Shehtoot Ke Faide - Article No. 2148

شہتوت کے فائدے - تحریر نمبر 2148

ہفتہ مئی

Shehtoot Ke Faide - Article No. 2148
شہتوت موسم گرما کا ایک چھوٹا سا،مگر نہایت خوش ذائقہ اور رسیلا پھل ہے۔یہ غالباً اس درخت کی پھلی ہے،جس طرح کیکر کی پھلی ہوتی ہے، لیکن کیکر کی پھلی کے برعکس یہ بہت ذائقے دار ہوتی ہے۔شہتوت کا درخت کافی بلند ہوتا ہے۔اس درخت پر پرندے بہت کثرت سے آتے ہیں۔اس پھل کی دو اقسام ہوتی ہیں:ایک سفید اور دوسری سیاہ۔طبی طور پر سیاہ شہتوت ہی کھایا جاتا ہے۔


جسم کے غیر ضروری مادے
شہتوت ملیّن پھل ہے،یعنی اس کے کھانے سے نرم اجابت ہوتی ہے۔جسم سے یہ فاسد اور غیر ضروری مادوں کو بڑی عمدگی کے ساتھ خارج کرتا ہے۔اسے کھانے سے جگر سے بھی فاسد مادے خارج ہو جاتے ہیں اور جگر کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔جلدی امراض،مثلاً دانوں اور پھوڑوں پھنسیوں میں یہ مفید ہوتا ہے۔

(جاری ہے)


منہ کے چھالے
شہتوت کے پتے منہ کے اندر ہونے والے زخموں اور آبلوں کے لئے فائدہ مند ہیں۔

عام طور پر موسم گرما میں منہ میں چھالے ہو جاتے ہیں۔ان چھالوں کو ختم کرنے کے لئے شہتوت کے پتوں کے جوشاندے سے غرغرے کرنا مفید تدبیر ہے۔
دماغی خشکی،جسمانی کمزوری
دماغ کی خشکی دور کرنے کے لئے شہتوت کا کھانا فائدہ مند ہے۔یہ دل و دماغ کو فرحت دیتا ہے اور انھیں پُرسکون کرکے ان کے افعال کو اعتدال پر لاتا ہے۔اس کے علاوہ شہتوت کھانے سے خون بھی خوب پیدا ہوتا ہے اور اگر کچھ عرصے مستقبل کھا لیا جائے تو جسمانی کمزوری دور ہو کر بدن میں طاقت آجاتی ہے۔

شہتوت کھانے سے بھوک بھی کھل کر لگتی ہے۔
حلق کی شکایات
حلق کے ورم،گلے کے درد اور نزلے کی شکایت میں شہتوت خصوصیت سے مفید ہے۔ان شکایات کے لئے اس کا رس پیا جاتا ہے۔گرمی سے حلق میں ورم ہو گیا ہو تو اس پھل کا رس پینے سے ورم بہت جلدی ختم ہو جاتا ہے۔گلے کی شکایات کے لئے سیاہ شہتوت کا شربت تیار کیا جاتا ہے اور دوا خانوں میں شربت توت سیاہ کے نام سے دستیاب ہوتا ہے۔


بے چینی اور گھبراہٹ
تازہ شہتوت کھانے سے بے چینی،گھبراہٹ اور اشتعال کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔یہ پھل مریض کے اعصاب پر اثر انداز ہوتے ہوئے سکون کا احساس پیدا کرتا ہے اور دل و دماغ میں تروتازگی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
پتوں پر ریشم
شہتوت کے پتوں پر ریشم کے کیڑوں کو پالا جاتا ہے۔ریشم کا کیڑا شہتوت کے پتوں کو بہت پسند کرتا ہے۔

یہ کیڑا ان پتوں پر اپنے لعاب سے جالا بناتا ہے۔یہ جالا ریشم کے تاروں کا ہوتا ہے۔ریشم کا کیڑا اپنے لعاب سے تیار کیے ہوئے تاروں کو اپنے چاروں طرف لپیٹتا جاتا ہے،یہاں تک کہ وہ اس کے اندر بند ہو کر رہ جاتا ہے۔بعد میں ریشم کے کوئے (ریشم کے کیڑے کا بنایا ہوا خول) کو اُبال کر ان سے ریشم تیار کیا جاتا ہے،لیکن اطبا ان کویوں کو چیر کر ریشم کا مردہ کیڑا باہر نکال دیتے ہیں اور باقی کویا دواؤں میں استعمال کرتے ہیں۔اس کا ایک مشہور مرکب خمیرہ ابریشم ہے۔گویا ابریشم بھی شہتوت کا تحفہ ہے۔گرمی کے موسم میں دوسرے پھلوں کے ساتھ شہتوت بھی کھاتے رہیے۔یہ صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-08

Your Thoughts and Comments