Saada Ghazain ... Umar Barhain

سادہ غذائیں ․․․ عمر بڑھائیں

بدھ مارچ

Saada Ghazain ... Umar Barhain
چند برس ہوئے ہمارا طرز غذا اور زندگی گزارنے کا ڈھب بدل کر رہ گیا۔گھروں میں روایتی کھانے اب بھی پکتے ہیں مگر بچے اور بعض بڑے بھی حس ذائقہ کو پروان چڑھاتے ہوئے چٹخاروں کے متوالے ہو گئے ۔اب دستر خوانوں پر دیس دیس کے کھانے چنے جانے لگے ۔پہلے لزانیا اور پزا کھانے گھر سے باہر جاتے تھے ۔اب آن لائن آرڈر کیجئے آدھے گھنٹے میں پزا ڈیلیور ہو جاتاہے ۔

اسی طرح دوسرے کھانے بھی ،حتیٰ کہ مہمانوں کی تواضع کے لئے بھی اسی طرح آرڈر کئے جاتے ہیں جسے مہمان اپنے لئے باعث صد افتخار سمجھتے ہیں اور گھر والیاں اسے اپنے آرام اور سہولت کی سبیل قرار دیتی ہیں۔
لوگ دفاتر میں کبھی گھر سے ٹفن لے جایا کرتے یا ٹفن کیریئر والا بندہ گھر سے کھانا لے جاکے دفاتر میں سپلائی کیا کرتا تھا۔

(جاری ہے)

دیکھتے ہی دیکھتے یہ روایت بدل گئی ۔

جگہ جگہ فوڈ چینز کھل گئے ۔پہلے ہوٹل پر نہاری ،حلیم ،دال چاول، بھنا ہوا سالن اور قورمہ ملا کرتا جو مہینے میں دو ایک بار صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ باہر تناول کرنے جاتے اور یہ دن عید کا سماں پیش کرتا تھا۔پھر جب برگرز آئے تو رفتہ رفتہ لوگ گھر کے کھانوں سے پرہیز کرنے لگے ۔اب بڑا سا دو تین تہوں والا بیف برگر،ٹھنڈا یخ فزی ڈرنک اور فرنچ فرائز کا پیکٹ ہمارے طرز زندگی میں شامل ہو گیا۔

روایتی کھانوں کی جگہ لینے والے یہ برگر ناکافی رہنے لگے تو پراٹھا رولز اور کولڈ ڈرنک تسکین کا باعث بننے لگے۔
لوگ ہائی بلڈ پریشر ،ذیابیطس ،دل کے امراضP.C.Oمٹاپے اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہونے لگے ۔انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟اموات کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آنے لگا۔2017ء سے اب تک عالمی سطح پر صحت عامہ کا شعبہ یہ ایک بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔


ہفتہ واری میڈیکل جرنلThe Lencetنے دنیا بھر کے لوگوں کی کھانے کی عادات اور پیچیدہ ومہلک امراض کے مابین تعلق پر تحقیق کی اور15ایسی غذاؤں کی نشاندہی کی جو 195ملکوں میں عام طور پر لی جاتی ہے ۔ان میں سبزیاں، سرخ گوشت ،دالیں ،بیج ،پھلیاں،ثابت اناج(گندم، جو اور جئی)، دودھ ،مچھلی ،مرغی ،کیمیائی عناصر سے تیار شدہ گوشت(فروزن شکل میں)یہ ہمیں فائبر، کیلشیئم اور ضروری وٹامنز مہیا کرتے ہیں مگر جب طرز زندگی بدلا تو متوازن غذا بھی دسترس سے باہر ہو گئی۔


نوجوان موت کا شکار کیوں ہونے لگے؟
W.H.Oکے مطالعے سے واضح ہوتاہے کہ نوجوان دل کے امراض ،اسٹروکس،کینسر ،وباؤں پھیپھڑوں کے امراض اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے لگے جس کے معنی یہ ہوئے کہ ان کی غذاؤں میں غذائیت کی مقدار پست ہونے لگی ہے۔یہ تمام جملہ امراض طرز زندگی کی وباؤں کی صورت میں ہر سال 4.1ملین لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں ۔

ناگہانی امراض میں نوجوانوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے اور 30سے 69برس کے درمیانی عمروں میں اموات کی شرح میں گونا گوں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستانی نوجوان بھی اس کربناک صورتحال کا شکار ہورہے ہیں ۔15برس سے29برس کی عمر کے نوجوان ان مہلک امراض کا شکار ہو رہے ہیں تو کیوں؟
ڈاکٹر ثانیہ نشتر وزیر اعظم عمران خان کی مشیر خاص ہیں کہ ان کی رائے کے مطابق”ناقابل بیان حد تک غلط طرز خوراک اور غذائی بے اعتدالیاں مثلاً چکنائی کا بے دریغ استعمال،نمک اور شکر کی مقدار میں اضافہ اور غیر معیاری پروسیسڈ خوراک خاموشی سے قتل کرنے میں نمایاں کردار ادا کررہے ہیں۔


افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ذیابیطس کا شکار ہونے لگی ہے ۔ذیابیطس سے متعلق قومی جائزے کے مطابق صرف 2016-17ء میں 26فیصد نوجوان ذیابیطس میں مبتلا پائے گئے۔ 4فیصد وزن کی زیادتی، 44فیصد مٹاپے اور 46فیصد بلند فشار خون میں مبتلا پائے گئے ۔غرضیکہ غلط طرز زندگی میں چار عناصر ایسے ہیں جن کے طبی وطبعی اثرات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں ان میں غیر متوازن غذا،ورزش اور حرکت نہ کرنے (آرام طلب زندگی گزارنے)تمباکو اور دیگر نشے کی عادات شامل ہیں۔


تمباکو زہر قاتل ہے ،خدارا احتیاط کیجئے
پاکستانی نوجوان عادتاً،رسماًیا خوشی کے موقعوں پر شیشہ اور تمباکو کا استعمال کرتے کرتے اسے اپنے لائف اسٹائل کا حصہ بنانے لگے ہیں ۔کیا آپ یقین کریں گے کہ ہر روز 438لوگ تمباکو کے مضر اثرات کے باعث زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہو رہے ہیں اور100،160 لوگوں کو صحت کے تشویشناک نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں ۔

تمباکو کے بے دریغ استعمال کے باعث دل کی مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ دمہ اور پھیپھڑوں کے پیچیدہ امراض بھی ہونے لگے ہیں یہ اعداد وشمار ہمیں چوہدری ثناء اللہ گھمن(پناہ)کی جانب سے موصول ہوئے ہیں جو موصوف نے پاکستان ہارٹ ایسوسی ایشن غیر سرکاری سماجی تنظیم کے سروے سے اخذ کئے ہیں ۔ہر بارہ گھنٹے میں ایک نوجوان دل کی بیماری کے سبب موت کے منہ میں چلا جاتاہے۔


The Tobacco Atlas 2018کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں 23.9ملین افراد تمباکو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں دوسری وجہ موت بننے والی بیماری کینسر کہی جاتی ہے ۔کینسر سے بچاؤ کی تدابیر کے لئے بہت کم مہمات چلائی جاتی ہیں ۔انفرادی طور پر غیر منفعت بنیادوں پر کام کرنے والی طبی تنظیموں ،پرنٹ میڈیا اور کینسر کے ماہرین آگہی کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کے تجزیئے کے مطابق پاکستان کینسر کے امراض کی فہرست میں دوسرا اہم ملک ہے جہاں تمباکو غذا کے طور پر استعمال ہوتاہے۔
ہر دم کھاتے نہ رہئے ،دھیان بٹایئے
جس طرح ذیابیطس کے مریضوں کو دن میں پانچ یا چھ بار تھوڑی تھوڑی مقدار میں کھانے کا مشورہ دیا جاتاہے ۔مٹاپے یا کسی اور مہلک مرض کے بارڈر لائن پر آتے ہی ،بظاہر صحت مند اور توانا نظر آنے والوں کے لئے یہ احتیاط بہت معنی رکھتی ہے ۔

شکر اور نمک کو بتدریج اپنی غذاؤں سے کم مقدار میں شامل کریں ۔شروع شروع میں ذائقہ بگڑتاہے مگر زیادہ دن زندہ رہنے اور فعال زندگی گزارنے کے تصور سے آپ کی سوچ بدل جاتی ہے ۔پھیکا یا تیکھا کھانا قابل قبول ہوجاتاہے۔
رات کو دیر تک بلا وجہ جاگنایا کھانے کے لئے جاگتے رہنا مضر صحت رویئے ہیں ۔رات کو آپ ورزش نہیں کرتے صرف کھاتے ہیں ۔دن میں آپ کو اپنے کام اور روزگار سے فرصت نہیں ملتی پھر بھی آپ غیر محتاط انداز سے کھانے کھاتے رہتے ہیں ۔

شام کا وقت آپ فیملی کے لئے مخصوص کرتے ہیں اور اس وقت بھی پر تکلف ناشتوں اور فروزن فوڈز سے شکم بھرتے ہیں تو پھر ورزش کس وقت کریں گے؟
روزانہ چہل قدمی ،تیز قدمی،سائیکلنگ ،ایروبکس ،یوگا،تیرا کی یا اسکائش کھیلنے کے لئے اوقات کار مقررہ کرنا بھی ترجیحات میں شامل کیجئے ۔پیدل چلنا کسر شان نہ سمجھئے یہ تو اچھی صحت پر جانکلنے کی پختہ شاہراہ ہے ۔

زندگی کے رسمی تقاضے نبھانے اور روایات کا بھرم رکھنے کے لئے اپنی صحت کو داؤ پر لگانا دانشمندی نہیں ۔آج سے اپنا وزن کیجئے،ناپ تول کے متوازن غذا لیجئے،آرام کے وقت آرام اور کھانے کے اوقات مخصوص کر لیجئے۔ہر وقت کھاتے رہنا وبال جان بن سکتاہے ۔یہ سب احتیاطی تدابیر صرف اس لئے کی جاتی ہیں تاکہ آپ توانائی سے بھر پور لمبی عمر جی سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-03-25

Your Thoughts and Comments