک گھونٹ دودھ پلادے،وہ عرض کرنے لگایارسول اللہ ﷺ جس کے پاس یہ بھی نہ ہو تو وہ کیسے یہ ثواب حاصل کرے تو کریم آقا ﷺ نے فرمایا وہ ایک گھونٹ پانی ہی پلادے۔
اس حدیث پاک کو امام ھیشمی نے مجمع میں روایت کیا،اس حدیث کے راویوں میں ایک حسن بن ابی جعفر ہیں جن کے بارے میں ابن عدی نے کہا کہ اس کی احادیث صالحہ ہیں اور یہ صدوق ہیں اور پھر کہا کہ ان کے بارے میں کلام بھی ہے۔
جبریل امین علیہ السلام درود بھیجتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد دفرمایا جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا حلال کھانے یا مشروب سے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے سارا مہینہ اس پر درود بھیجتے ہیں اور جب لیلتہ القدر کی رات آتی ہے تو جبریل امین علیہ السلام اس پر درود بھیجتے ہیں۔
ثواب برابر ملے گا:
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرایا کھلا کر پانی پلا کر افطار کرانے والے کو بھی اس کے مثل ثواب ملے گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کریم آقاﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن روزہ داروں کے لئے سونے کا دستر خوان بچھایا جائے گا،روزہ دار اس سے کھا رہے ہوں گے اور دوسرے ان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
جب کوئی روزہ دار کے سامنے کھائے:
حضرت عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک روزہ دار کے پاس جب کوئی بیٹھ کر کھائے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے روزہ دار پر درود بھیجتے ہیں۔
روزہ کی شرائط پورے طور پر ادا کرنے والا:
حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رمضان المبارک میں روزہ رکھے خاموشی وسکون کے ساتھ سبحان اللہ ،الحمداللہ،اللہ اکبر پڑھتا رہے اور اس کے حلال کو حلال جانے اور اس کے حرام کو حرام جانے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دے گا۔
روزہ کی شرائط پوری نہ کرنے والا:
حضر ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص جھوٹ بولنا اور اس طرح کا عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا رہنے اور پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔
روزہ اور صحت:
روزہ رکھو اور صحت یاب ہو جاؤ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا روزہ رکھوتن درست ہو جاؤ گے۔
اس روایت کا حکم:
اس روایت کو امام ابن سنی اور ابو نعیم رحمتہ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے۔کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ رکھو صحت یاب ہو جاؤگے،اور اما سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پاک کو حسن قراردیا ہے۔
اجر بھی اور صحت بھی:
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی انجیل میں کہ آپ بنی اسرائیل کی جماعت سے فرمادے،جو شخص بھی میری رضا حاصل کرنے کئے روزہ رکھے گا میں اس کے جسم کو صحت مند کردوں گا اور اس کے اجر کو بڑھا دوں گا۔
روزے کے طبی فوائد:
طبی لحاظ سے روزوں کے بے شمار فوائد ہیں،ان میں سے 6 فوائد درج ذیل ہیں:
1)روزہ رکھنے سے معدے کی تکالیف او ر اس کی بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور نظام ہضم بہتر ہو جاتا ہے۔
2) روزہ شوگر لیول،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اور اس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ نہیں رہتا۔
3) روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے دل کو انتہائی فائدہ مند آرام پہنچتا ہے۔
