Sardi Main Ande Khayeen

سردی میں انڈے کھائیے

بدھ جنوری

Sardi Main Ande Khayeen
سید رشید الدین احمد
انڈا ایک نہایت ہی مقبول اور مفید غذاہے،اسے مختلف طریقوں سے کھایا جاتاہے۔لوگ اسے تل کر کھاتے ہیں،اُبال کر کھاتے ہیں،سالن پکا کر کھاتے ہیں اور آلو اور دوسری سبزیوں کے ساتھ ملا کر پکاتے ہیں۔حد یہ ہے کہ بعض لوگ اسے کچا بھی کھاجاتے ہیں۔اکثر لوگ انڈے کا حلوہ بھی کھاتے ہیں۔انڈے کوتلنے،سالن پکانے یا حلوہ وغیرہ تیار کرنے کے لیے تیل،گھی وغیرہ جیسی چکنائی بھی استعمال کی جاتی ہے۔

اکثر لوگوں کے ناشتے میں انڈا کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہوتاہے۔ناشتے میں زیادہ تر اُبلے ہوئے،تلے ہوئے یا آملیٹ کیے ہوئے انڈے ہوتے ہیں۔کہا جاتاہے کہ انڈے سے جسم کی افزائش ہوتی ہے،اس لیے لوگ عام طور پر توانائی کے لیے انڈے کھاتے ہیں۔

(جاری ہے)

یوں تو بیشتر پرندوں کے انڈے بھی مفید ہوتے ہیں،لیکن مرغی کے انڈے سب سے زیادہ کھائے جاتے ہیں۔مرغی کے انڈے کے بعد سب سے زیادہ بطخ کے انڈے کھائے جاتے ہیں۔


انڈے اچھے قسم کے ہونے چاہییں،کیونکہ غیر معیاری انڈوں سے مطلوبہ فائدے حاصل نہیں ہوتے۔انڈے کے چھلکے کے اندر پہلے ایک سفید جھلی ہوتی ہے۔اس کا کوئی خاص استعمال نہیں ہوتا،لیکن اس جھلی کے اندر جو سفیدی اور اس کے اندر جوزردی ہوتی ہے،فائدے کا اصل سرچشمہ یہی سفیدی اور زردی ہے۔انڈوں کی مختلف درجہ بندی کی گئی ہے،مثلاً جن انڈوں کے چھلکے سفید ہوتے ہیں،انھیں درجہ اول کے انڈے سمجھا جاتاہے۔

بعض انڈوں کے چھلکے قدرے بادامی یا بھورے ہوتے ہیں۔لوگ ایسے انڈوں کو کم تر درجے کا سمجھتے ہیں،لیکن یہ خیال غلط ہے۔حیاتین(وٹامنز)اور افادیت کے لحاظ سے بھورے رنگ کے انڈے سفید انڈوں سے کم تر نہیں ہوتے۔ان کا ذائقہ بھی خراب نہیں ہوتا۔نہایت ہی اعلا درجے کے انڈوں کی سفیدی اور زردی دبیز ہوتی ہے،جب کہ بعض دوسرے انڈوں کے اندر زیادہ دبیز سفیدی اور زردی نہیں ہوتی۔


انڈے خریدنے کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ انھیں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر کھالیا جائے اور جب تک انھیں کھایا نہ جائے،تب تک ریفریجر یٹریا کسی ٹھنڈی جگہ پر رکھا جائے۔انڈے فروخت کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ریفریجریٹر کے اندر ہی رکھیں،ورنہ ان کے انڈے بعض جواہر سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔
انڈوں کو بار بار اُٹھانے اور کھسکاتے رہنے میں ایک خطرہ تو یہ ہوتاہے کہ وہ ٹوٹ سکتے ہیں،دوسری بات یہ کہ ان کی افادیت میں بھی فرق پڑ سکتاہے۔

اگر انڈے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک رکھے جائیں تو ان کے اندر بو پیدا ہو سکتی ہے،اس لیے ایک ہفتے سے زیادہ انھیں رکھنا نہیں چاہیے۔
انڈے زیادہ تیز آنچ پر نہ پکائے جائیں اور نہ انھیں زیادہ سخت کرکے کھانا چاہیے۔اگر انڈے کو زیادہ تیز آنچ پر پکایا جائے تو اس سے زردی ،سفیدی اور دوسرے جواہر زائل ہو سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ”ہاف بوائل“(نیم اُبلے)انڈے کھاتے ہیں،تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زیادہ تیز آنچ پر انڈے پکانا کسی طرح بھی سودمند نہیں،ہمیشہ معتدل آنچ پر ہی پکانا چاہیے۔انڈے میں بہت زیادہ لحمیہ(پروٹین)ہوتاہے،اس لیے پکاتے ہوئے اس لحمیے کو ضائع ہونے دینا نہیں چاہیے۔
انڈے پکانے میں ایک بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے،یعنی جس انڈے کے چھلکے ٹوٹے ہوئے ہوں یا اس پر مٹی اور گندگی لگی ہو،اس کو استعمال نہ کیا جائے۔

ایسے انڈے میں بیکٹیریا ہو سکتاہے،جس سے غذا میں زہر کا عنصر پیدا ہو سکتاہے۔ایسے انڈے ہرگز استعمال نہ کیے جائیں۔
انڈے کس قدر کھائے جائیں،کم یا زیادہ؟اس سوال پر اختلاف رائے پایا جاتاہے۔ایک خیال تو یہ ہے کہ انڈے زیادہ کھائے جا سکتے ہیں،ان سے نقصان کم ہی ہوتاہے،البتہ فائدہ بہت زیادہ ہوتاہے۔یہ ایک پسندیدہ مرغوب غذاہے،لیکن ایک دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ انڈے کا حد سے زیادہ کھانا مضر ہو سکتاہے،مثلاً اس سے عارضہ قلب ہو سکتاہے،خاص طور پر خون میں کولیسٹرول کی سطح بلند ہوتو زیادہ انڈے کھانے پر عارضہ قلب کا خطرہ پیدا ہو سکتاہے۔

انسان کے جسم میں250ملی گرام کولیسٹرول ہوتاہے،انڈے زیادہ کھانے سے اس میں اضافہ ہوسکتاہے۔
اس بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتاہے کہ انڈے اعتدال سے کھانے چاہییں۔یوں بھی کسی چیز کا بہت زیادہ کھانا مفید نہیں ہو سکتا۔انڈے جب کھائے جائیں تو انڈے کے اثرات کو معتدل بنانے کے لیے اس کے ساتھ کچھ ایسی چیزیں بھی کھائی جائیں،جن سے حیاتین ،معدنیات اور دیگر ضروری اجزاء بھی معتدل مقدار میں مل جائیں اور صحت بر قرار رکھنے میں مدد مل سکے۔


جو افراد بہت شوق سے انڈے کھاتے ہیں،انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ فارمی انڈوں کے مقابلے میں دیسی انڈے زیادہ مفید صحت ہوتے ہیں،لیکن دیسی انڈے اصلی ہونے چاہییں۔بعض بے ایمان تاجر فارمی انڈوں پر رنگ چڑھا کر دیسی انڈے کہہ کر فروخت کر دیتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-01

Your Thoughts and Comments