بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتصحت اور تندرستی

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
صحت اور تندرستی
اہم ترین وہ بیماریاں ہیں جو متعدی یا چھوت کی بیماریاں کہلاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اورجب کوئی ایک مرض ایک وقت میں کسی ایک مقام پر بہت سے لوگوں کو لاحق ہوجاتے ہیں تو اسے ”وبا“کہتے ہیں
حفظ ماتقدم:
انسان کے جسم کو صحت مند رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے امراض کی تکلیف اور تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا جائے اس مقصد کے لیے جو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ان کا حفظ ماتقدم کہتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ یہ طریقے امراض کے علاج سے کہیں زیادہ فائدہ مند اور قابل عمل ہوں گے۔ان پر عمل کرنے سے ہم بہت سی مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ان پر کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں آتا اس لیے ہر شخص ان پر عمل پیرا ہوسکتا ہے۔امراض کئی قسم کے ہوتے ہیں لیکن جہاں تک ہمارے عنوان کا تعلق ہے ان سب میں اہم ترین وہ بیماریاں ہیں جو متعدی یا چھوت کی بیماریاں کہلاتی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بیماریاں ایک بیمار شخص سے دوسرے تندرست شخص کو لگ جاتے ہیں اورجب کوئی ایک مرض ایک وقت میں کسی ایک مقام پر بہت سے لوگوں کو لاحق ہوجاتے ہیں تو اسے ”وبا“کہتے ہیں اس قسم کے امراض کا سبب مختلف قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جو اپنی مخصوص شکل وشہبات اور دیگر اوصاف کی بنا پر خردبین کے ذریعے دیکھنے سے یہ آسانی پہنچائے جاسکتے ہیں اکثر و بیشتر جراثیم کی ساخت کو اللہ تعالیٰ نے صرف ایک خلیے تک ہی محدود رکھا ہے یعنی ایک خانہ یا بکس سا ہوتا ہے اور بس یہ جراثیم نم دار اور چمکدار ہوتے ہیں چنانچہ گردوغبار کے ذرات یا پانی کے چھوٹے چھوٹے قطروں پر جم کر یہ ہوا میں اُڑتے پھرتے ہیں اسی لیے گردوغبار والی ہوا میں یااس ہوا میں جسے انسان اپنے گلے منہ یا ناک سے بذریعہ چھینک یا کھانسی یا تھوک خارج کرتا ہے یہ جراثیم زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں یہ ان فضلات میں بھی پائے جاتے ہیں جو ہم پیشاپ،پاخانہ یا بلغم کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔کئی ایک جراثیم کوڑے کرکٹ کے ساتھ کھیتیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھروہاں سے مختلف جانوروں کے جسم میں یا پھلوں اور سبزیوں کے اندر بھی۔پس اگرہم سب لوگ گھروں،سکولوں،عام سڑکوں یا ان مقامات جہاں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں ان منہ اورناک کو رومال سے ڈھکے بغیر نہ چھینکیں اور نہ ہی کھانسیں،عام سڑکوں پر نہ ہی بلغم پھینکیں اور نہ ہی ناک صاف کریں اور جب بھی پاخانہ یا پیشاپ کرکے آئیں تواپنے ہاتھوں کو خوب اچھی طرح صاف کرلیں اور کھانا کھانے سے پہلے ابھی اپنے برتنوں اور ہاتھوں کو خوب اچھی طرح دھولیں اور جہاں کھانے پینے کی اشیا بڑی ہوں اس مقام کے اردگرد کی ہوا کو گردوغبار سے پاک رکھنے کی کوشش کریں تو ہم اپنے آپ کو بہت سی بیماریوں سے بچاسکتے ہیں۔ ذرات اور فطرات کے علاوہ جراثیم کے پھیلنے کے ذرائع اور بھی ہیں جن سے آپنے آپ کو محفوظ کیا جاسکتاہے اس سلسلے میں ہمارے سب سے بڑے دشمن مکھیاں اور چوہے ہیں جو غلاظت کو ہماری کھانے پینے کی اشیا تک پہنچادیتے ہیں اس لیے کھانے پینے کی اشیا تک پہنچادیتے ہیں اس لیے کھانے پینے کی چیزوں کو ان سے پوری طرح محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک کا گزر ان پرسے ہوجائے تو وہ استعمال نہ کریں یا استعمال کرنے سے پہلے ان کو اچھی طرح دھو کر ابالیں خواہ وہ کھانے پینے کے برتن ہی کیوں نہ ہوں نہ صرف یہ بلکہ کسی جانور کو ان کے پاس پھٹکنے بھی نہ دیں خواہ وہ پالتو ہی کیو ں نہ ہوں۔ چوٹ ضرب یا زخم آنے سے بھی یہ جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں مثلاً چلتے چلتے آپ کے پاؤں میں کاٹنا کیل یا روڑا چبھ گیا چونکہ ان پر اکثر غلاظت لگی ہوتی ہیں اس لیے ان کے پیدا کردہ زخم کے راستے جراثیم جسم میں داخل ہوجاتے ہیں اس لیے جب کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے تو فوراً اس پر ٹنکچر آئیوڈین لگادیں تاکہ تمام جراثیم مردہ ہوجائیں یا اس ہر پسی ہوئی ہلدی چھڑک دیں یا کسی جراثیم کش دوا سے دھوکر اس پر اس قسم کی کوئی دوا لگادیں،مثلاً سلفانومائیڈ پوڈر وغیرہ،تاکہ یہ جراثیم وہیں بلاک ہوجائیں اور جسم کے اندر داخل نہ ہونے پائیں ایک خاص قسم کے جراثیم سڑکوں کے کوڑا کرکٹ میں بالخصوص جس میں گوبر ملا ہوا ہو اس کے اندر پائے جاتے ہیں یہ بڑے موذی اور خطرناک ہوتے ہیں اور ان سے مرض کزاز لاحق ہوجاتا ہے اس مرض میں تمام جسم اکثر اکڑ کر تختے کی مانند سخت ہوجاتا ہے اور بے حد تکلیف کا باث ہوتا ہے یہ مرض اکثر مہلک ثابت ہوتاہے اور ویسے بھی اس کا علاج بڑا مشکل ہے یہ مرض بالعموم جبڑے سے شروع ہوتا ہے اور منہ بڑے زور سے بند ہوجاتا ہے ،پھر تھوڑی دیر کے لیے کھلنے کے بعد دوبارہ بڑی سختی سے بند ہوجاتا ہے اورجب بھی اسے جبراً کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ اور زیادہ سختی سے بند ہوجاتا ہے اس کے بعد تشنج کے دورے پڑنے لگتے ہیں اور بالآخر مریض ہلاک ہوجاتے ہیں ایسے مریض کو فوراً ہسپتال پہنچا دینا چاہیے کیونکہ اس کا علاج گھر پرنہیں ہوسکتا معلوم ہوگیا ہوگا کہ گندی سڑکوں پر آئے ہوئے زخم کبھی بھی معمولی نہ سمجھیں،بالخصوص شہر کی ان سڑکوں پر جہاں مویشی آتے جاتے ہوں یا گھوڑے خچر وغیرہ لید کرتے ہیں ایسے زخموں پر فوراً ٹنکچر آئیوڈین یا اس قسم کی کوئی دوسری دوا لگا دینی چاہیے اور کسی ماہر سے مشورہ کریں۔ بعض جراثیم اس پانی میں داخل ہوجاتے ہیں جسے ہم پیتے ہیں یا جس سے کھانے پینے کے برتن دھوئے جاتے ہیں پانی کے ہمراہ یہ ہمارے جسم کے اندر داخل ہوجاتے ہیں اور مرض پیدا کرتے ہیں ،چنانچہ ہیضہ اور تپ محرقہ جیسی مشہور بیماریاں اس طرح لاحق ہوتی ہیں تپ محرقہ کے مریض کے پاخانے میں بھی اس مرض کے جراثیم پائے جاتے ہیں اور استنجا کرنے کے بعد یہ جراثیم مریض کے ہاتھوں پر لگے رہ جاتے ہیں اگر پاخانہ پھرنے کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو اور بالخصوص ناخنوں کو اچھی طرح صاف نہ کریں تو اس کے ہاتھوں سے برتنوں پر بھی جراثیم لگ جاتے ہیں اور جب تندرست آدمی ان برتنوں کو استعمال کرتا ہے تو یہ جراثیم اس کے جسم میں چلے جاتے ہیں اور مرض پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں،دق وسل ایک مشہور مرض ہے جو بالکل اسی طریقے پر دودھ کے ذریعے لاحق ہوجاتا ہے ان جراثیم کی ایک قسم ایسی بھی ہوتی ہے جو مویشی کے دودھ کے اندر پائی جاتی ہیں اس لیے کچا دودھ کبھی نہیں پینا چاہیے اگر کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والا دکاندار اس مرض میں مبتلا ہوگا وہ بھی اس مرض کو پھیلانے کا باعث ہوگا۔