4)روزے سے جسمانی کھچاو،ذہنی تناؤ،ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے۔
5 ) روزہ رکھنے سے موٹاپے میں کمی واقع ہوتی اور اضافی چربی ختم ہو جاتی ہے۔
6)روزہ رکھنے سے بے اولاد خواتین کے ہاں اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
روزے کی برکت سے شفا ملی:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ابھی چند سال ہوئے ماہِ رجب میں حضرت والد صاحب خواب میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا:اب کی رمضان میں مرض شدید ہوگا،روزہ نہ چھوڑنا۔ویسا ہی ہوا اور ہر چند طبیب وغیرہ نے کہا(مگر)میں نے روزہ نہ چھوڑا اوراسی کی برکت نے مجھے صحت دی۔
کینسر کا علاج:
الشیخ علی احمد الجر جاوی رحمتہ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں
ایک ڈاکٹر صاحب نے لکھا روزہ بہت سے مہلک امراض اور متعدی بیماریوں کا علاج ہے مثلاََ کینسر جو پورے یورپ میں پھیل چکا ہے پیرس میں آخری اعداوشمار کے مطابق ایک ہی سال یہ کئی ہزار لوگوں کو لگ چکا ہے۔
روزہ صحت کے عوامل میں سے ہے یہ ہر مرض کا علاج کرتا ہے اگرچہ اس کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا چکے ہوں،یہ عام طور پر جسم کو طاقت دیتا ہے،اس کی امراض اور بیماریوں کا علاج کرتا ہے،کیونکہ جسم امراض کے وقت وہ چیز غائب نہیں پاتا جسے وہ کھائے،اس وقت جسم زہریلے مواد باہر پھینکتا ہے جو اس میں جمع ہوتے ہیں،جس طرح روزہ کھانے کے مشقت سے نظام انہضام کو ارام دیتا ہے۔
روزہ سے شوگر کا علاج:
عصر حاضر میں بھی ایک مشہور معروف ڈاکٹر نے روزہ سے شوگر کا علاج کیا ہے،،ڈاکٹر کارلائل سون نے کہا ہے کہ روزہ تجدید شباب کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ڈاکٹر جنحر اپنے سارے امراض کا علاج روزہ سے کرتا تھا۔امریکہ کا ایک ڈاکٹر برنا مکفارن نے کہا میرا رجحان اس اعتقاد کی طرف ہے روزہ سے ہر مرض کا علاج ہو سکتا ہے دیگر ذرائع جس کے علاج عاجز آگئے ہوں۔
ایک فقیر نے چند سال پہلے جامع مسجد غوثیہ ندیم ٹاؤن میں روزہ اور صحت کے موضوع پر لگاتا ر تین جمعات میں خطبہ دیا پہلے ہی جمعہ میں ایک ریٹائرفوجی جو شوگر کے مریض تھے انہوں نے خطاب سنا تو روزہ رکھنا شروع کردیا،بعد میں مجھے ملے اور بتانے لگے کہ میں روزہ اور صحت مضمون سن کر پکا ارادہ کر لیا تھا کہ اب روزہ نہیں چھوڑوں گا جب نیت کی تو اللہ تعالیٰ نے ایسی آسانی پیدا کی کہ سارا سارا دن سکون سے گزر جاتا اور پورے ماہ مکرم میں میں نے کوئی دوائی نہیں کھائی۔
جوسچی نیت کرلے:
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے آپ پر اچھی نیت کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے توفیق کے ستر دروازے کھول دیتا ہے اور جو شخص اپنے لئے گندی نیت کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ذلت و رسوائی کے ستر دروازے کھولتا ہے جہاں اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔
اس سے ثابت ہوا کہ جو آدمی نیت درست کر لے اللہ تعالیٰ اس کے لئے آسانی پیدا فرما دیتا ہے اگر نیت ہی درست نہ ہوتو پھر ذلت کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
روزہ سے طاقت زیادہ ہوتی ہے:
پیر جماعت علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک سال میں بیمار ہو گیا ادھر رمضان المبارک کا چاند نظر آنے والا تھا مجھے خوف لاحق ہوا کہ کیا بنے گا،جب چاند نظر آیا تو کمر باندھ لی کہ اب روزہ نہیں چھوڑوں گا روزہ ضرور رکھوں گا،جب پہلے روزہ رکھا تو طاقت بحال ہونے لگی،جب آخری روزہ رکھا تو پہلے روزہ کے مقابلے طاقت زیادہ تھی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے