Sanghary Ke Tabbi Faiday

سنگھاڑے کے طبّی فائدے

Sanghary Ke Tabbi Faiday

شیخ عبدالحمید عابد
سنگھاڑے کی آج سے ہزاروں برس قبل بھارت کے صوبہ اُتر پردیش کے ضلع آگرہ میں دریائے جمنا کے نزدیک ایک پرانے تالاب میں قدرتی طور پر پیدوار شروع ہوئی۔1895ء میں کافی تحقیق و تجربات کے بعد اسے طب میں شامل کر لیا گیا۔سنگھاڑا پاکستان کے مختلف علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے ۔یہ ایک بیل دار پھل ہے ۔اس کا پودا تالابی پودا کہلاتا ہے ،جو جھیلوں ،جو ہڑوں اور بڑے تالابوں میں تیرتا ہوا دکھا ئی دیتا ہے ۔

اس کی بیل پانی کے اوپر رہتی ہے ۔
پتے سبز اور بڑے ہوتے ہیں ،جن پر باریک رگیں ہوتی ہیں ۔پودے کی جڑ میں پھل لگتا ہے اور جڑ پانی کی گہرائی تک چلی جاتی ہے ۔جن تالابوں میں پانی کم ہوتا ہے ،وہاں سنگھاڑے کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے ۔اس کا پودا اکتوبر سے دسمبر تک پھل دیتا ہے ۔

(جاری ہے)

پودے پر نیلے اور سفید پھول آتے ہیں ،جو بہت خوب صورت دکھائی دیتے ہیں ۔


سنگھاڑے میں لحمیات (پروٹینز)13فی صد ،چکنائی 8فی صد، نشاستہ (CARBOHYDRATE) 70 فی صد ،نمکیات 13فی صد ،کیلسےئم15فیصد ،فاسفورس 44فیصد ،حیاتین الف (وٹامن اے )190فی صد اور گلوکوس 8فی صد ہوتی ہے ۔سنگھاڑے کو روزانہ 30سے 50گرام کی مقدار میں کھایا جا سکتا ہے ۔اس کا ذائقہ پھیکا ہوتا ہے ،جب کہ ایک اُبلے ہوئے سنگھاڑے کا ذائقہ دیسی انڈے کی طرح ہوتا ہے ۔


سنگھاڑا ہضم کے نظام کو طاقت دیتا ہے ۔دیر سے ہضم ہوتا ہے ۔بوڑھے ،جوان اور عورتوں کے لیے مفید ہے ۔ہاضمے کی خرابی اور جگر کی گرمی کو دُور کرتا ہے ۔کمر کے درد سے نجات دلاتا ہے ۔پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے ۔بلڈ پریشر پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔جِلد کو نرم و ملائم اور چمک دار بناتا ہے ۔کھانسی اور دق وسِل (ٹی بی )کے خاتمے میں مفید ثابت ہوتا ہے ۔

جسم کی کمزوری دُور کرتا ہے ۔
جن لوگوں کو مزاج گرم ہو اور وہ اپنے ہاتھ پاؤں میں جلن محسوس کرتے ہوں ،جن کے جسم پر عام طور پر پھوڑے اور پھنسیاں نکلتی ہوں یا جنھیں منھ پکنے کی تکلیف ہوجاتی ہو،ایسے لوگوں کو کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد کچے سنگھاڑے کھانے چاہییں یاروزانہ چند دنوں تک سنگھاڑے کا مربّہ کھائیں ۔
سنگھاڑا عورتوں کے پیچیدہ امراض دُور کرنے میں بہت مفید ہے ۔سیلان الرحم کے عارضے میں مبتلا خواتین کو اگر خشک سنگھاڑے کا آٹا بطور حلوا بنا کر کھلایا جائے تو اس مرض سے جلد چھٹکارا مل جاتا ہے ۔
یہ حاملہ عورتوں کو بھی بے دھڑک کھلا یا جا سکتا ہے۔اسے کھانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا،بلکہ ان کے جسم میں توانائی آجاتی ہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-08

Your Thoughts and Comments