جراثیم بھی جاند ار ہوتے ہیں اس لیے ان کے زندہ رہنے اور پھیلنے کے لیے ارد گرد کے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہوتا ہے اور اس کی چند شرائط ہیں چنانچہ انہیں اپنی زندگی اور نشوونما کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہیں جسے وہ فضلات اور گلی سڑی چیزوں سے حاصل کرتے ہیں ان کو زندہ رہنے کے لیے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہیں اور یہ درجہ حرارت انسانی جسم کے درجہ حرارت کے تقریباً برابر ہونا چاہیے ان کے لیے رطوبت یا نمی کی بھی ضرورت ہوگی اور ان کی کثیر تعداد کے لیے اکسیجن کی بھی یہ دونوں چیزیں وہ ہوا سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ ان کی کچھ تعداد ایسی بھی ہوتی ہیں جو بہت کم درجہ اکسیجن یا اس کے بغیر بھی بہت اچھی طرح نشوونما پاسکتے ہیں مثلاً کزاز کے جراثیم۔ چنانچہ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں کہ اگر ہم یہ ماحول پیدا نہ ہونے دیں یا اس قسم کے ماحول کو بدل ڈالیں تو جراثیم کی نشوونما کو روکا جاسکتا ہے،علاوہ ازیں مناسب تدابیر اختیار کرنے یعنی صفائی کا خیال رکھنے سے ہم کھانے پینے کی اشیا کو ان کے پھیلانے کا ذریعہ بننے سے بھی روک سکتے ہیں۔پانی اور کھانے پینے کی اشیاء کو اُبالنے سے ان کے جراثیم کو ہلاک کیا جاسکتا ہے پانی کب تک اُبالا جائے؟یہ وقفہ تین منٹ سے آدھ گھنٹے تک ہونا چاہیے اور اس وقفے کا انحصار چیز کی ماہیت اور ن جراثیم پر ہوتا ہے جنہیں ہلاک کرنے کا ارادہ ہو،جراثیم جسم میں داخل ہونے کے لیے یا تو گلے کی جھلی کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں جیسا کہ مریض خناق میں ہوتا ہے یا انتڑیوں کی اندرونی سطح اور جو جھلی لگی ہوتی ہیں اس پر چمٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے ہوا کے ساتھ پھیپھڑوں کے اندر اور انتڑیوں سے خوراک کے ساتھ یہ جراثیم اور ان کی پیدا کردہ زہر تمام جسم میں چلا جاتا ہے ،جب جلد پر کہیں زخم آجائے خواہ وہ صرف چھل ہی گئی ہو تو اس راستے سے بھی جسم کے اندر یہ جراثیم داخل ہوجاتے ہیں سب سے زیادہ آسان اور کھلے ہوئے راستے تو ناک اور منہ ہیں۔آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ میلے کچیلے اور صاف ستھرا نہ رہنے سے جراثیم کس قدر جلدی نشوونما پانے لگتے ہیں اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگیا کہ دوسرے لوگوں کے استعمال شدہ صابن کپڑے،تولیے،رومال دانت صاف کرنے والے برش یا مسواک اور نہانے دھونے کی دیگر اشیا اپنے استعمال میں نہ لائی جائیں بالخصوص ان لوگوں کی جو حال ہی میں کسی بیماری سے صحت یاب ہوئے ہوں نیز اپنے ہاتھوں کو جہاں تک ہو صاف رکھیں اور کھانے سے پہلے ان کو ضرور اچھی طرح دھولیا کریں،تیسرے وہی کھانا دودھ اور پانی استعمال کریں جس کے متعلق آپ کو یقین ہوکہ صاف ستھرا ہوگا اورمنہ کے اندر سوائے کھانے پینے کی اشیا کے اور کچھ نہ ڈالیں چوتھے یہ کہ اپنی جلد کو صابن اور تازہ پانی سے نہا کر صاف رکھیں اور جب کہیں زخم آجائے خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اس پر کوئی جراثیم کش دوا لگادیا کریں،پانچویں اپنے گھروں سے مچھروں ،مکھیوں اور چوہوں کو دور رکھنے کی کوشش کریں اور اخیر میں اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب یہ جراثیم جسم کے اندر داخل ہوجاتے ہیں تو جسم کی قوت مدافعت ان کو ہلاک کرنے کے لیے فوراً حرکت میں آجاتی ہیں اس لیے مناسب غذا صاف ہوا ورزش نیند اور آرام سے جسم کی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ہمارے ملک میں متعدد امراض اکثر سال کے دو حصوں میں پھیلتے ہیں ایک تو برسات کے موسم میں جب اسہال ہیضہ تپ محروقہ اور ملیریاک بخار عام ہوجاتے ہیں اور دوسرے وہ زمانہ جب سردیوں کا موسم ختم ہونے کو ہو ۔