Sabz Samundari Ghaza Khayye

سبز سمندری غذا کھائیے

Sabz Samundari Ghaza Khayye
مدیحہ سید
سمندری کائی(SEAWEED)کا ذائقہ سوفیصد تو نہیں،لیکن تھوڑا بہت مچھلی جیسا ہوتا ہے ۔یہ سمندری غذا کہلاتی ہے۔یہ بہت غذائیت بخش غذاؤں میں شمار کی جاتی ہے۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر اس غذا کو زیادہ کھایا جائے تو یہ موسمی تبدیلی کے اثرات کو برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے۔اگر آپ سمندری غذا کھانے لگیں گے تو اس خطہ زمین کو محفوظ کرلیں گے،کیوں کہ اس طرح سے سبزی خوری اور گوشت خوری کم ہو جائے گی۔


اگر آپ کو سوشی (SUSHI)نامی جاپانی ڈش،جونیم پختہ مچھلی کے قتلوں پرمشتمل ہوتی ہے ،پسند ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ پہلے ہی کائی کی ایک مشہور قسم کھا چکے ہیں،جس کانام نوری(NORI) ہے۔یہ تقریباً سیاہ یایوں کہنا چاہیے کہ گہری سبزہوتی ہے۔

(جاری ہے)

اس کو خشک کر لیا جاتا ہے اور دبا کر لمبے ٹکڑے کاٹ لیے جاتے ہیں۔پھر انھیں سوشی،یعنی مچھلی کے قتلوں پر لپیٹ کر کھایا جاتا ہے ۔

یہ سوپ اور دوسری غذاؤں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔اسے کھاتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہے ،اس لیے کہ خشک ہونے پر کھانے سے پیاس بہت لگتی ہے اور پانی نہ پینے سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
جاپانی کھانوں میں یہ نمک کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔اس کا ایک ٹکڑا جو تقریباً سوشی رول کے برابر ہوتاہے،اس میں 13حرارے(CALORIES)ہوتے ہیں ۔

ممکن ہے جلد ہی سمندری کائی کا استعمال بڑے پیمانے پرہونے لگے،کیوں کہ یہ ہزاروں برس سے چین،جاپان اور کوریا میں کھائی جارہی ہے ۔اس کی دس ہزار سے زیادہ اقسام دستیاب ہیں۔
سبزیوں میں کیل(KALE)مفید غذاؤں میں شمار کی جاتی ہے۔ماہرین صحت نے اسے بہت غذائیت بخش قرار دیا ہے ۔یہ ایک قسم کی بندگوبھی ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ اب سبز سمندری کائی بھی بازاروں میں آگئی ہے ۔

اس میں لحمیہ(پروٹین)،ریشہ اور فولک ایسڈ ہوتا ہے ۔تمام قسم کی سمندری کائیوں میں معدنیات (منرلز)کی خاصی مقدار ہوتی ہے ،جن میں تانبا،آیوڈین ،فولاد اور کیلسےئم شامل ہے ۔اس کے علاوہ کیل میں حیاتین ”ک“(K) کی بھی مناسب مقدار ہوتی ہے ۔یہ حیاتین پالک اور سبزپتوں والی سبزیوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔حیاتین ”ک“سے ہڈیوں کی مضبوطی قائم رہتی ہے اور یہ جسم میں ایسی خاصیت پیدا کر دیتی ہے کہ زخم جلد مندمل ہوجاتے ہیں ۔

یہ تیرہ میں سے چار ایسی لحمیات کی پیدائش میں مدد دیتی ہے ،جو شریانوں میں خون کے تھکوں کو ختم کر تی ہیں۔
اس کے علاوہ اس میں”فیوکوائڈنس“(FUCOIDANS)نامی مادہ بھی ہوتا ہے ،جس سے عمر طویل ہوتی ہے ۔جاپانیوں کی طویل العمری کا یہی راز ہے ۔یہ آپ کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتا،عارضہ دل کا سبب بننے والی بیماریوں کی روک تھام کرتا اور عمر میں اضافہ کرتا ہے ۔


سمندری کائی کو اعتدال سے کھانا چاہیے،لیکن اگر آپ زیادہ مقدار میں کھائیں گے تو آیوڈین کی زیادہ مقدار بھی جسم میں پہنچ جائے گی،اس لیے کہ اس میں آیوڈین زیادہ ہوتی ہے ۔عام مچھلیوں کی طرح سے اس میں بھی ماحولیاتی آلودگی شامل ہوجاتی ہے ،مثلاً کیڈمےئم(CADMIUM)اور آرسینک(NIC ARSE)،جن سے آپ کے جگر اور لبلبے کو نقصان پہنچتا ہے ،لہٰذا بہتر ہو گا کہ آپ خود سمندرمیں جا کر اس کائی کو نکالنے اور کھانے کی کوشش نہ کیجیے،بلکہ کسی کمپنی کی تیار کردہ کائی کھائیے۔

کمپنی کی کائی لیبارٹری ٹیسٹ کی جاتی ہے اور یہ مضر صحت نہیں ہوتی۔
سمندری کائی اور زمین
ہم کائی کو اپنی روزانہ کی غذاؤں میں شامل کرکے اپنے پیارے سیارے ،یعنی زمین کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟اس کائی کو سمندری حیوانات کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں ،مگر ہم بھی اسے کھائیں تو کیا حرج ہے؟حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں کائی اعتدال کے ساتھ کھانی چاہیے۔

اعداد وشمار سے پتا چلا ہے کہ دنیا کی آبادی 2050ء تک 7ارب 30کروڑ سے بڑھ کر 9ارب 80کروڑ تک پہنچ جائے گی۔اس وقت انسانوں کے لیے غذائی قلت پیدا ہو سکتی ہے ،کیوں کہ 24ارب ٹن زمین میں اب ایسی زراعتی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ اتنا اجناس پیدا کر سکے۔جہاں تک سمندری حیات کا تعلق ہے تو ہم دنیا کے سمندروں سے تقریباً 90فیصد مچھلیوں کا ذخیرہ ختم کر چکے ہیں۔


آپ کائی کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟
کوریا اور جاپان کے جتنے ریستوراں پاکستان میں ہیں،ان میں خشک سمندری کائی دستیاب ہے ۔سپر مارکیٹوں میں جہاں غیر ملکی مصنوعات مل جاتی ہیں ،وہاں اگر آپ خشک سمندری کائی یا نوری کائی طلب کریں گے تو وہ بھی مل جائیں گی۔آپ انھیں اسٹرابیری یا مختلف ذائقے دار چیزوں کے ساتھ ملا کر کھا سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-17

Your Thoughts and Comments