Sahab Kamal Hai Yeh Chai - Article No. 1578

صاحب کمال ہے یہ چائے - تحریر نمبر 1578

پیر 20 مئی 2019

Sahab Kamal Hai Yeh Chai - Article No. 1578
حکیم راحت نسیم سوہدروی
1825ء میں برطانیہ میں چائے کا آغاز ہو گیا۔ایسٹ انڈیا کمپنی میں چینی،چائے استعمال ہوتی تھی بعض انگریزوں نے چائے کے خود روپودے دیکھے تو چائے کی کاشت کا خیال آیا۔کچھ عرصے بعد خاصی مقدار میں چائے پیدا ہونے لگی۔چائے کے فروغ میں بنیادی کردار مسٹر ٹامس لپٹین کا ہے جو گلاسکو(اسکاٹ لینڈ)کا باشندہ تھا۔

یہ1825ء میں پندرہ سال کی عمر میں امریکہ گیا تو اس کی جیب میں صرف آٹھ ڈالر تھے وہاں اس نے مختلف اسٹوروں پر کام کیا اور سیلز مین کی حیثیت سے فروخت کا فن سیکھا۔
چار سال بعدو اپس گلاسکو آکر اپنا اسٹور بنایا اس کا کاروبار بہت چمکا۔اسی دور میں اس کی دلچسپی چائے میں بڑھی ٹامس لپٹین خود سیلون(سری لنکا)گیا اور چائے کے کھیت خریدے ۔

(جاری ہے)

کیونکہ کچھ وقت قبل کافی کے پودے تباہ ہو گئے تھے اور کاشت کاروں نے چائے کی کاشت شروع کر دی تھی ۔

لپٹین نے خود اپنے مرکب بنا کر پیکنگ کو بہتر بنایا۔کیونکہ چائے کی پتیوں کی مختلف اقسام ہیں ایک ہی پودے میں جو پتیاں ہوتی ہیں ان کا مزہ اور خوشبو الگ الگ ہوتا ہے ۔ان کو ملاکر ایک مخصوص چائے بنائی جاتی ہے ۔
لپٹین نے چائے کی تشہیری مہم چلائی اور جلد کروڑوں روپوں کا مالک بن گیا۔1926ء کا واقعہ ہے جب اس نے دہلی میں چائے کا رواج ڈالنے کے لئے مفت چائے پلانا شروع کی۔

یہاں تک کہ جلدی عادی لوگوں کا ایک طبقہ بن گیا اس طرح چائے مقبول تر ہوتی چلی گئی۔
امریکہ برطانیہ میں بوجہ آب وہوا اس کی کاشت کامیاب نہیں ہو سکی تاہم جاپان ،ویت نام ،ہندوستان ،بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہوتی ہے ۔بہترین چائے کی قسم گرم ملکوں کے بلند مقامات پر لگائی جاتی ہے۔جہاں ہوا ٹھنڈی ہوتی ہے۔عام طور پر اس کا پودا تین سے پانچ فٹ تک بلند ہوتا ہے ۔

چائے ایک پودے کی پتیاں ہیں ،پتیاں اتارنے سے قبل چائے کے پودوں کو پانچ سال تک بڑھنے دیا جاتا ہے،پھر اسے کانٹ چھانٹ کر جھاڑی نما بنادیاجاتا ہے ۔
اس طرح اس کے پتوں کو توڑنے میں آسانی رہتی ہے ،ان گیلی پتیوں کو خشک ہونے کے لئے بچھا دیا جاتا ہے ،پھر رولنگ مشین کے ذریعے اسے نکال کر ٹھنڈے مرطوب کمرے میں خمیراٹھایا جاتا ہے ۔پتیاں آکسیجن ہوا سے حاصل کرتی ہے اور ان کا رنگ بھورا ہو جاتا ہے ۔

چائے کی دو قسمیں عام ہیں ایک سبز،دوسری کالی۔چائے کی پتیوں کا خمیر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب اسے کالا بنانا مقصود ہو۔
چائے حسب ذیل اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے:
تھی ٹین 1.8فیصد ،ٹی ٹین15فیصد ،البیومن2.6فیصد،ڈکٹرین9.7فیصد دیگر نباتاتی اجزاء ،20فیصد ،معدنی اجزاء5.4فیصد ،لطیف فراری روغن ،تھی ٹین اور ٹی نین چائے کے موثر اجزاء ہیں۔


تھی ٹین
چائے کا موثر جز جو گرم پانی سے بہت جلدجل ہو جاتا ہے یہ ایک الکلی نمامادہ ہے جس سے اعصاب کو تحریک وتقویت ملتی ہے ۔عمدہ چائے میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ٹی ٹین
ایک کیمیائی مادہ جو پانی میں بتدریج حل ہوتا ہے ،یہ قابض اور خشک ہوتا ہے اور معدہ کی جھلی کے لئے مضر ہے۔
چائے بنانے کا طریقہ
چائے دانی کو خشک کرلیں ،جتنی پیالی چائے بناناہو اتنے چمچے چائے کی پتی ڈال کر پھر کھولتا ہواپانی چائے دانی میں ڈال کر اس کا منہ ڈھک دیں ،پانچ منٹ بعد چائے دانی سے چائے پیالیوں میں ڈالیں اور حسب ضرورت چینی و دودھ ملالیں۔


فوائد
مختلف لوگوں پر چائے کے اثرات مزاج کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔چائے کے فوائد اعتدال سے پی کر ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔اس مشروب سے دماغ اور اعصاب کو وقتی تحریک ملتی ہے جس سے دوران خون بڑھتا ہے جسم فرحت محسوس کرتا ہے ۔نیندختم ہو جاتی ہے،موسم سرما میں بدن کے درجہ حرارت کو قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے اور کام کرنے کی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے،چستی وتوانائی کا احساس ہوتاہے۔


نقصان
گرم مزاج والوں کوراس نہیں آتی۔اس کے زیادہ استعمال سے بھوک نہیں لگتی،معدہ کمزور ہوتا ہے ،دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ،باربار کی تحریک سے اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔پیشاب کثرت سے آتا ہے ،کھانے کے بعد چائے کے استعمال سے نظام ہضم خراب ہوجاتا ہے ۔معدہ کی جھلی متاثر ہوتی ہے ،چائے میں غذائیت نہ ہونے کے برابر ہے ،چائے کی پتیاں ابال کر تیار کی جاتی ہیں لیکن چائے کو جتنا زیادہ جوش دیا جائے اتنا اس کا جو ہر ٹی ٹین پانی میں زیادہ شامل ہوجاتا ہے جس سے نقصان ہوتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-20

Your Thoughts and Comments