Sehat Mand Nojwan

صحت مند نوجوان

Sehat Mand Nojwan

جیسی غذا ہو،صحت بھی ویسی ہوتی ہے۔اچھی غذا سے مراد ایسی غذا ہے جو توانائی اور صحت بخشے،امراض کا مقابلہ جسم کی قوت مدافعت کے مستحکم ہونے ہی سے ممکن ہے۔قوت مدافعت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ جسم کو در کار غذائی اشیاء ملیں،ایسی غذا جدید اصطلاح میں ”حفاظتی غذا“کہلاتی ہے۔اس غذاکا مقصد جسم کو امراض سے بچانا،زندگی طویل وخوش گوار بنا کر صحت مند رکھنا ہے ۔


لڑکپن میں غذا کے معاملہ میں دو باتیں اہم ہوتی ہیں ۔معیار اور مقدار ۔لڑکپن اور بلوغت کا دور انسانی جسم میں نہایت اہم تبدیلیوں کا دور ہوتا ہے ۔9سے18سال کے لڑکے اور لڑکیاں اس عمر میں ہی تبدیلیوں کے اثرات سے گزرتے ہیں ۔اسی دور میں ہار مونز کی سطح میں تبدیلی سے جسم کی نشوونما بہتر انداز میں ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

تاہم ہارمونز کی تبدیلی سے کبھی کبھار مسائل بھی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔

مثلاً اس دوران اکثر نوجوانوں کے چہرے پر کیل دانے اور مہا سے اُبھرآتے ہیں اور مزاج میں تبدیلی آجاتی ہے ۔
اس دور میں کبھی کبھی تو اچھا محسوس ہوتا ہے اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور کبھی کبھی غمگین کیفیت طاری ہو جاتی ہے ،کبھی ایسے لگتا ہے کہ چہرہ پر کشش نہیں رہا۔یہ وہ دور ہوتا ہے جب نوجوان سراپے پر بہت زیادہ توجہ دینے لگتے ہیں اور اپنے چہرہ کا دوسرے افراد کے چہروں سے موازنہ کرتے ہیں ۔

لباس میں فیشن کے انداز اور رنگ ڈھنگ بھی بدلتے ہیں ۔
اس عمر میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ متوازن خوراک ہے ۔جتنا ممکن ہو سکے مختلف اجزاء پر مشتمل متوازن غذاؤں کا استعمال ہو نا چاہیے۔
اکثر نوجوانوں کی غذائی عادات والدین کو پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہے ۔مثلاً ناشتہ نہ کرنا،وزن کم کرنے والی غذا یا اس کے برعکس زیادہ حرارے دار مرغن وشیریں یا فوری تیار ہونے والی غذائیں ۔

فاسٹ فوڈز کا شوق ورغبت سے استعمال ۔
زندگی کے آئندہ ادوار کی تیار اور تندرستی کا دارومدار بھی اسی دور کی غذا پر ہے ۔مناسب غذا سے لڑکپن کی نشوونما بھی ٹھیک رہتی ہے ۔
لڑکپن کی نشوونما یا بلوغت کی تکمیل ہوتی ہے ۔اس دوران جسم کو خوب غذائیت چاہیے ۔اس عمر کے لڑکوں میں عضلات پٹھوں اور ہڈیوں کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے ۔لڑکیوں کو 2100سے2200اور لڑکوں 2800تک حراروں کی ضرورت روزانہ ہوتی ہے۔

بالعموم یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکپن میں اسی قدر غذا کی ضرورت ہے جس قدر سخت جسمانی محنت کرنے والے محنت کش کو یعنی 2500سے3000حرارے روزانہ بھی ہو سکتے ہیں ۔بہر حال!․․․․․اس کا انحصار جسمانی فعالیت پر بھی ہے ۔فٹ بال کھیلنے والے لڑکوں کو 4000حرارے روزانہ کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔لڑکپن میں صحت کی بحالی اور بڑھوتری اور نشوونما Growthکے لئے ان اجزاء کا خیال رکھنا چاہیے۔


پروٹین:پروٹین سے جسم کو توانائی ملتی ہے ۔یہ گوشت،مچھلی ،بادام ،اخروٹ ،دالوں ،دودھ،دہی اور پنیر میں ہوتے ہیں ۔
کار بو ہائیڈریٹس:اس میں شکر اور نشاستہ،یہ دونوں شامل ہیں۔
اس سے جسم میں حرارت اور انرجی پیدا ہوتی ہے ۔دال ،چاول اور مختلف اناجوں میں نشاستہ اچھا خاصہ موجود ہوتا ہے ۔سوّیاں ،میدہ ،بیسن کے پکوان آلو،اروی،شکر قندوغیرہ بھی نشاستہ کے زمرے میں آتے ہیں ۔


ریشہ دار غذائیں:اچھی صحت کے لیے غذائی ریشے کی بڑی اہمیت ہے خاص طور پر لڑکپن میں غذائی ریشہ پر مشتمل غذاؤں کے استعمال سے ہضم کا نظام چست رہتا ہے ۔غذائی ریشے کے استعمال سے خون میں کولیسٹرول کی سطح بھی کم رہتی ہے کیونکہ یہ غذا میں شامل رہنے والی فاضل چکنائیوں کو جذب کرکے انہیں خون میں شامل ہونے سے روکتا ہے ۔سبزیاں ،اناج،پنیر ،بادام ،اخروٹ،پھل غذائی ریشہ کے اچھے ذرائع ہیں ۔