اسی وقت نمونیا کھانسی زکام خسرہ خناق اور دق وسل کے امراض عام دیکھے جاتے ہیں۔اس سے یہ نہ سمجھے کہ مرض دوسرے وقتوں میں نہیں ہوتے بلکہ محض یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ان وقتوں میں لوگوں کی بہت زیادہ تعداد ان امراض میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ان متعددی امراض میں سے بعض بچوں کے امراض کہلاتے ہیں مثلاً خسرہ،گلسوئے لاکڑا کاکڑا،کالی کھانسی وغیرہ اس لیے کہ یہ اکثر بچوں میں دیکھے جاتے ہیں ان امراض کے متعلق بھی کچھ غلط خیالات پھیلے ہوئے ہیں۔مثلاً یہ کہ امراض خود بخود فع ہوجاتے ہیں اور ان سے کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچتا دوسرے یہ کہ ان کا علاج نہیں کرانا چاہیے حالانکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر آرام آجانے کے بعد مریض کبھی بھی اپنی اصل حالت میں نہیں آتا کیونکہ کسی نہ کسی عضو میں کوئی نہ کوئی نقص مستقل طور پر رہ جاتا ہے جس کا مداوا مشکل ہوجاتا ہے،مثلاً خسرہ سے آنکھ میں پھولا پڑجاتا ہے یاکان میں پیپ بڑھ جاتی ہیں،گلسوؤں اورخناق سے قلب اور گردے بیمار ہوجاتے ہیں اس لیے ان امراض میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے اور کسی ماہر کے مشورے کے مطابق ان کا علاج ضرور کرانا چاہیے بڑوں میں یہ امراض کم دیکھے جاتے ہیں کیونکہ اکثر بچے میں وہ ان امراض میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں اور ان کے جسم میں ان امراض کے خلاف وقت مدافعت پیدا ہوچکی ہوتی ہیں،ان امراض کی ابتدائی علامات تقریباً یکساں ہوتی ہیں مثلاًسر درد،کسل منڈی،آنکھوں کا سرخ ہوجانا اور ان سے پانی بہنا،زکام،بخار،گلے میں درد وغیرہ اور یہ بیماریاں پھیلتی بھی ان رطوبات اور مواد سے ہیں جو آنکھ ناک یا گلے سے خارج ہوتا ہے خواہ وہ کھانسی سے نکلے یا چھینک وغیرہ سے،سکولوں میں ان علامات کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور جوں ہی کسی بچے میں دیکھی جائیں اسے سکول آنے سے منع کردیا جائے اور ڈاکٹر کی تصدیقی تحریر کے بغیر اسے سکول آنے نہ دیا جائے کہ اب بچہ بالکل تندرست ہیں۔
پس یہ سمجھے کہ ان بیماریوں کے پھیلنے کے اسباب یہ ہوسکتے ہیں:
۱۔جراثیم میں بیماری پیدا کرنے کی قوت زیادہ ہوجائے،
۲۔انسان کے جسم میں قوت مدافعت یعنی بیماری کا مقابلہ کرنے کی قوت کم ہوجائے یا وہ انسان کسی خاص بیماری میں مبتلا ہونے کی طرف قدرتی طور پر زیادہ رجحان رکھتا ہو۔
۳۔آبادی کے ماحول میں اس قسم کے تغیرات آجائیں جن سے جراثیم کی قوت بڑھ جائے یا انسانوں کی قوت مدافعت کم ہوجائے مثلاً موسمی تغیرات حد سے زیادہ بڑھ جائیں یا مستعد اور کمزور آدمی ایک مقام پر زیادہ تعداد میں جمع ہوجائیں سرد ملک کے رہنے والے باشندے گرم ملک میں جا آباد ہوں اور گرم ملک کے سرد ملک میں،
اسی اعتبار سے کسی ایک وبا کی قوت اس وقت کم ہوجاتی ہیں جب:
۱۔امراضی رجحان رکھنے والے آدمیوں کی تعداد کم ہوجائے۔
۲۔مرض پیدا کرنے والے جراثیم کی قوت گھٹ جائے۔
۳۔آبادی کی قوت مدافعت زیادہ ہوجائے۔
۴۔موسمی تغیرات ایسے ہوجائیں جن سے جراثیم کی قوت کم ہوجائے یا ختم ہوجائے آبادی کی قوت مدافعت بڑھ جائے۔
متعدی امراض اور وبا کی روک تھام میں انسانی کوششوں کو بھی بڑا دخل حاصل ہے مثلاً چیچک کی روک تھام کے لیے ٹیکے لگوانا پانی کو صاف ستھرا اور اُبال کر پینا دودھ کو اُبال کر پینا وغیرہ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے