بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتاسڑرابیری

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسڑرابیری
خوش ذائقہ اور صحت افزاپھل۔۔۔ خوش ذائقہ اسٹرابیری اپنے غذائی اجزاء کی کثرت کی وجہ سے کھانے والوں کو توانا اور صحت مند رکھتی ہے۔حراروں کی کم مقدار کے باعث اسے کھانے والے دبلے پتلے رہتے ہیں۔ایک پیالی اسٹرابیری میں حیاتین 85گرام اور حرارے صرف 45ہوتے ہیں
شہریار:
اسٹرابیری کا لاطینی نام Fragaria Anamassa ہے۔یہ 200قبل مسیح میں روم میں اگائی گئی تھی جبکہ حالیہ تاریخ میں فرانس پہلا ملک تھا جس نے بعد ازقبل مسیح1750میں اسٹرابیری کی فصل کاشت کی تھی۔آج کل اسٹرابیری دنیا بھر کے متعدل درجہ حرارت رکھنے والے خطوں میں بکثرت کاشت کی جاتی ہے۔اسٹرابیری اینٹی اوکس ڈینٹ حاصل کرنے والے ذرائع میں سر فہرست ہے یہی وجہ ہے کہ اسٹرابیری بڑے پیمانے پر کھانے پینے کی اشیاء جیسے کہ آئس کریم جام جیلی ،سکوائش،مٹھائیوں چاکلیٹ حتی کہ ادویات میں بھی اسٹرابیری کے خوشنمارنگ اور ذائقے کو شامل کیا جاتا ہے۔
خوش ذائقہ اسٹرابیری اپنے غذائی اجزاء کی کثرت کی وجہ سے کھانے والوں کو توانا اور صحت مند رکھتی ہے۔حراروں کی کم مقدار کے باعث اسے کھانے والے دبلے پتلے رہتے ہیں۔ایک پیالی اسٹرابیری میں حیاتین 85گرام اور حرارے صرف 45ہوتے ہیں۔اسٹرابیری میں موجود حیاتین ’ج“ کولیسٹرول کے نقصانات سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ خون کی گاڑھی چکنائیوں کی سطح کم کر کے خون کو پتلا کرتا ہے۔اسٹرابیری تھکن دور کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔اسٹرابیری میں فلیوونائڈز بھی ہوتے ہیں جن کے غذامیں فراہم ہونے سے بعض پرانی بیماریاں جن میں سرطان قلب کے امراض ہائی بلڈپریشر اور ہڈیوں کی کمزوری شامل ہے دور ہوسکتی ہے۔اسٹرابیری میں موجود سلیکون جسم کے ریشوں قلب اور شریانوں کی صحت کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔اس میں موجود یورن خواتین کے جسم میں نسوانی ہارمون کی سطح بڑھا دیتا ہے جس سے خواتین سن یاس کامقابلہ کرتی ہیں۔
اسٹرابیری دانتوں کی صحت کے لئے بھی مفید ہوتی ہے اس کا ٹکڑا دانتوں مسورھوں پر چند منٹ ملنے سے ان پر جما گاڑھا میل (پلک) دور ہوجاتا ہے۔اسے استعمال کرنے سے بھوک بڑھتی ہے اور پھیپھڑوں میں نمی پیدا ہونے سے خشک کھانسی دور ہو جاتی ہے۔اس سے پیشاپ میں جلن سے بھی نجات مل جاتی ہے۔اسٹرابیری میں بڑھاپے کا مقابلہ کرنے والے 20مختلف اجزاء ہوتے ہیں جن میں جست (زنک) سلیسیئم،کرومیئم اور میکنیزیم قابل ذکر ہیں۔اسٹرابیری میں کیلشیم بھی پایا جاتا ہے اور غذائی ریشہ بھی ہوتا ہے جس سے خون میں کولیسٹرول کے علاوہ شکر کی سطح کم ہوجاتی ہے۔اسٹرابیری جگر کے لئے بھی مفید ہوتی ہے۔
ایک اسٹرابیری میں کم سے کم13فیصد آرڈی اے ڈائٹری فائبرموجود ہوتے ہیں۔یہ نظام انہضام کے لئے بے حد مفید ہے۔اسکے ساتھ ہی یہ بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدددیتی ہے۔اسٹرابیری کیمیکل کمپاؤنڈفینول کا مجموعہ بھی رکھتی ہے جوکہ اینٹی آکسی ڈینٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔یہ اینٹی آکسی ڈینٹ آپکے جسم میں یورک ایسڈکی مقدار کو زیادہ بننے نہیں دیتی جس سے آپ بھوک محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے افراد جنہیں بھوک نہ لگتی ہو وہ اسٹرابیری کا زیادہ استعمال کریں۔اسٹرابیری میں موجود اینٹی انفلامیٹری کے ذرات آپکو ہڈیوں کی بیماری سے دور رکھتے ہیں جیسے آسٹیوآرتھرائٹس ارتھروسیکلروسس وغیرہ۔وٹامن سی کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اسٹرابیری میں بہت سی بیماریوں کے لئے شفارکھتی ہوئی۔ اینٹی آکسی ڈینٹ اور اینٹی فلامیٹری کی موجودگی کینسر کے خلاف قوت مدافعت پیداکرتی ہے۔روزانہ 3سے4اسٹرابیری کھانے سے انسان کی نظر کمزور ہونے سے بچی رہتی ہے۔اسٹرابیری میں موجود پوٹاشیم وٹامن کے اور میگنیشیم ہڈیوں کو تندرست رکھنے میں بے حد اہم کردارادا کرتے ہیں۔اسٹرابیری جلد دوست پھل بھی کہلاتا ہے کیونکہ اسے کھاتے رہنے سے جلد نکھر جاتی ہے۔اس میں جلد کو سکڑانے کی صلاحیت ہوتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے رس یا گودے کو خاص طور پر چکنی جگہ پر لگایا جائے اس سے جلد کی چکنائی کم ہوگی اور نکھار پیداہوجائے گا۔اس کو کھیرے کی طرح پھولی ہوئی آنکھوں پر لگانے سے سوجن دور ہو جاتی ہے۔یہ پھل مقوی بدن ہے اور خون پیدا کرتا ہے۔نظام ہضم میں زودہضم ہے۔جسم میں بھاری پن کو پیدا نہیں ہونے دیتا۔اسہال کوروک دیتا ہے آنتوں کی سوزش میں مفید ہے۔شوگر کے لئے بھی بڑا مفید پایا گیا ہے۔اس کے پتوں کا جوشاندہ یاقہوہ جوڑوں کے درداور پیچش کے مریضوں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔احتیاطی تدابیر گردے پتے اور جگر کے پچیدہ امراض کی صورت میں اسڑابریز کھانے سے پرہیز کیا جائے

(0) ووٹ وصول ہوئے