ماہرین صحت دن میں تین سبزیاں اور دو پھلوں کے علاوہ بے چھنے آٹے کی روٹی کھانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
پھلوں میں عام طور پر آڑو،کینو،موسمی،مالٹے،سیب ،بہی اور کیلے زیادہ کھائے جاتے ہیں ۔پاکستان ان خوش نصیب ملکوں میں سے ہے کہ جہاں کئی پھل کثرت سے پیدا ہوتے ہیں ۔
چکنائی والی غذائیں:جسم کو تھوڑی چکنائی کی بھی ضرورت پڑتی ہے ۔اس لئے چکنائی والی غذاؤں کا استعمال بھی ضروری ہے ۔

اس کی مقدار زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ورنہ یہ ناصرف چربی بڑھا کر موٹا کریں گی ۔بلکہ دل پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب ہوں گے۔
چکنائی والی غذاؤں میں مکھن ،پنیر ،دودھ ،گوشت کچھ ساس اور فرائیڈ فوڈز شامل ہیں ۔
وٹامن:وٹامن ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جن کا غذا میں مناسب مقدار میں ہونا بہت ضروری ہے ۔
وٹامن جسم کے اندر بہت کم مقدار میں پیدا ہوتے ہیں چنانچہ غذا میں ان کی اتنی مقدار ہونی چاہیے جس سے صحت قائم رکھی جا سکے۔


وٹامن اے ،بی کمپلیکس،سی ،ڈی اور ای یہ سب جسم کی نشوونما کے لئے انتہائی اہم ہیں ۔بالخصوص دوران بلوغت ان کی اشد ضرورت پڑتی ہے۔
وٹامن اے جلد ،بالوں ،دانتوں ،اور آنکھوں کو صحت مند رکھتا ہے۔چہرے کے کیل مہاسوں اور پھوڑے پھنسیوں کے لئے بھی مفید ہے یہ وٹامن جگر،مکھن،انڈے،مارجرین ،گاجر،پالک،اور پھول گوبھی میں پایا جاتا ہے ۔وٹامن بی ہماری روز مرہ کی غذاؤں میں پائے جاتے ہیں ۔

جیسے روٹی ،گوشت ،مچھلی ،ہری سبزیاں ،مکھن ،دودھ وغیرہ۔
وٹامن سی انفیکشن سے مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے ۔یہ انگور لیموں ،نارنگی ،گوبھی اور آلو میں پائے جاتے ہیں ۔اگر وٹامن سی پر مشتمل پھلوں اور سبزیوں کا استعمال روزانہ کیا جائے تو نو عمر ی کی تمام بڑھتی ہوئی غذائی ضرورت با آسانی پوری ہو سکتی ہیں ۔وٹامن ڈی چکنائی والی غذاؤں جیسے مچھلی،پنیر،مکھن،دودھ اور دہی میں پائے جاتے ہیں ۔


وٹامن ای روٹی ،بادام ،اخروٹ ،ہری سبزیوں اور چاولوں میں بھی موجود ہوتے ہیں ۔
فولاد:لڑکپن کے زمانے میں فولاد کی ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے ۔فولاد کی قلت 13سے19سال کی عمر میں خصوصاً لڑکیوں میں عام ہے ۔اگر خود کو اسمارٹ اور دبلا کرنے کے لیے کھانا پینا بہت کم کررکھا ہے تو فولاد کی کمی واقع ہو سکتی ہے ۔جب ماہانہ ایاّم کی ابتدا ہوتو فولاد کی کمی کی تلافی بہت ضروری ہے ۔

فولاد کی کمی ان لڑکیوں میں بھی واقع ہو سکتی ہے جن کی اشتہاء ابھی تیز نہیں ہوتی ہے ۔خون کی کمی کی وجہ سے اکثر نو جوان کمزوری اور جلد تھکن کی شکایت کرتے ہیں ۔
ان کے رنگ پیلے ہوتے ہیں ۔اور یہ باآسانی مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔لڑکپن میں روزانہ 18ملی گرام فولاد کی ضرورت پڑتی ہے ۔فولاد کے اچھے ذرائع کلیجی،گوشت ،مرغی ،مچھلی ،سالم اناج ،پھلیاں ،دالیں ،خشک میوے ہیں۔


کیلشےئم:لڑکپن میں کیلشےئم کی در کار مقدار روزانہ 1200ملی گرام تک ہو سکتی ہے ۔یہ مقدار ایک لیٹر دودھ یا اس کے مساوی دہی یا پنیر سے حاصل ہو سکتی ہے ۔جو بچے دودھ نا پسند کرتے ہیں ۔انہیں دہی یا پنیر دیا جا سکتا ہے ۔گھریلو پنیر میں چکنائی بھی کم ہوتی ہے ۔آئس کریم کھانے سے کیلشےئم کی ضرورت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ اس کی شکرو چکنائی مزید خرابی کا باعث بن سکتی ہے ۔

لڑکپن میں قلت کیلشےئم کی اہم وجہ کو لا مشروبات بھی ہیں ۔ان مشروبات میں فاسفورس کی بڑی مقدار کی وجہ سے جسم میں فاسفورس وکیلشےئم کاتنا سب وتوازن بگڑ جاتا ہے اور جسمانی کیلشےئم استعمال میں نہیں آسکتا ۔کولا مشروبات زیادہ پینے والے نوجوانوں کا آئندہ زندگی میں ہڈیوں کے مختلف امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔
لڑکپن میں اچھی جسمانی وذہنی صحت کا دار ومدار مناسب ومتوازن غذا ،ضروری آرام مناسب ورزش تمبا کو اور منشیات سے اجتناب ،مناسب مقدار میں پانی اور پھلوں کے تازہ جوس پینے پر ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-07

Your Thoughts and Comments