Sweet Super Food Chiku

سوئٹ سپر فوڈ چیکو

جمعہ جولائی

Sweet Super Food Chiku
چیکو کا نباتاتی نام مانی کا رازاپوٹا ہے مگر پاکستان میں ہم اسے چیکوپکارتے ہیں اور غذائی ماہرین کے مطابق یہ سوئٹ سپر فوڈ ہے۔نرم وملائم ،خاکی وردی پہنے یہ مٹھاس بھرا چیکو بچوں اور بڑوں دونوں کا پسندیدہ پھل ہے ۔باریک سا چھلکا ہاتھ سے چھیلئے یا چاقو سے کاٹئے اور کچھ لوگ تو بنا کاٹے،صرف اسے دھو کر چھلکے سمیت ہی کھا لیتے ہیں۔زردی مائل بھورایہ پھل مئی سے اکتوبر تک مارکیٹ میں آتا ہے ۔

لیکن اس کے ذائقے کی آئسکریم آپ سال بھر ذوق وشوق سے کھاسکتے ہیں ۔اس کی دستیابی میں رخنہ نہیں پڑتا۔ماہرین غذائیت اس پھل کے چار اہم فوائد گنواتے ہیں۔
یہ وٹامنز(حیاتین) کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے
اگر یوں کہا جائے کہ چیکو وٹامنز کا کاک ٹیل ہے تو غلط نہیں ہو گا۔

(جاری ہے)

اس پھل میں وٹامن Aموجود ہے جو ہماری بینائی درست رکھنے میں معاون ہے۔

بڑھتی ہوئی عمر میں قریب اور دور کی نظر دھندلی ہوتی ہے ۔چشمے کا نمبر بڑھتا ہے مگر وٹامن Aاستعمال کرنے والوں کو یہ مسائل اتنی شدت سے متاثر نہیں کرتے اور موتیا بھی تاخیر سے اترتا ہے ۔آنکھوں میں کھجلی ہو،تیزروشنی میں آنکھیں چند ھیا جاتی ہوں، گردوں کی پتھری ہو،آپ کی جلد خشک اور سخت ہو جائے یا الرجی کی بیماری ہو وٹامنAپر مشتمل غذائیں ان تکالیف سے نجات دے سکتی ہیں۔

یہ سب علامتیں جسم میں وٹامن Aکی کمی کی نشاندہی کرتی ہیں۔
وٹامنCقوت مدافعت میں اضافہ کرتاہے۔یہ وٹامن بہت حساس اور کمزور ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ زیادہ تروٹامنCکھانے پکانے کے عمل کے دوران ضائع ہوجاتا ہے ۔چیکو کو بہت دیر تک پانی میں بھگو کر رکھنے سے یہ وٹامن ضائع ہوجاتا ہے اور چھری یا چاقو کے استعمال سے بھی یہ ضائع ہوجاتا ہے لہٰذاچیکوجب کھائیں تو نرم ہاتھوں سے دھو کر ہاتھوں ہی کی مدد سے تراش کر کھالیجئے۔

اسے غلطی سے دھوپ میں بھی نہ رکھئے یہ وٹامن روشنی اور حرارت میں بھی ناکارہ ہوجاتا ہے ۔چیکو نظام ہاضمہ کو بحال رکھتاہے۔
وٹامنEخون بنانے اور اس کے بہاؤ میں اہم کردار ادا کرتاہے۔خون کی شریانوں کو مضبوط کرتا ہے اور گردوں میں انفیکشن کی تکلیف Nefritisکے لئے بے حد مفید ہے ۔چیکو میں چونکہ وٹامنEموجود ہے لہٰذا آپ دل کے اور کینسر جیسے مہلک امراض سے حتی الامکان بچاؤ کر سکتے ہیں ۔

چیکو میں ایک معدنی جزوAlpha-Tocopherolموجود ہے جو بڑی آنت کے کینسر اور امراض قلب سے بچاتا ہے ۔غرضیکہ انہی تینوں وٹامنز کی وجہ سے اسے وٹامنز کا کاک ٹیل کہا جاتاہے۔
یہ غذائی فائبر کا خزانہ ہے
چیکو میں فائبر کی موجودگی قضائے حاجت کے عمل کو آسان بناتی ہے۔غذائی فائبرز کی وجہ سے آنتوں میں بچی کھچی خوراک زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکتی جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آنتوں پر دباؤ نہیں پڑتا خاص کر اپنڈکس کے مرض میں آنتوں پر اسی دباؤ سے بچنے کی سخت تاکید کی جاتی ہے۔


چیکو ترش پھل نہیں لہٰذانازک معدے پر بھی خوشگوار تاثر دیتا ہے۔مانع سوزش اجزاء پر مشتمل ہے۔دو چیکو کھالینے سے پیٹ بھرا ہوا محسوس اس لئے ہوتا ہے کیونکہ یہ فائبر سے بھر پور ہے ۔بھوک مٹاتا ہے اور تادیر مطمئن رکھتا ہے۔
یہ معدنیات خصوصاً کیلشےئم سے بھر پور ہے
جوڑوں کے درد،اینٹھن اور دباؤ جیسی کیفیت میں کار آمد پھل ہے ۔

یادرہے کہ معدنی ذرات انسانی جسم کو موٹاپے کی بیماری ،بلڈ پریشر ،ذیابیطس،وقت سے پہلے بڑھاپا،جنسی کمزوری ،خون کی کمی اور دل کے امراض وغیرہ سے بچاتے ہیں۔لہٰذا چیکو میں کاپر،کیلشےئم ،فاسفورس کی وسیع تر مقدارکی موجودگی مندرجہ بالا ان تمام عارضوں میں افاقہ دیتا ہے ۔یہ تینوں اجزاء ہڈیوں کی ساخت بہتر بناتے ہیں ۔آرتھر ائٹس کے مریضوں کے لئے تریاق پھل ہے۔


یہ فولاد سے مالا مال ہے
آپ نے میٹھا چیکو جب جب کھایا ہو گا خود کو توانا محسوس کیا ہوگا۔فولاد کی موجودگی کے باعث یہ دماغ کو فوری طور پر آکسیجن بہم پہنچاتا ہے ۔عام طور پر ایک مانع جسم میں 5گرام آئرن موجود ہوتاہے جو مکمل طور پر پروٹین سے منسلک ہے۔آئرن ہیموگلوبن کے ساتھ مل کر خون بناتا ہے۔ہیمو گلوبن آکسیجن کی بہترین افزائش کرتا ہے ۔

خیال رہے کہ مرد کاجسم روزانہ ایک ملی گرام فولاد ضائع کرتا ہے جبکہ عورت کا جسم ایام کے دوران 15ملی گرام فولاد ضائع کر دیتا ہے۔
آئرن بھی معدنی دھات ہے خوراک کے ذریعے ہم جو آئرن کھاتے ہیں اس کا صرف 8فیصد حصہ ہماری آنتوں میں جذب ہوتا ہے ۔خوش نصیبی سے چیکو میں آئرن وٹامن Cکے ساتھ بہترین امتزاج پیش کرتا ہے ماہرین غذائیت کے مطابق آئرن وٹامنC کے ساتھ لیا جانا ازبس ضروری ہے تاکہ یہ آنتوں میں بہ احسن طریقے سے جذب ہو ۔

جسم میں آئرن کی کمی کی علامتوں میں سر درد رہنا ،تھکاوٹ کا احساس ،دل کا تیزی سے دھڑکنا اور سانس کا جلدی پھول جانا شامل ہوتاہے۔اگر سفید چینی سے بنی ڈشز کے بجائے مٹھاس کی طلب تازہ پھلوں اور چیکو سے پوری کی جائے تو اسے مناسب مقدار میں کھا لینے سے طمانیت ہوجاتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-19

Your Thoughts and Comments